ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک میں قانون ساز کونسل کے انتخابات، مسلم لیڈروں کی ڈی کے شیوکمار سے ملاقات،کسی ایک مسلم نمائندہ کو ایم ایل سی بنانے کا کیا مطالبہ

بنگلورو میں سابق مرکزی وزیر کے رحمن خان کی قیادت میں کانگریس کے مسلم لیڈروں نے پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمار سے ملاقات کی۔ مسلم لیڈروں نے متحد ہوکر کسی ایک مسلم نمائندہ کو قانون ساز کونسل کیلئے منتخب کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سلسلے میں تحریری طور پر یادداشت بھی کے پی سی سی کے صدر کو پیش کی گئی۔

  • Share this:
کرناٹک میں قانون ساز کونسل کے انتخابات، مسلم لیڈروں کی ڈی کے شیوکمار سے ملاقات،کسی ایک مسلم نمائندہ کو ایم ایل سی بنانے کا کیا مطالبہ
کرناٹک میں قانون ساز کونسل کے انتخابات، مسلم لیڈروں کی ڈی کے شیوکمار سے ملاقات،کسی ایک مسلم نمائندہ کو ایم ایل سی بنانے کا کیا مطالبہ

29 جون کو کرناٹک کی قانون ساز کونسل کی 7 نشستوں کیلئے انتخابات ہورہے ہیں۔ ان انتخابات کے پیش نظر ریاست کی تین بڑی سیاسی پارٹیاں بی جے پی، کانگریس اور جے ڈی ایس میں ان دنوں زبردست لابی جاری ہے۔ 75 رکنی کرناٹک قانون ساز کونسل کی 11 نشستیں 30 جون کو خالی ہورہی ہیں۔ لیکن کورونا کی وبا کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے صرف ایم ایل ایز کے زمرے کی 7 نشستوں کیلئے انتخابات کروانے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ ٹیچرز اور گرائجویٹس کی دو دو نشستوں کے انتخابات ملتوی کردئے گئے ہیں۔ ایم ایل ایز کے زمرے کے تحت ہورہے کونسل کی 7 نشستوں کے انتخابات میں حکمراں سیاسی جماعت بی جے پی 4 نمائندوں کو کونسل کیلئے منتخب کرسکتی ہے۔ جبکہ کانگریس 2 اور جے ڈی ایس اپنے ایک نمائندہ کو آسانی کے ساتھ کونسل بھیج سکتی ہے۔ تینوں پارٹیوں میں ایم ایل سی کیلئے خواہش مند امیدوار اپنے اپنے لیڈروں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

بنگلورو میں سابق مرکزی وزیر کے رحمن خان کی قیادت میں کانگریس کے مسلم لیڈروں نے پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمار سے ملاقات کی۔ مسلم لیڈروں نے متحد ہوکر کسی ایک مسلم نمائندہ کو قانون ساز کونسل کیلئے منتخب کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سلسلے میں تحریری طور پر یادداشت بھی کے پی سی سی کے صدر کو پیش کی گئی۔بی جے پی کے اقلیتی لیڈر بھی کونسل میں نمائندگی فراہم کرنے کا پارٹی سے مطالبہ کررہے ہیں۔ اقلیتی مورچہ کے لیڈر اور کرناٹک ریاستی حج کمیٹی کے رکن چاند پاشاہ نے کہا کہ پارٹی میں عبدالعظیم، انور مانپاڈی، خسرو قریشی اور دیگر سینئر لیڈر موجود ہیں۔

بی جے پی کے ریاستی لیڈروں کو چاہیے کہ کسی ایک مسلم نمائندہ کو کونسل کیلئے منتخب کرے۔ کرناٹک کی اسمبلی اور کونسل میں مسلم نمائندگی میں مسلسل کمی دیکھنے کو مل رہی۔ 224 نشستوں والی کرناٹک کی اسمبلی میں کبھی 20 سے زیادہ مسلم نمائندہ ہوا کرتےتھے لیکن اب یہ تعداد گھٹ صرف 7 ہوگئی ہے۔دوسری جانب 75 نشستوں والی کرناٹک کی قانون ساز کونسل میں 8 سے 10 مسلم نمائندے ہوا کرتے تھے لیکن اب یہ تعداد گھٹ کر محض 4 سے 5 ہوکر رہ گئی ہے۔چند ماہ قبل کانگریس کے نوجوان لیڈر رضوان ارشد کے ضمنی الیکشن میں اسمبلی کیلئے منتخب ہونے کے بعد کرناٹک کی قانون ساز کونسل میں ایک مسلم نمائندہ کم ہوچکا ہے۔

اسی ماہ میں قانون ساز کونسل کے موجودہ تین مسلم نمائندوں کی معیاد مکمل ہورہی ہے۔ اقبال احمد سرڈگی، عبدالجبار اور نصیر احمد ایم ایل سی کے طور سبکدوش ہورہے ہیں۔ آنے والے قانون ساز کونسل کے انتخابات میں اگر ایک بھی مسلم نمائندے کو منتخب نہیں کیا گیا تو کونسل میں صرف 2 مسلم نمائندے رہ جائینگے۔ کانگریس سے سی ایم ابراہیم اور جے ڈی ایس سے بی ایم فاروق۔اسطرح اسمبلی کے بعد کونسل میں بھی مسلمانوں کی نمائندگی میں بھاری کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں مسلمانوں کی تعداد 14 فیصد کے قریب ہے۔کرناٹک مسلم متحدہ محاذ کے کنوینر مسعود عبدالقادر کہتے ہیں ریاست میں مسلمانوں کی موجودہ آبادی کے مطابق اسمبلی میں کم سے کم 30 مسلم نمائندے ہونے چاہئیں۔ جبکہ کونسل کم سے کم 10 مسلم نمائندے ہونے چاہئیں۔ لیکن موجودہ اسمبلی اور کونسل میں مسلمانوں کی نمائندگی انکی آبادی کے تناسب سے کافی کم ہوچکی ہے۔مسعود عبدالقادر کہتے ہیں کہ موجودہ سیاسی صورتحال کرناٹک کے تمام مسلمانوں، مسلم تنظیموں اور مسلم سیاسی لیڈروں کیلئے ایک لمحہ فکری ہے۔

First published: Jun 12, 2020 09:26 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading