ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

خانقاہی نظام کو دوبارہ مضبوط و مستحکم بنایا جائے ، بنگلورو میں مشائخین کا اہم اجلاس

پیر طریقت سید عظمت اللہ مسکین سیلانی نے کہا کہ مشائخین اپنا استحصال ہونے نہ دیں۔ اپنی عظمت، مقام اور مرتبہ کی حفاظت کریں۔ اجلاس میں فیض اللہ بیگ جنیدی نے کہا کہ حضرت لکڑ شاہ رحمت اللہ علیہ کی درگاہ میں موجود خانقاہ شہر بنگلورو کی ایک قدیم خانقاہ ہے۔

  • Share this:
خانقاہی نظام کو دوبارہ مضبوط و مستحکم بنایا جائے ، بنگلورو میں مشائخین کا اہم اجلاس
خانقاہی نظام کو دوبارہ مضبوط و مستحکم بنایا جائے ، بنگلورو میں مشائخین کا اہم اجلاس

بنگلورو میں درگاہ حضرت لکڑ شاہ ولی رحمت اللہ علیہ کی خانقاہ میں مشائخین کرام کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں موجودہ دور میں خانقاہی نظام کی ضرورت، خانقاہوں کے ذریعہ نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت، ملک اور ملت کی ترقی میں مشائخین کا کردار، بعض موقعوں پر سیاسی فائدوں کیلئے مشائخین کا استعمال اور استحصال، وقف بورڈ اور وقف اداروں میں مشائخین کو نظر انداز کرنے کے معاملات، اس طرح کے کئی موضوعات پر کھل کر گفتگو ہوئی۔


خانقاہ حضرت لکڑ شاہ ولی کے سرپرست مولانا سید نعمت پیراں قادری کی صدارت میں یہ اہم اجلاس منعقد ہوا۔ پیر طریقت مولانا سید نعمت پیراں نے کہا کہ 12 سال قبل ان کے والد مرحوم مولانا شمس الحق قادری چشتی کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ اس وقت تمام مشائخین کرام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ کئی مشائخین عظام کو عہدے بھی دئے گئے لیکن چند وجوہات کی وجہ سے کمیٹی فعال نہ رہی۔ اب دوبارہ تمام مشائخین کو متحد کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مشائخین اور پیروں کو وقت ضرورت کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ انتخابات کے موقع پر، ووٹ کیلئے مشائخین کو یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد آپ کون، ہم کون کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ جب بھی کوئی قوم کا مسئلہ ہو تو مشائخین حکومت اور سیاسی لیڈروں سے رجوع ہوتے ہیں، لیکن اس وقت ان کی بات کو کوئی توجہ نہیں دیتا۔ مولانا سید نعمت پیراں نے کہا کہ تمام مشائخین کا آپس میں متحد، یکجٹ رہنا ضروری ہے تاکہ موجودہ مسایل کے حل کیلئے اور ملک و ملت کی ترقی اور رہنمائی کیلئے مشائخین اپنا اہم کردار ادا کرسکیں۔


پیر طریقت سید عظمت اللہ مسکین سیلانی نے کہا کہ مشائخین اپنا استحصال ہونے نہ دیں۔ اپنی عظمت، مقام اور مرتبہ کی حفاظت کریں۔ اجلاس میں فیض اللہ بیگ جنیدی نے کہا کہ حضرت لکڑ شاہ رحمت اللہ علیہ کی درگاہ میں موجود خانقاہ شہر بنگلورو کی ایک قدیم خانقاہ ہے۔ اس خانقاہ کے تحت مشائخین کی از سر نو کمیٹی تشکیل دینے کی پہل ہوئی ہے۔ اس کوشش کا ایک اہم مقصد عظمت اہل بیت سے عوام  کو واقف کرواناہے۔ سید محمد امین اصدق نے کہا کہ حضرت لکڑ شاہ خانقاہ نہ صرف بنگلورو پورے کرناٹک کیلئے مرکز سمجھی جاتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ قوم و ملت کے اہم فیصلے اسی خانقاہ میں ہوا کرتے تھے۔ رویت ہلال کا اعلان، رمضان کا چارٹ، حفاظ کی ترتیب ، میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سرگرمیاں اسی خانقاہ سے انجام دی جاتی تھیں۔ لہذا خانقاہ حضرت لکڑ شاہ رحمت اللہ علیہ کی مرکزی حیثیت کو دوبارہ بحال کرنے کی ضرورت ہے۔


اجلاس کے ناظم صوفی سلیم ہزاروی نے کہا کہ اس ملک میں جب سے مسلمان آباد ہوئے ہیں تب سے خانقاہی نظام رائج ہے۔ مدرسوں سے قبل خانقاہی نظام ہر جگہ عام تھا۔ تعلیم و تربیت کا مرکز خانقاہ ہوا کرتے تھے۔ وقت کے بادشاہ اور حکمران خانقاہوں میں حاضری دیا کرتے تھے۔ صوفی سلیم ہزاروی نے کہا کہ خانقاہی نظام کو دوبارہ مضبوط و مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

تاریخی شہر بیجاپور سے تعلق رکھنے والے سید محمد صادق قادری نے کہا کہ خانقاہی نظام آج کی اہم ضرورت ہے۔ خانقاہوں میں معتدل دینی اور دنیاوی تعلیم کا نظم پہلے ہی سے رہا ہے۔ سب سے بڑھ کر انسانیت کی تعلیم کا مرکز خانقاہ رہے ہیں۔ نئی نسل کو دوبارہ خانقاہوں سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ سید محمد صادق قادری نے کہا کہ عربی، فارسی اور اردو زبانوں کے فروغ میں خانقاہوں نے اہم رول ادا کیا ہے۔ دوبارہ خانقاہی نظام کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خانقاہوں میں بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے نصاب بنایا جائے۔ تیسری جماعت سے لیکر ڈگری تک کے طلبہ کیلئے خانقاہی نصاب مرتب کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ نسل انگریزی تعلیم تک محدود ہورہی ہے اس سے نوجوان اپنی زبان، تہذیب و ثقافت سے دور ہورہے ہیں ۔ ان حالات میں خانقاہوں کے ذریعہ نوجوان نسل کو مذہب، روحانیت اور تصوف کی جانب راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ سید رفیق الزماں نے کہا کہ مشائخین اپنے علم کو اس اونچائی اور بالائی پر لے جانا چاہتے ہیں جو موجودہ دور میں کہیں کھو چکی ہے۔ صوفی تاج الدین بابا اور دیگر نے اجلاس سے خطاب کیا۔ بنگلورو کے علاوہ دیگر شہروں کے مشائخین کرام نے اجلاس میں حصہ لیا۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 30, 2020 10:25 PM IST