உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab Row: باحجاب لڑکی کئی لڑکوں پر پڑی بھاری، جئے شری رام کےجواب میں کہااللہ اکبر، ٹوئٹرپر لوگ شیرنی سے کررہیں تعبیر

    حجابی لڑکی نے ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے ان کا جواب دیا۔

    حجابی لڑکی نے ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے ان کا جواب دیا۔

    ٹویٹر کے صارفین کا بڑا طبقہ اس بے باک اور جری طالبہ کی حمایت میں سامنے آیا ہے۔ صارفین نے مسلم طالبہ کو زعفرانی لباس میں ملبوس لڑکوں کے سامنے بہادری سے کھڑے ہونے پر خوب سراہا ہے جنہوں نے اسے دھونس دینے کی کوشش کی تھی۔

    • Share this:
      کرناٹک (Karnataka) میں حجاب بمقابلہ زعفرانی کھنڈوا کا تنازع زور پکڑاتا ہی جارہا ہے۔ منگل کے روز ایک حجابی طالبہ کی زعفرانی لباس میں ملبوس طلبا کے ایک گروپ کی طرف سے ’جئے شری رام‘ کے نعرے لگانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئی ہے۔ جس کے بعد سے سوشل میڈیا صارفین لگاتار مختلف انداز میں اپنے اپنے انداز میں اظہار خیال کررہے ہیں۔

      ٹویٹر کے صارفین کا بڑا طبقہ اس بے باک اور جری طالبہ کی حمایت میں سامنے آیا ہے۔ صارفین نے مسلم طالبہ کو زعفرانی لباس میں ملبوس لڑکوں کے سامنے بہادری سے کھڑے ہونے پر خوب سراہا ہے جنہوں نے اسے دھونس دینے کی کوشش کی تھی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں اس لڑکی کو پی ای ایس انجینئرنگ کالج (P. E. S. Engineering college) کی طالبہ بتایا جارہا ہے۔


      وائرل ویڈیو میں ایک باحجاب لڑکی کو اپنی گاڑی پارک کر کے کالج کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی دوران زعفرانی کھنڈوا پہنے لڑکوں کا ایک گروپ ’جے شری رام‘ (Jai Shri Ram) کے نعرے لگاتا ہوا اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ تاہم صارفین اس وقت دنگ رہ گئے، جب ان لڑکوں کے جھنڈ میں لڑکی نے ’اللہ اکبر‘ (Allahu Akbar) کا نعرہ بلند کیا۔ اس طرح لڑکی نے اپنی جرأت و بہادری اور جواں مردی سے نعرہ لگاکر ان سب لڑکوں کا مقابلہ کیا۔

      ٹویٹر صارفین کا ردعمل یہ ہیں:

      ’’کیا آپ نے پاگل جنگلی کتوں کو اکیلی شیرنی سے لڑتے ہوئے دیکھا ہے؟ اس کی اس سے اچھی تصویر شاید نہیں ہو سکتی‘‘۔



      ’’جس چیز پر آپ یقین رکھتے ہیں، اس کے لیے کھڑے ہونے کے لیے بہادر بنیں، چاہے آپ اکیلے ہی کیوں نہ ہوں۔ #اللہ اکبر‘‘




      ’’مودی جی، کیا یہی آپ کا 'بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ' ہے؟‘‘



       ’’جب فسادی اور بم دھماکے کرنے والے پارلیمنٹ میں پہنچیں گے تو اب اسکولوں میں بھی یہی ہوگا!‘‘



      ’’یہ ملک مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔ اسے کوئی نہیں بچا سکتا۔ یہ ختم ہو چکا ہے. اس لڑکی کی ہمت کو نہ بھولیں۔ وہ نعرے لگا رہی ہے اور بھگوا دہشت گردوں کے ہجوم کا سامنا کر رہی ہے جسے کوئی خوف نہیں ہے۔ ان کا بہت احترام اور حمایت کروں گا‘‘۔



      ’’ایک برقعہ پوش عورت سے سینکڑوں بزدل ڈر رہے تھے... کتنی قابل رحم قوم ہے!‘‘





      کرناٹک میں جاری تنازع کے درمیان کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل کو کہا کہ بین الاقوامی برادری ہمیں دیکھ رہی ہیں اور یہ اچھی بات نہیں ہے ۔ کورٹ نے کہا کہ سرکار طلبہ کو دو مہینے کیلئے حجاب پہننے کی اجازت دینے کی درخواست سے متفق نہیں ہے ۔ وہ اس معاملہ کو میرٹ پر اٹھائے گی ۔


      یہ بات قابل ذکر ہے کہ حجاب تنازع پر کرناٹک میں زبردست ہنگامہ جاری ہے۔ دن بھر دونوں اطراف کے طلبا کالجوں میں احتجاج کرتے رہے۔ اس کے بعد ریاستی حکومت نے اگلے تین دن کے لیے اسکول اور کالج بند رکھنے کی ہدایت دی ہے۔




      چیف منسٹر بسواراج بومئی (Basavaraj Bommai) نے سوشل میڈیا پر تین دن اسکول اور کالج بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ جب سے اڈوپی کے ایک کالج میں مسلم لڑکیوں کے ایک گروپ کو حجاب پہننے کی اجازت نہیں دی گئی، تب سے یہ ٹرینڈز چل رہے ہیں۔





      کرناٹک میں مزید کالجوں نے حجاب پہننے والے طالبات کے لیے اپنے دروازے بند کر دیے جانے کے بعد یہ آمنا سامنا جاریہے۔ جس میں دوسرے طرف لڑکے زعفرانی گھنڈوے کے ساتھ احتجاج کررہے ہیں۔

      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: