உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مندر کے سالانہ میلوں میں مسلم تاجروں کے بائیکاٹ پر مولانا محمد سیفی نے کی سخت مذمت

    Youtube Video

    ساحلی شہر منگلورو کے دو مندروں منگلا دیوی مندر اور بپا ناڈو درگا پرمیشوری مندر کے سالانہ میلوں میں مسلم تاجروں کو دکانیں لگانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ حجاب پر کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کے بعد مبینہ طور پرہندو تنظیموں کے دباو میں مندرکمیٹیوں نے یہ فیصلہ لیا ہے۔

    • Share this:
      کرناٹک کے ساحلی علاقوں میں ہونے والے میلوں میں مسلم تاجروں کے بائیکاٹ کو کرناٹک وقف بورڈ کے چیئرمین مولانا این کے محمدسیفی نے سنگین معاملہ قراردیا ہے۔ مولانا این کے محمدسیفی کے مطابق ملک کے بھائی چارہ کو بنائے رکھنے کیلئے اس طرح کے اقدامات سے گریز کرنا چاہیئے۔ ساحلی شہر منگلورو کے دو مندروں منگلا دیوی مندر اور بپا ناڈو درگا پرمیشوری مندر کے سالانہ میلوں میں مسلم تاجروں کو دکانیں لگانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ حجاب پر کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کے بعد مبینہ طور پرہندو تنظیموں کے دباو میں مندرکمیٹیوں نے یہ فیصلہ لیا ہے۔
      دراصل کرناٹک کے ساحلی علاقوں میں ہونے والے میلوں میں مسلم تاجروں کا بائیکاٹ کرنے کا سنگین معاملہ پیش آیا ہے۔ ساحلی شہر منگلورو کے دو مندروں کے میلوں میں مسلم تاجروں کا بائیکاٹ کرنے کا معاملہ پیش آیا ہے۔ منگلا دیوی مندر اور بپا ناڈو درگا پرمیشوری مندر کے سالانہ میلوں میں مسلم تاجروں کو دکانیں لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس سلسلے میں مندروں کے باہر بینر لگائے گئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ غیر ہندوؤں کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایک بینر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ملک کے دستور کی مخالفت کرنے والے، گاو کشی کرنے والوں کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ حجاب پر کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے حال ہی میں مسلم تنظیموں نے بند منایا تھا۔

      کہا جارہا ہے کہ اس بند پر بجرنگ دل اور دیگر ہندو تنظیموں نے انتقامی قدم اٹھاتے ہوئے مسلم تاجروں کے بائیکاٹ کی مہم شروع کی ہے۔ اس سلسلے میں ہندو تنظیمیں مندروں کی انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ نہ صرف ساحلی کرناٹک بلکہ شیموگہ میں بھی اسطرح کا ایک واقعہ پیش آیا ہے۔ شیموگہ کے ماری کنمبا مندر کے میلے میں ہر سال دکانوں کا ٹینڈر ایک غیر ہندو کے نام ہوا کرتا تھا لیکن بجرنگ دل کے لیڈر نے غیر ہندوؤں کو ٹینڈر دینے کی مخالفت کرتے ہوئے خود نو لاکھ ایک ہزار روپئے دے کر ٹینڈر اپنے نام کرلیا ہے۔

      مسلسل دوسرے دن بڑھیںPetrol Diesel کی قیمتیں، جانئے اب کتنا ہوا مہنگا ہو گیا تیل

      حجاب تنازعہ پر کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ساحلی کرناٹک میں ایک نیا تنازع پیدا کردیا ہے۔ساحلی کرناٹک میں مسلمان دکانداروں پر مقامی سالانہ میلوں میں پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ان میلوں کی آرگنائزنگ کمیٹیوں نے مبینہ طور پر ہندو گروپوں کی طرف سے مسلمانوں کی دکانوں کو اجازت نہیں دیئے جانے کی دھمکی کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ کرناٹک ہائی کورٹ کی جانب سے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعدبہت سے مسلمان دکانداروں نے احتجاج کے طور پر اپنی دکانوں کو بند رکھا تھا۔



      ریاست کے ساحلی علاقے میں مندروں کے سالانہ تہوار، جو عام طور پر اپریل۔مئی میں منعقد ہوتے ہیں، اس میں کروڑوں کی آمدنی ہوتی ہے۔ بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ کشیدگی کے باوجود، ماضی میں اس طرح کے تہواروں نے شاذ و نادر ہی کسی کمیونٹی کے کاروبار کو نقصان پہنچایا تھا۔ لیکن حجاب پر ہائی کورٹ کے فیصلے پر مسلمانوں کی طرف سے بلائے گئے بند کے بعد، خطے کے بہت سے مندر اپنے تہواروں میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگارہے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: