Choose Municipal Ward
    CLICK HERE FOR DETAILED RESULTS
    ہوم » نیوز » No Category

    سرکاری اسپتالوں میں ایک سال میں 518 خواتین اور5109 نوزائد بچوں کی موت

    بنگلورو : سرکاری اسپتالوں میں تمام بنیادی سہولیات فراہم کئے جانے کے باوجود حاملہ خواتین سرکاری اسپتالوں کا رُخ کرنے سے گریز کرتی ہیں ، کیونکہ ان اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی لاپروائی کی وجہ سے نہ صرف نوزائیدہ بچے بلکہ ماں کی بھی موت ہونے کا خدشہ ہر وقت لاحق رہتا ہے ۔ کرناٹک میں ـ گزشتہ ایک سال میں سرکاری اسپتالوں میں فوت ہونے والے نوزائد بچوں کی تعداد 5109 ہے ، جبکہ زچگی کے دوران پر518 خواتین کی موت واقع ہوگئی۔

    • ETV
    • Last Updated: Mar 11, 2016 03:35 PM IST
    • Share this:
    • author image
      NEWS18-Urdu
    سرکاری اسپتالوں میں ایک سال میں 518 خواتین اور5109 نوزائد بچوں کی موت
    بنگلورو : سرکاری اسپتالوں میں تمام بنیادی سہولیات فراہم کئے جانے کے باوجود حاملہ خواتین سرکاری اسپتالوں کا رُخ کرنے سے گریز کرتی ہیں ، کیونکہ ان اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی لاپروائی کی وجہ سے نہ صرف نوزائیدہ بچے بلکہ ماں کی بھی موت ہونے کا خدشہ ہر وقت لاحق رہتا ہے ۔ کرناٹک میں ـ گزشتہ ایک سال میں سرکاری اسپتالوں میں فوت ہونے والے نوزائد بچوں کی تعداد 5109 ہے ، جبکہ زچگی کے دوران پر518 خواتین کی موت واقع ہوگئی۔

    بنگلورو : سرکاری اسپتالوں میں تمام بنیادی سہولیات فراہم کئے جانے کے باوجود حاملہ خواتین سرکاری اسپتالوں کا رُخ کرنے سے گریز کرتی ہیں ، کیونکہ ان اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی لاپروائی کی وجہ سے نہ صرف نوزائیدہ بچے بلکہ ماں کی بھی موت ہونے کا خدشہ ہر وقت لاحق رہتا ہے ۔ کرناٹک میں ـ گزشتہ ایک سال میں سرکاری اسپتالوں میں فوت ہونے والے نوزائد بچوں کی تعداد 5109 ہے ، جبکہ زچگی کے دوران پر518 خواتین کی موت واقع ہوگئی۔

    تائی بھاگیہ اسکیم اور طاقتور غذائی اشیا کی فراہمی جیسے سہولیات مہیا کئے جانے کے دعوؤں کے باوجود حکومت کیلئے ماں اور بچہ کے اموات کی تعداد پر قابو پانا ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ ـ واضح رہے کہ رائچور ضلع کے سرکاری اسپتال میں ایک سال میں 521 نوزائیدہ بچوں کی موت واقع ہے ، ـ جبکہ گلبرگہ میں 499 بچے فوت ہوئے ہیں ۔ ـ اسی طرح بلگام میں ایک سال میں 79 ماؤں کی موت واقع ہوئی ہے ، جبکہ بلاری میں 48 اور کلبرگہ کے سرکاری اسپتال میں ایک سال میں زچگی کے دوران 41 ماؤں کی موت واقع ہوئی ہے ـ۔

    سرکاری اسپتالوں میں سالانہ اتنی تعداد میں ماں اور بچہ کی موت کے باوجود ریاستی حکومت اس کی الگ وجہ بتارہی ہے ۔ ـ حکومت کا کہنا ہے کہ زیادہ مقدار میں خون کا بہنا ، طاقتور غذا کا استعمال نہ کرنا ، پری میچورٹی اور ڈائیریا کی وجہ سے ماں اور بچہ کی موت ہورہی ہے ـ۔ اگر ماں بیمار ہے تو اس کا اثر بچہ پر بھی پڑتا ہے ۔ ـ اس لئے سب سے پہلے ماں کو صحت مند رہنا ہوگا ۔ ـ نقص تغذیہ کا مسئلہ نہ صرف کرناٹک بلکہ ملک بھر میں ہے ۔ـ

    دوسری جانب وزیر صحت یو ٹی قادر کا کہنا ہے کہ ریاست میں سالانہ اتنی تعداد میں ماں اور بچہ کی اموات قابل افسوس ہے ۔ ـ ان اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کیلئے ریاستی حکومت کی طرف سے منصوبے تیار کئے جارہے ہیں ۔

    First published: Mar 11, 2016 03:35 PM IST
    corona virus btn
    corona virus btn
    Loading