ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

سال 2021 کیلئے کرناٹک اردو اکیڈمی کے ڈھیر سارے منصوبے، لیکن اکیڈمی کا بجٹ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

رواں مالیاتی سال میں ریاستی حکومت نے اردو اکیڈمی کو صرف ایک لاکھ روپئے مختص کئے ہیں ان حالات میں کیسے اکیڈمی اپنے منصبوں کو عملی جامہ پہنائے گی اس سوال پر رجسٹرار عائشہ فردوس کہتی ہیں کہ اکیڈمی کے پاس سابقہ بجٹ کی رقم موجود ہے۔ اس فنڈ کو استعمال میں لایا جارہا ہے۔ مزید فنڈز کی فراہمی کیلئے حکومت کو تجویز روانہ کی گئی ہے۔

  • Share this:
سال 2021 کیلئے کرناٹک اردو اکیڈمی کے ڈھیر سارے منصوبے، لیکن اکیڈمی کا بجٹ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے
کرناٹک اردو اکیڈمی کی رجسٹرار عائشہ فردوس نے کہا کہ سال 2020-21 کیلئے اکیڈمی کا سالانہ بجٹ صرف ایک لاکھ روپئے ہے تاہم اکیڈمی سابقہ بجٹ میں موجود رقم کے ذریعہ مختلف سرگرمیوں کو انجام دے رہی ہے۔

بنگلورو۔ عظیم الشان نعتیہ مشاعرہ کے ساتھ کرناٹک اردو اکیڈمی نے سال 2021 کی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کیا ہے۔ کورونا وبا اور چند دیگر رکاوٹوں کی وجہ سے تقریبا 11 ماہ کے وقفہ کے بعد اکیڈمی کا یہ پہلا عوامی پروگرام تھا۔ بنگلورو کے العزیز بینکیٹ ہال میں منعقدہ اس مشاعرہ کی صدارت کرناٹک اردو اکیڈمی کی رجسٹرار عائشہ فردوس نے کی جبکہ نظامت کے فرائض بنگلورو کے مشہور شاعر عزیز داغ نے انجام دئے۔


اس تقریب میں اردو مضمون میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ میں نقد انعامات تقسیم کئے گئے۔ اکیڈمی کی رجسٹرار عائشہ فردوس نے کہا کہ ایس ایس ایل سی اور پی یو سی دوم کے امتحانات میں اردو مضمون میں 90 فیصد سے زائد مارکس حاصل کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں نقد انعام سے نوازا گیا ہے۔ ایس ایس ایل سی کے فی طالب علم کو 2 ہزار روپئے اور پی یو سی کے فی طالب علم کو 3 ہزار روپئے اس طرح ریاست کے مختلف شہروں کے 350 طلبہ کو نقد انعام دئے گئے ہیں۔


کرناٹک اردو اکیڈمی کی رجسٹرار عائشہ فردوس نے کہا کہ سال 2020-21 کیلئے اکیڈمی کا سالانہ بجٹ صرف ایک لاکھ روپئے ہے تاہم اکیڈمی سابقہ بجٹ میں موجود رقم کے ذریعہ مختلف سرگرمیوں کو انجام دے رہی ہے۔ ساتھ ہی نئی اسکیموں کیلئے اضافی فنڈز فراہم کرنے کی حکومت کو تجویز بھیجی گئی ہے۔ عائشہ فردوس نے کہا کہ لاک ڈاون سے متاثرہ شعراء اور ادباء کیلئے مالی اعانت جلد ہی جاری کی جائے گی۔ اس اسکیم کیلئے ریاست بھر سے 550 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ فی شاعر کو 3000 ہزار روپئے کی مالی اعانت فراہم کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ درخواست دے چکے تمام شعراء، ادباء، فنکاروں اور صحافیوں کو یہ رقم جلد جاری کی جائے گی۔


تقریب میں اردو مضمون میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ میں نقد انعامات تقسیم کئے گئے۔


عائشہ فردوس نے کہا کہ اردو  ایم اے کے طلبہ کی حوصلہ افزائی کیلئے بھی اکیڈمی نے  Incentive اسکیم شروع کی ہے۔ فی طالب علم کیلئے 20000 روپئے دئے جائیں گے۔ ریاست میں 55 ایم اے اردو کے طلبہ کو یہ مدد دی جائے گی۔ نئے سال میں اسکولوں کے طلبہ کیلئے ادبی اور ثقافتی پروگرام منعقد کرنے کا اکیڈمی نے فیصلہ لیا ہے۔ عائشہ فردوس نے کہا کہ جیسے ہی اسکول کھلیں گے، اکیڈمی کے تحت اسکولوں میں یہ ثقافتی پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔ ان پروگراموں کے انعقاد کیلئے حکومت سے منظوری بھی حاصل کر لی گئی ہے۔ عائشہ فردوس نے کہا کہ آنے والے دنوں میں اردو اکیڈمی اردو سکھانے کیلئے آن لائن کلاسیںس شروع کریگی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ اسکیم شروع کی جارہی ہے۔ نہ صرف آئی ٹی انجنئیرس بلکہ تمام افراد جو اردو سیکھنا چاہتے ہیں، تمام اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اردو کو فروغ دینے کیلئے جگہ جگہ لائبریری کارنر شروع کرنے کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اردو اکیڈمی کے تحت شائع کتابوں کو ڈیجٹلائز کرنے کا کام بھی شروع کیا جائے گا۔

فی الوقت کرناٹک اردو اکیڈمی کے تحت کوئی رسالہ شائع نہیں ہو رہا ہے۔ عائشہ فردوس نے کہا کہ اذکار اور دیگر رسالوں کی اشاعت کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ اس کیلئے 4 رکنی ایڈہاک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ سال 2021 کے پروگراموں میں مشاعروں، سیمیناروں کے علاوہ صحافیوں کیلئے دو روزہ ورکشاپ بھی شامل ہیں۔ ریاست کے چار ڈویژن میں اردو صحافت پر دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد عمل میں آئے گا۔

رواں مالیاتی سال میں ریاستی حکومت نے اردو اکیڈمی کو صرف ایک لاکھ روپئے مختص کئے ہیں ان حالات میں کیسے اکیڈمی اپنے منصبوں کو عملی جامہ پہنائے گی اس سوال پر رجسٹرار عائشہ فردوس کہتی ہیں کہ اکیڈمی کے پاس سابقہ بجٹ کی رقم موجود ہے۔ اس فنڈ کو استعمال میں لایا جارہا ہے۔ مزید فنڈز کی فراہمی کیلئے حکومت کو تجویز روانہ کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اردو حلقہ میں یہ شکایت سننے کو مل رہی ہے کہ ریاست کی بی جے پی حکومت نے کرناٹک اردو اکیڈمی کو یکسر نظر انداز کردیا ہے۔ وزیر اعلی یدی یورپا کی حکومت بننے کے بعد اب تک اردو اکیڈمی کیلئے کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی ہے۔ نہ ہی اکیڈمی کے فنڈز میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کورونا اور لاک ڈاون کو وجہ بتا کر حکومت نے اکیڈمی کو صرف ایک لاکھ روپئے مختص کئے ہیں۔ جبکہ ہر سال اکیڈمی کو ایک کروڑ روپئے سے زائد بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔ اردو اکیڈمی کی اس صورتحال پر بی جے پی کا اقلیتی مورچہ سوالات کے گھیرے میں ہے۔ اقلیتی مورچہ میں کئی مسلم لیڈران موجود ہیں، اب تک اردو اکیڈمی کی تشکیل، اردو زبان و ادب کے فروغ کیلئے حکومت پر دباؤ  ڈالنے میں یہ لیڈران ناکام نظر آ رہے ہیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 09, 2021 03:09 PM IST