ہوم » نیوز » No Category

مسلمان اپنی عملی زندگی میں اسلام کونافذ کریں : مولانا اسرارالحق

اسلام خداکاآخری اور مکمل دین ہے اوراس کے احکام و تعلیمات سب اللہ کی جانب سے طے کردیے گئے ہیں،ان میں تبدیلی یاتحریف وترمیم کا اختیار خود مسلمانوں کوبھی نہیں ہے تواس کی اجازت کسی حکومت یاسیاسی جماعت کوکیسے ہوسکتی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 02, 2016 10:43 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مسلمان اپنی عملی زندگی میں اسلام کونافذ کریں : مولانا اسرارالحق
معروف عالم دین وممبر پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی: فائل فوٹو۔

بیدر: اسلام خداکاآخری اور مکمل دین ہے اوراس کے احکام و تعلیمات سب اللہ کی جانب سے طے کردیے گئے ہیں،ان میں تبدیلی یاتحریف وترمیم کا اختیار خود مسلمانوں کوبھی نہیں ہے تواس کی اجازت کسی حکومت یاسیاسی جماعت کوکیسے ہوسکتی ہے۔ ان خیالات کااظہارمعروف عالم دین وممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے جمعیۃ علماء کرناٹک کے زیر اہتمام منعقدہ تحفظ شریعت وقومی یکجہتی کانفرنس میں صدارتی خطاب کے دوران کیا۔

انھوں نے کہاکہ آزادی کے بعدمختلف دورمیں ملک کے مسلمانوں پر سنگین حالات آتے رہے ہیں ،لیکن گزشتہ ڈھائی سال پہلے بدقسمتی سے مرکزمیں بی جے پی کی حکومت کے قیام کے بعدمسلمانو ں پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کا سلسلہ پورے ملک میں تیزکردیاگیاہے اورباقاعدہ حکومت کی سرپرستی میں یہ عمل انجام دیا جارہاہے۔مولانانے طلاقِ ثلاثہ،تعددِازدواج وغیرہ جیسے عائلی مسائل پر گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کی ہے اور باقاعدہ قوانین و ضوابط مقررکیے ہیں،جن پر عمل کرنا ہر مسلمان کی دینی ذمے داری ہے،ان احکام میں تبدیلی کی اجازت اس لیے نہیں دی جاسکتی کہ اگر ایسا ہو توانسان اپنی نفسانی خواہش کے مطابق اس قانون کوکھلونابنالے گا۔

حالیہ دنوں میں عائلی مسائل کولے کر حکومت کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط فہمی پر گفتگوکرتے ہوئے مولانانے کہاکہ اس ماحول میں پورے ملک کے مسلمانوں کوتمام تر اختلافات بھلاکربھرپوراتحاداور یکجہتی کا ثبوت دیناہوگا،مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ ہمارے عائلی مسائل کوحکومت نشانہ بنارہی ہے،بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ اگر مسلمانوں نے متحدہوکر اس سازش کامقابلہ نہیں کیاتوآیندہ اس کاانجام بہت بھیانک اور دوررس نتائج کاحامل ہوگا۔

مولانانے کہاکہ حقائق کی روشنی میں اگردیکھاجائے توطلاق یامیاں بیوی میں علیحدگی کی شرح ہندووں میں مسلمانوں سے کئی گنازیادہ ہے،ایسے میں مسلم عورتوں کی مظلومیت کاروناروناڈھکوسلے کے سواکچھ نہیں ہے،حکومت دراصل آہستہ آہستہ ہمارے مذہبی تشخص کوختم کردیناچاہتی ہے اور اسی لیے ایک مخصوص قسم کی ماحول سازی کی جارہی ہے۔

مولاناقاسمی نے زوردیتے ہوئے کہاکہ حالات کی سنگینی کا تقاضاہے کہ ہم اپنی زندگی میں اسلام کومکمل طورپر نافذکریں،اگر ہم اسلام پرمضبوطی کے ساتھ عمل کریں گے،توکسی بھی سیاسی جماعت یاحکومت کی یہ جرأت نہیں ہوگی کہ وہ ہمارے کسی بھی شرعی قانون پر انگلی اٹھائے،اس لیے ضرورت ہے کہ ہم اسلام کے عائلی قوانین سے نہ صرف بھرپورآگاہی حاصل کریں، بلکہ انھیں اپنے گھروں میں نافذکرنے اور اپنی خواتین کوان سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کواداکرنے میں مکمل ذمے داری کا ثبوت بھی دیں۔

اکثروبیشترہماری بے عملی کی وجہ سے دشمنانِ اسلام کواسلام کے خلاف بولنے اور قدم اٹھانے کا حوصلہ مل جاتاہے۔اس موقع پرجمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھراکے صدرمولاناغیاث الدین رحمانی،ملی کونسل بیدر کے صدرمولاناعبدالوحید قاسمی،جمعیۃ اہلحدیث کے شاہ حامد معین الدین قادری،مولاناسراج الدین نظامی،آل انڈیاامامس کونسل کے مولاناعتیق الرحمان رشادی،مسجدابراہیمی گلبرگہ کے امام و خطیب مولانا عبدالمقتدر الیاس، ملی فاؤنڈیشن کے سکریٹری مولانانوشیراحمداوربڑی تعدادمیں علماء، دانشوران ، ائمۂ مساجداور عوام شریک ہوئے۔
First published: Nov 02, 2016 10:43 PM IST