உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہم آہنگی کی مثال : جنوبی ہند کے شہر گنٹور میں موجود جناح ٹاور ، جانئے کچھ خاص باتیں

    چند سال پہلے تک جناح ٹاور کی حالت خراب تھی ، لیکن ایک ہیریٹیج ایکٹوسٹ کے سیوا ریڈی کی کو شش کے بعد بلدیہ گنٹور نے اس کی تزئین نو کی اور نہ صرف اس سے متصل فوارہ کی مرمت کروائی ، بلکہ رات کے وقت اس پر رنگ برنگی روشنیوں کا بھی انتظام کروایا ۔

    چند سال پہلے تک جناح ٹاور کی حالت خراب تھی ، لیکن ایک ہیریٹیج ایکٹوسٹ کے سیوا ریڈی کی کو شش کے بعد بلدیہ گنٹور نے اس کی تزئین نو کی اور نہ صرف اس سے متصل فوارہ کی مرمت کروائی ، بلکہ رات کے وقت اس پر رنگ برنگی روشنیوں کا بھی انتظام کروایا ۔

    چند سال پہلے تک جناح ٹاور کی حالت خراب تھی ، لیکن ایک ہیریٹیج ایکٹوسٹ کے سیوا ریڈی کی کو شش کے بعد بلدیہ گنٹور نے اس کی تزئین نو کی اور نہ صرف اس سے متصل فوارہ کی مرمت کروائی ، بلکہ رات کے وقت اس پر رنگ برنگی روشنیوں کا بھی انتظام کروایا ۔

    • Share this:
    آندھرا پردیش کے شہر گنٹور کے مرکز میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے نام سے موسوم  ایک سڑک ہے ۔ اسی سڑک پر ایک مینار دکھائی دیتا ہے جو محمد علی جناح کے اعزاز میں بنایا گیا تھا ۔ جد و جہد آزادی کے دور میں ملک کے اس حصہ میں مہاتما گاندھی روڈ پر جناح ٹاور کی تعمیر کا مقصد  ہم آہنگی اور یکجہتی کو فروغ دینا تھا ، جو تقسیم ہند کے تکلیف ده عمل اور ہندوستان و پاکستان کے درمیان تعلقات میں کڑواہٹ کے باوجود اسی طرح شہر کے مرکز میں قائم ہے اور اس شہر کے عوام کو دیکھ کر یہ نہیں لگتا کہ وہ اس مینار یا ٹاور کو کسی اور نظر سے دیکھتے ہیں ۔

    زراعت اور صنعت کے حوالہ سے مشہور شہر گنٹور کے بیچوں بیچ تعمیر جناح ٹاور جنوبی ہند کے کئی شہروں میں انگریزوں کے دور میں تعمیر چو کونی  کلاک ٹاور کی طرح نہیں ، بلکہ اسلامی فن تعمیر کے روایتی مینار کی طرح دائروی بیس پر بنایا گیا ہے ۔ جناح ٹاور چھ پلرس پر آر سی سی میں تعمیر کیا گیا ہے ، جس کے ٹاپ پر ایک گنبد ہے ۔ اس کی خوبصورتی کو بڑھانے کے لیے اس کے بازو میں ایک فوارہ بھی لگایا گیا تھا ۔

    چند سال پہلے تک جناح ٹاور کی حالت خراب تھی ، لیکن ایک ہیریٹیج ایکٹوسٹ کے سیوا ریڈی کی کو شش کے بعد بلدیہ گنٹور نے اس کی تزئین نو کی اور نہ صرف اس سے متصل فوارہ کی مرمت کروائی ، بلکہ رات کے وقت اس پر رنگ برنگی روشنیوں کا بھی انتظام کروایا ۔ مقامی کارکنان کا مطالبہ ہے کہ جناح ٹاور کو ہیریٹیج اسٹرکچرس کی فہرست میں شامل کیا جائے ۔ لیکن باوجود اس کے کہ یہ عمارت ستر سال سے زیادہ قدیم ہے ، ریاستی حکومت نے اس کو تاریخی ورثہ کا درجہ نہیں دیا ، جس کی وجہ سے حکومت کی کسی ویب سائٹ پر یا ریکارڈ میں اس ٹاور کا  ذکر نہیں ملتا ۔

    جناح ٹاور چھ پلرس پر آر سی سی میں تعمیر کیا گیا ہے ، جس کے ٹاپ پر ایک گنبد ہے ۔ اس کی خوبصورتی کو بڑھانے کے لیے اس کے بازو میں ایک فوارہ بھی لگایا گیا تھا ۔
    جناح ٹاور چھ پلرس پر آر سی سی میں تعمیر کیا گیا ہے ، جس کے ٹاپ پر ایک گنبد ہے ۔ اس کی خوبصورتی کو بڑھانے کے لیے اس کے بازو میں ایک فوارہ بھی لگایا گیا تھا ۔


    گنٹور کے عوام نے محمد علی جناح کے اعزاز میں اس ٹاور کی تعمیر کا فیصلہ کیا تھا  ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ محمد علی جناح گنٹور کا دورہ کرنے والے تھے ۔ لیکن وہ نہیں آسکے ۔ چونکہ ریاستی حکومت کے ریکارڈس میں اس ٹاور کا ذکر نہیں ہے ، اس لئے اس ٹاور کی تعمیر کی اصل تاریخ کے بارے میں کسی کو زیادہ علم نہیں ۔ لیکن سب اس بات پر متفق ہیں کہ جناح ٹاور سال 1940 کے آس پاس تعمیر کیا گیا تھا۔

    ساحلی آندھرپردیش سے تعلق رکھنے والے معروف تاریخ داں سید نصیر احمد کا ماننا ہے کہ اس ٹاور کی تعمیر کے بعد بر صغیر کی تاریخ نے کئی مراحل طے کئے ، لیکن گنٹور اور یہاں کے عوام کے لیے جناح ٹاور اسی دور اور وہی مقصد کی نشانی ہے ۔ آج بھی یہاں کے لوگ اسے جد و جہد آزادی کی ہی علامت مانتے ہیں ۔ سید نصیر نے مسلم مجاہدین آزادی پر تیلگو اور انگریزی میں ایک کتاب 'دی امورٹلس '  لکھی ہے ، جس میں انہوں نے محمد علی جناح کو بھی شامل کیا ہے ۔

    تیلگو کے سینئر جرنلسٹ ڈاکٹر فضل اللہ خان کا تعلق ضلع گنٹور سے ہے ۔ وہ  وہیں پلے بڑھے اور تعلیم حاصل کی ۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔ بچپن سے لے کر آج تک شاید ہی میرے کسی ہم جماعت یا ساتھی نے شہر کے مرکز  میں جناح کے نام پر ایک یادگار کی موجودگی پر کوئی اعتراض کیا ہو۔  جناح ٹاور کی حفاظت کے لیے سوشل میڈیا پر جس طرح مہم چلائی گئی تھی ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جناح ٹاور ، بلا لحاظ سب کے لیے ہمارے شہر  کی ثقافت کا حصہ ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: