உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مکہ مسجد دھماکہ کے نو سال مکمل ، موجودہ حکومتیں ملزمین کو بچانے کی کوشش میں‎

    حیدرآباد۔ حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد دھماکہ کے نو سال مکمل ہونے کے باوجود اس واقعہ  کی تحقیق کی صورتحال جو ں کی توں معلوم ہوتی ہے۔

    حیدرآباد۔ حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد دھماکہ کے نو سال مکمل ہونے کے باوجود اس واقعہ کی تحقیق کی صورتحال جو ں کی توں معلوم ہوتی ہے۔

    حیدرآباد۔ حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد دھماکہ کے نو سال مکمل ہونے کے باوجود اس واقعہ کی تحقیق کی صورتحال جو ں کی توں معلوم ہوتی ہے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      حیدرآباد۔ حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد دھماکہ کے نو سال مکمل ہونے کے باوجود اس واقعہ  کی تحقیق کی صورتحال جو ں کی توں معلوم ہوتی ہے- حیدرآباد کے مسلمانوں کو شدت سے یہ احساس ہے کہ سابقہ ریاستی و مرکزی دونوں حکومتوں نے خاطیوں کو سزا دلوا نے میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور موجودہ حکومتیں بھی ملزمین کو سزا دلوانے کے بجائے انھیں بچانے کی کوشش میں ہیں۔


      اٹھارہ مئی 2007  کو حیدرآباد کی مکہ مسجد میں معمول کے مطابق  جمعہ  کی نماز کے لئے ہزاروں مسلمان جمع تھےکہ اچانک بم دھماکہ ہوا۔ نولوگ موقع پر ہلاک اوراٹھاون زخمی  ہو گئے۔  اس دھماکہ سے پریشان بعض مقامی نوجوانوں نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے احتجاج کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے ان پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں پانچ لوگ مارے گئے - پھر اسکے بعد تحقیقی ایجنسیوں کے کام کا آغاز ہوا۔  مقامی پولیس نے مستعدی سے کام کرتے ہوئے دھماکہ کے بعد چوبیس گھنٹوں ہی میں سینکڑوں مقامی مسلم نوجوانوں کو حراست میں لے لیا -  جن میں سے پچاس کو گرفتار کرتے ہوئے عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان پر فرقہ وارانہ تفریق پھیلانے کے الزامات لگائے، جو بعد میں غلط ثابت ہوئے۔


      ان میں سے زیادہ تر نوجوا نوں کو نہ صرف با عزت بری کیا گیا بلکہ نیشنل کمیشن آف مائنارٹیز کی سفارش پر ریاستی حکومت نے انہیں کریکٹر سرٹیفکیٹ کی اجرائی کے ساتھ معاوضہ بھی ادا کیا - مکہ مسجد بم دھماکہ کے بعد پولیس فائرنگ کی تحقیقات کے لئے قایم جسٹس بھاسکر راؤ کمیشن کی تحقیقی رپورٹ کا کیا ہوا یہ کسی کو نہیں معلوم۔


      جانچ ایجنسیوں نے  نومبر 2010  میں  دائیں بازو کی آئیڈیالوجی  سے تعلّق رکھنے والی جماعت کے  ساتھ ملزمین کے نام پیش کئے۔ جن میں دو کا تعلق مالیگاؤں دھماکہ کیس سے بھی ہے - جس طرح تحقیقی ایجنسی  این آئ اے نے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس پر ان ملزمین سے متعلق اپنا موقف پیش کیا اس سے حیدرآبادی شہریوں کو ایسا لگتا ہے کہ مکہ مسجد بلاسٹ کیس پر بھی انکا یہی انداز ہوگا - ان نو سالوں میں تحقیقات کے نام پر مختلف تحقیقاتی ایجنسیوں نے جو کچھ کیا،  اس پر حیدرآبادیوں کا ردعمل مایوس کن ہے۔

      First published: