உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیرلا سیلاب: ہزاروں لوگوں کو اب بھی محفوظ نکالے جانے کا ہے انتظار

    کیرلا سیلاب متاثرین کو اب بھی مدد کا انتظار۔

    کیرلا سیلاب متاثرین کو اب بھی مدد کا انتظار۔

    کیرلا سیلاب تباہی میں مرنے والوں کی تعداد 350 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ یہاں الپجھا، تریشوراوراینارکلم اضلاع کے کئی علاقوں میں اب بھی کئی لوگ اپنے گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    • Share this:
      کیرلا کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ہزاروں لوگ اب بھی محفوظ نکالے جانے کی امید لگائے ہوئے ہیں، جہاں اب تک مرنے والوں کی تعداد 350 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ یہاں الپجھا، تریشوراوراینارکلم اضلاع کے کئی علاقوں میں اب بھی کئی لوگ اپنے گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں ان کے پاس کھانے پانی کی کوئی سہولت نہیں ہے۔

      سرکاری اعدادوشمارکے مطابق اڈکوی ضلع میں سب سے زیادہ لوگوں کے مرنے کی خبریں آئی ہیں، جہاں اب تک 43 لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ وہیں ملپورم میں 28 اور تریشور میں 27 لوگوں کی موت کی خبرآئی ہے۔

      محصولات افسران کے مطابق الپجھا، ضلع کے چینگانور میں کم از کم 5000 لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ پوری ریاست کے راحت کیمپوں میں تقریباً 6 لاکھ لوگ موجود ہیں۔  پتن متٹا ضلع کے رننی میں راحت کیمپ میں موجود ایک خاتون نے کہا کہ "ہمارے لئے دوسری زندگی ہے۔ گزشتہ چاردنوں میں ہمارے پاس کوئی کھانا نہیں ہے اورچاروں طرف گلے تک پانی بھرا ہوا تھا"۔

      اینارکل کے پراورمیں 6 لوگوں کے مارے جانے کی خبرآئی، جہاں بدھ رات چرچ کا ایک حصہ گرگیا تھا۔ وہیں زندہ بچائے گئے ایک شخص نے غصہ ظاہرکرتے ہوئے ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ کم از کم 600 لوگ چرچ میں پھنسے ہوئے ہیں اوراب تک کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں پہنچا ہے۔ حالانکہ چرچ میں 6 لوگوں کے مارے جانے کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

      وزیرزراعت وی ایس سنیل کمارنے بتایا کہ تریشورضلع میں تقریباً دو لاکھ لوگ راحت کیمپ میں ہیں۔ کچھ راحت دیتے ہوئے کوچی نیول ہوائی اڈہ کل سے مسافرپروازوں کی آپریٹنگ شروع کرے گا۔ دوسری جانب ریلوے نے کم از کم 18 ٹرینیں منسوخ کردی ہیں اورآج کنیا کماری ممبئی سینٹرل ایکسپریس کو دوسرے راستے پرموڑ دیا ہے۔
      First published: