உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Mangaluru: کلاس روم میں ساورکر کی تصویر بنی جھگڑے کا سبب، منگلورو کے کالج میں یہ ہواواقعہ

    ساورکر کی تصویر کو کلاس روم میں لٹکانے پر دو طلبا گروپوں میں پرتشدد جھڑپ ہوئی

    ساورکر کی تصویر کو کلاس روم میں لٹکانے پر دو طلبا گروپوں میں پرتشدد جھڑپ ہوئی

    پولیس اہلکار نے کہا کہ طلباء کو اس کے لیے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا تھا اور انہیں جمعرات تک اپنا جواب جمع کرانے کو کہا گیا تھا۔ چونکہ طلبا جواب دینے میں ناکام رہے اور کالج میں بھی حاضر نہیں ہوئے انتظامیہ طلبا کے خلاف کارروائی کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

    • Share this:
      منگلورو (Mangaluru) کے ایک کالج میں جمعہ کے روز ہندوتوا کے نظریہ ساز ونائک دامودر ساورکر (Hindutva ideologue Vinayak Damodar Savarkar) کی تصویر کو کلاس روم میں لٹکانے پر دو طلبا گروپوں میں پرتشدد جھڑپ ہوئی۔ منگلورو پولیس کے سینئر افسران کے مطابق یہ جھڑپ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (Akhil Bharatiya Vidyarthi Parishad) اور کیمپس فرنٹ آف انڈیا (Campus Front of India) کے اراکین کے درمیان یونیورسٹی کالج میں ہوئی، جو منگلور یونیورسٹی کا کالج ہے۔

      ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ جمعہ کو کھانے کے وقفے کے دوران ہاتھا پائی ہوئی۔ دونوں گروپوں میں جھگڑا ہوا۔ اس معاملے پر دونوں نے ایک دوسرے کو گالی گلوچ کی اور پھر جسمانی جھگڑا بھی ہوگیا۔ سی ایف آئی کے کچھ طلباء کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور تحقیقات کی جائیں گی۔

      طلبا کے ایک گروپ نے پیر کے روز کالج کے ایک کلاس روم میں بلیک بورڈ کے اوپر ساورکر کی تصویر لٹکا دی تھی۔ کالج کی پرنسپل انسویا رائے نے کہا کہ کالج نے ان پورٹریٹ کو ہٹا دیا کیونکہ وہ بغیر اجازت کے لگائے گئے تھے۔ متعلقہ طلباء کو متنبہ کیا گیا اور انہوں نے بعد میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر تحریری معافی مانگی۔

      دکشینا کنڑ یوتھ کانگریس کے جنرل سکریٹری اسماعیل بی نے ان طلبا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جو یہ واقعہ پیش کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی ہمارے رول ماڈل ہیں۔ محکمہ تعلیم نے سرکلر جاری کرکے واضح کیا ہوگا کہ تعلیمی اداروں میں کس کے پورٹریٹ لگائے جاسکتے ہیں۔ سرکلر پر عمل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر واقعہ ایک تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔

      مزید ٖپڑھیں: Exclusive: پاکستانی فوج میں کشیدگی؟ کیا باجوا پر سے بھروسہ ٹوٹ رہا ہے؟ اقتدار کے گلیاروں میں بڑا سوال


      دریں اثنا تین مسلم لڑکیاں جنہیں یونیورسٹی کالج نے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا تھا، جمعرات کو کالج آنے یا نوٹس کا جواب دینے میں ناکام رہیں۔ کالج کے پرنسپل رائے نے کہا کہ تینوں طالب علموں نے حجاب پر پابندی پر پریس کانفرنس کی اور کلاس کے اوقات میں میڈیا سے خطاب کیا۔

      مزید پڑھیں: Rajya Sabha Election 2022: راجستھان میں 4 سیٹوں میں 3 پر کانگریس، ایک سیٹ پر بی جے پی کا قبضہ



      پولیس اہلکار نے کہا کہ طلباء کو اس کے لیے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا تھا اور انہیں جمعرات تک اپنا جواب جمع کرانے کو کہا گیا تھا۔ چونکہ طلبا جواب دینے میں ناکام رہے اور کالج میں بھی حاضر نہیں ہوئے انتظامیہ طلبا کے خلاف کارروائی کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: