ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کورونا متاثر مریض کی لاش کا کیا جاسکتا ہے آخری دیدار، کرناٹک حکومت نے جاری کی نئی گائیڈلائنس

نئی گائیڈ لائنس میں لاشوں کی بے حرمتی کو روکنے کیلئے حکومت نے خاص توجہ دی ہے۔ نئی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اسپتال والے باعزت طریقہ سے لاش کو ان کے لواحقین کے حوالے کریں ۔

  • Share this:
کورونا متاثر مریض کی لاش کا کیا جاسکتا ہے آخری دیدار، کرناٹک حکومت نے جاری کی نئی گائیڈلائنس
کورونا متاثر مریض کی لاش کا کیا جاسکتا ہے آخری دیدار، کرناٹک حکومت نے جاری کی نئی گائیڈلائنس

کرناٹک میں کورونا کی لاشوں کے متعلق نئی گائیڈ لائنس جاری کی گئی ہیں ۔ محمکہ صحت کی جانب سے جاری کی گئی گائیڈ لائنس کے مطابق کورونا وائرس سے مرنے والوں کی لاش اب ان کے رشتہ داروں کے حوالے کی جاسکتی ہے ۔ اسپتال کی جانب سے حفاظتی انتظامات کے ساتھ کورونا متاثر مریض کی لاش رشتہ داروں کے حوالے کی جاسکتی ہے ۔ رشتہ دار تمام تر احتیاطی تدابیر کے ساتھ اپنے اپنے طریقوں کے مطابق کورونا لاش کی آخری رسومات انجام دے سکتے ہیں ۔ نئے رہنما خطوط کے مطابق دور سے لاش کا آخری دیدار کرنے کی اجازت ہوگی ۔ لاش کی تھیلی کو گردن تک کھولتے ہوئے آخری دیدار کیا جاسکتا ہے۔ لاش کی پوری تھیلی کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ لاش کو چھونے اور غسل دینے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ تدفین یا آخری رسومات میں 20 سے زائد لوگ شرکت نہیں کرسکتے۔ ( ابتداء سے ہی یہ شرائط موجود ہیں) ۔


نئی گائیڈ لائنس میں لاشوں کی بے حرمتی کو روکنے کیلئے حکومت نے خاص توجہ دی ہے۔ نئی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اسپتال والے باعزت طریقہ سے لاش کو ان کے لواحقین کے حوالے کریں ۔ اسپتال والے مرحوم کے رشتہ داروں سے مل کر بات چیت کریں ۔ مرحوم کے رشتہ داروں کے جذبات کا خیال رکھیں ۔ کورونا مرض سے مرنے والوں کی لاش کے ساتھ کیا کیا جائے اور کیا نہیں کرنا چاہئے ، اس کی پوری جانکاری اسپتال والے مرحومین کے رشتہ داروں کو فراہم کریں ۔ قبرستان یا سمشان گھاٹ میں پی پی ای کٹ ، سنیٹائزر اور دیگر احتیاطی تدابیر کی شرط برقرار رہے گی ۔ کورونا کی لاشوں کو حوالے کرنے ، قبرستان یا سمشان گھاٹ تک لے جانے کے وقت حفاظتی اور احتیاطی انتظامات کے متعلق شرائط برقرار رہیں گے ۔ اسپتال کے عملے ، ہیلتھ ورکرز ،  قبرستان یا سمشان گھاٹ کی انتظامیہ کی بھی ذمہ داریوں کے متعلق ازسر نو جاری گائیڈلائنس میں تفصیلات فراہم کی گئی ہیں ۔


واضح رہے کہ ریاست کرناٹک میں ابتدا میں کورونا کی لاشوں کے ساتھ بدسلوکی اور بے حرمتی کے افسوسناک واقعات پیش آئے تھے ۔ اس کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور دیگر حلقوں سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔ کورونا سے ہونے والی اموات میں اضافہ کے بعد ضلع کی  انتظامیہ نے مقامی این جی اوز کو تدفین اور آخری رسومات کی ذمہ داری سونپی تھی ۔ اب بھی یہ طریقہ کار جاری ہے ۔ ریاست بھر میں کئی این جی اوز رضاکارانہ طور پر کورونا کی لاشوں کی تدفین اور آخری رسومات کو انجام دینے کی ذمہ داری اپنے سر لئے ہوئے ہیں ۔ اس ضمن میں مسلم این جی اوز کا رول قابل ستائش رہاہے ۔


کرناٹک میں ابتدا میں کورونا کی لاشوں کے ساتھ بدسلوکی اور بے حرمتی کے افسوسناک واقعات پیش آئے تھے ۔
کرناٹک میں ابتدا میں کورونا کی لاشوں کے ساتھ بدسلوکی اور بے حرمتی کے افسوسناک واقعات پیش آئے تھے ۔


جماعت اسلامی ہند ، جمعیت علما ہند ، مرسی مشن اور دیگر مسلم تنظیمیں کورونا کی لاشوں کی تدفین کی ذمہ داری بخوبی طور پر انجام دیتی ہوئی آرہی ہیں ۔ ریاست میں ایسی کئی مثالیں پیش آئی ہیں ، جہاں مسلم تنظیموں نے ہندو اورعیسائی طبقہ کی کورونا لاشوں کی آخری رسومات میں مدد کی ہے۔ اور لاوارث لاشوں کو باعزت طریقہ دفنایا ہے ۔ بنگلورو میں کورونا سے انتقال کرجانے والوں کیلئے علاحدہ قبرستان بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں ۔

سابق ریاستی وزیر ضمیر احمد خان نے اس سلسلے میں حکومت سے نمائندگی کی ہے ۔ ٹمکور کے سماجی کارکن تاج الدین شریف نے کہا کہ حکومت نے تاخیر سے ہی صحیح اپنی آنکھیں کھولی ہیں ۔ کورونا کی لاشوں کے سلسلے میں نئی گائیڈلائنس جاری کی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے انتقال کرنے والوں کو باعزت طریقہ سے رخصت کرنے کا انتظام ہونا چاہئے اور یہی انسانیت کا تقاضہ ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 08, 2020 07:10 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading