ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

دینی مدارس چندہ اکٹھا کرنے کے طریقہ کو بدلیں ، عالم دین و صنعت کار احمد علی بیگ کا بیان

احمد علی بیگ کہتے ہیں کہ منصب امامت پر قائم رہتے ہوئے علمائے کرام تجارت کے میدان میں بھی آگے بڑھ سکتے ۔ اس کیلئے کئی راستے اور مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالج اور یونیورسٹیوں کی طرح دینی مدارس سے فارغ ہونےوالے طلبہ کیلئے یکساں مواقع موجود ہیں ۔

  • Share this:
دینی مدارس چندہ اکٹھا کرنے کے طریقہ کو بدلیں ، عالم دین و صنعت کار احمد علی بیگ کا بیان
دینی مدارس چندہ اکٹھا کرنے کے طریقہ کو بدلیں ، عالم دین و صنعت کار احمد علی بیگ کا بیان

بنگلورو کے عالم و حافظ احمد علی بیگ گزشتہ چند سالوں سے تجارت و صنعت کے پیش سے وابستہ ہیں ۔ اپنی کمپنی کے قیام کے ایک سال مکمل ہونے پر انہوں نے شہر کے سی ایم اے کنونشن سینٹر میں اجلاس منعقد کیا ۔ پہلے سالانہ اجلاس کے موقع پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے احمد علی بیگ نے کہا کہ ایک عالم دین ایک اچھا تاجر ، صنعت کار ، ڈاکٹر ، انجنئیر بن سکتا ہے ۔ اسی خیال کے ساتھ انہوں نے صنعت و تجارت کے میدان میں قدم رکھا ہے ۔ احمد علی بیگ نے کہا کہ ان کی پیدائش کے جی ایف (کولار گولڈ فیلڈ) شہر میں ہوئی ۔ انہوں نے حفظ اور عربک میں پی ایچ ڈی مکمل تک کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد کچھ عرصہ تک امامت کے عہدے پر فائز ہوئے۔ امامت کے ساتھ چھوٹے پیمانے پر تجارت شروع کی۔ اکتوبر 2019 میں اپنی ہی ایک کمپنی قائم کرتے ہوئے رئیل اسٹیٹ اور ریسٹورنٹ کے شعبہ میں قدم رکھا۔


احمد علی بیگ کہتے ہیں کہ منصب امامت پر قائم رہتے ہوئے علمائے کرام تجارت کے میدان میں بھی آگے بڑھ سکتے ۔ اس کیلئے کئی راستے اور مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالج اور یونیورسٹیوں کی طرح دینی مدارس سے فارغ ہونےوالے طلبہ کیلئے یکساں مواقع موجود ہیں ۔ دینی مدارس کو درپیش مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے احمد علی بیگ نے کہا کہ مدارس اپنے انتظامات کیلئے چندہ اکٹھا کرنے کے طریقے کو بدلیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملت کا یہ المیہ ہے کہ دینی مدارس کے نمائندے گھر گھر جاکر، بازاروں میں گھوم کر چندہ اکھٹا کرتے ہیں ۔ دینی مدارس کو چلانے کا یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کیلئے بڑی حد تک ملت ذمہ دار ہے ۔


احمد علی بیگ کہتے ہیں کہ منصب امامت پر قائم رہتے ہوئے علمائے کرام تجارت کے میدان میں بھی آگے بڑھ سکتے ۔
احمد علی بیگ کہتے ہیں کہ منصب امامت پر قائم رہتے ہوئے علمائے کرام تجارت کے میدان میں بھی آگے بڑھ سکتے ۔


احمد علی بیگ نے کہا کہ ہر شہر میں ایسی ترکیب بنائی جائے کہ چندہ اور مالی مدد کیلئے دینی مدارس عوام کے پاس نہ جائیں بلکہ خود عوام مدرسہ پہنچ کر چندہ ، عطیہ جات ، زکوۃ اور صدقات کی رقم دیں ۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کو چلانے کی ذمہ داری صرف مدرسہ کے مہتمم اور علمائے کرام کی نہیں ہونی چاہئے ۔ بلکہ آیا علاقہ کے تاجر حضرات ، صاحب ثروت ، صاحب حیثیت کو آگے بڑھنا چاہئے ۔ اپنے اپنے علاقوں کے دینی مدارس کے انتظامات کی ذمہ داری اپنے سرلینا چاہئے۔ کسی مدرسہ کیلئے چند احباب اساتذہ کی تنخواہوں کی ذمہ داری لیں ، چند افراد اناج فراہم کرنے کی ذمہ داری لیں ، بچوں کیلئے کپڑے ، کتابیں پڑھائی کیلئے درکار اشیاء فراہم کرنے کی ذمہ داری کوئی اپنے سر لے ۔ اس طرح ہر شہر میں دینی مدارس کو تعاون فراہم کرنے کیلئے ایک مستقل نظام بنانے کی ضرورت ہے۔

احمد علی بیگ نے کہا کہ مدرسہ میں مہتمم حضرات اپنے اپنے علاقوں کے تاجروں، صاحب حیثیت لوگوں کو وقت وقت پر مدرسہ کو بلائیں ۔ مدرسہ کی سرگرمیوں سے انہیں واقف کرواتے رہیں ۔ ایک ایسا احساس پیدا کریں کہ مدرسہ آیا شہر یا علاقے والوں کا مدرسہ ہے ۔ احمد علی بیگ نے کہا کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا کر دینی مدارس کو چلانے کا طریقہ ختم ہونا چاہئے ۔ کئی بڑے علمائے کرام نے یہ بات کہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں شہر کے عمائدین اور مالدار حضرت میں بیداری پیدا کرنے کی اپنے طور پر کوشش کریں گے۔ اس طرح کی کوششیں ہر علاقے ہونی چاہئیں ۔ تاکہ دینی مدارس جو مذہب اسلام کے مضبوط قلعہ ہیں، بغیر کسی مالی دشواری کے اپنی خدمات انجام دیتے رہیں ۔ اس سے دینی مدارس کا معیار تعلیم بلند ہوگا اور ان مدرسوں کے ذریعہ بلند پایہ کے علما ، حفاظ ، قراء ملک اور ملت کو حاصل ہوں گے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 20, 2020 11:41 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading