ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بنگلورو سے پہلے گلبرگہ میں نافذ ہوا لاک ڈاؤن، بغیر مہلت دئیے لاک ڈاؤن کرنے کے فیصلے پر عوام برہم

ضلع میں کورونا کے بڑھتے پوزیٹیو کیسوں کی تعداد کو ڈی سی نے مکمل لاک ڈاؤن کا جواز بتایا ہے۔

  • Share this:
بنگلورو سے پہلے گلبرگہ میں نافذ ہوا لاک ڈاؤن، بغیر مہلت دئیے لاک ڈاؤن کرنے کے فیصلے پر عوام برہم
بنگلورو سے پہلے گلبرگہ میں نافذ ہوا لاک ڈاؤن، بغیر مہلت دئیے لاک ڈاؤن کرنے کے فیصلے پر عوام برہم

گلبرگہ۔ سخت اندیشوں وخدشات کے ساتھ بالآخر گلبرگہ میں دوبارہ مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔ گلبرگہ ڈپٹی کمشنر شرت بی نے رات نو بجے کے آس پاس فرمان جاری کرتے ہوئے چودہ جولائی سے بیس جولائی تک ضلع گلبرگہ میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا۔جس کی وجہ سے گلبرگہ کے عوام میں سخت برہمی دیکھی جا رہی ہے۔ ہزاروں لوگ اس سے راست طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی ایک لوگ کئی دوسرے مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔ کئی ایک نے کئی ایک طرح کی منصوبہ بندی کررکھی ہے۔ ان تمام باتوں اور امکانات کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا۔


ضلع میں کورونا کے بڑھتے پوزیٹیو کیسوں کی تعداد کو ڈی سی نے مکمل لاک ڈاؤن کا جواز بتایا ہے۔ جبکہ بات اگر بنگلورو کی کی جائے تو یہ شہر گلبرگہ سے کہیں زیادہ متاثر ہے۔ دار الحکومت ہے، اس کے باوجود یہاں پر مہلت دے کر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔ سی ایم یڈی یورپا نے سنیچر کو ہی اعلان کر دیا تھا کہ منگل کی شام آٹھ بجے سے بنگلورو میں مکمل لاک ڈاؤن ہو گا، یعنی سی ایم نے تقریبا بہتر گھنٹے قبل ہی بنگلورو کے عوام کو لاک ڈاؤن کیلئے ذہنی طور پر تیار رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس کے بر عکس گلبرگہ میں کسی طرح کا کوئی موقع نہیں دیا گیا۔ کسی طرح کی کوئی مہلت نہیں دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے راتوں رات لاک ڈاؤن کا اعلان کرکے عوام کو سخت پریشان کر دیا۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ سو شل میڈیا پر ڈپٹی کمشنر کاکرناٹک حکومت کے چیف سکریٹری کو گیارہ جولائی کو لکھا گیا ایک مکتوب گشت کر رہا تھا۔جس میں ضلع گلبرگہ میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے تعلق سے ہدایات طلب کی گئی تھیں۔ اس طرح کے مکتوب کے منظر عام پر آنے کے بعد سے گلبرگہ کے عوام میں ایک بے چینی ضرور دیکھی جا رہی تھی۔


ضلع میں کورونا کے بڑھتے پوزیٹیو کیسوں کی تعداد کو ڈی سی نے مکمل لاک ڈاؤن کا جواز بتایا ہے۔


پیر کی صبح سی ایم یڈی یورپا نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کچھ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرس کے ساتھ میٹنگ کی تھی۔ جس میں گلبرگہ بھی شامل تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس میٹنگ میں ضلع گلبرگہ میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جس میں سی ایم یڈی یورپا نے گلبرگہ ڈی سی بی شرت کو حالات کو دیکھ کر خود سے فیصلہ لینے کا اختیار دیا تھا۔ دوپہر میں بھی ڈپٹی کمشنر منگل سے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کر سکتے تھے، تاہم انھوں نے لاک ڈاؤن کے اعلان کے معاملے کو شام تک ٹال دیا۔ اگر ڈی سی دوپہر میں بھی اعلان کر دیتے تو عوام کو کچھ حد تک تیاری کا موقع مل سکتا تھا۔ لاک ڈاؤن کو منگل سے نافذ کرنے کے بجائے بد ھ سے بھی نافذ کیا جا سکتا تھا۔ سی ایم نے تو ڈی سی کو اختیار دے ہی رکھا تھا۔ ڈی سی چاہتے تو سی ایم یڈی یورپا کو فالو کرتے ہوئے ستر بھتر گھنٹوں کی مہلت نہ سہی چوبیس گھنٹوں کی مہلت تو دے ہی سکتے تھے۔ لمحہ آخر میں مکمل لاک ڈاؤن کے اعلان نے عوام کی مشکلات میں اضافہ پیدا کر دیا ہے۔ گلبرگہ کی عوام کو وقت سے پہلے لاک ڈاؤن کی سزا یہ پہلی بار نہیں مل رہی ہے۔ اسی سیزن میں یہ دوسری بار ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 14, 2020 12:10 PM IST