ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ میں مودی حکومت کا موقف اقلیتوں کو ان کے حق سے محروم رکھنے کی سازش : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

تین طلاق اور کثرت ازدواج پر مرکزی حکومت کی مخالفت کو علما نے مسلم پرسنل لا میں مداخلت سے تعبیر کیا اور اسے اقلیتوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی ایک سازش قرار دیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 09, 2016 03:27 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ میں مودی حکومت کا موقف اقلیتوں کو ان کے حق سے محروم رکھنے کی سازش : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری وترجمان مولانا خالد سیف اللہ رحمانی: فائل فوٹو۔

حیدرآباد : تین طلاق اور کثرت ازدواج پر مرکزی حکومت کی مخالفت کو علما نے مسلم پرسنل لا میں مداخلت سے تعبیر کیا اور اسے اقلیتوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی ایک سازش قرار دیا۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے الزام لگایا کہ طلاق ثلاثہ او رتعداد ازدواج کے سلسلہ میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت معاملہ میں حکومت ہند کی جانب سے داخل کردہ جواب دستور ہند کی کھلی خلاف ورزی اور اقلیتوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی ایک سازش ہے۔

انہوں نے کہا کہ دستور ہند نے ملک کے تمام شہریوں کو اپنے مذہب کے مطابق عقیدہ رکھنے اور اس پرعمل کرنے کی اجازت دی ہے اور مسلم پرسنل لا کے دائرہ میں آنے والے قوانین خالص مذہبی قوانین ہیں۔شریعت اپلی کیشن ایکٹ 1937نے بھی اس بات کی صراحت کی ہے کہ نکاح وطلاق وغیر ہ کے معاملات میں اگر دونوں فریق مسلمان ہوں تو ان پر قانون شریعت کا ہی اطلاق ہوگا،نہ کہ کسی اور قانون کا ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ کہنا ہے کہ ایک مسلمان اور غیر مسلم عورت کے معاملہ میں الگ الگ طریقہ کار اختیار نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہاکہ مذہبی قوانین پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا ۔مثلا ایک مسلمان عورت نکاح کرنا چاہے تو اس کو دو گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول کرنا ہوگا ،ایک ہندو خاتون شادی کرنا چاہئے تو اُس کو پھیرے لگانا ہوگا۔اس کی مانگ میں سندور بھرا جائے گا تو کیا کسی مسلمان عورت کو ہندو عورت کا اور ہندو عورت کو مسلمان عورت کا طریقہ کار اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے گا؟ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی جانب سے داخل کیا جانے والا بیان غیر حقیقت پسندانہ اور دستور کی روح کو مجروح کرنے والا ہے اور مسلمانوں کے لیے قطعا ناقابل قبول او ران کے ساتھ ناانصافی کا ایک اور ثبوت ہے۔انہوں نے حکومت ہند کی جانب سے سپریم کورٹ میں جو بیان داخل کیا گیا ہے اس کو افسوسناک قرار دیا ۔

انہوں نے کہاکہ دستور میں ملک کے ہر شہری کو مذہب پر عمل کرنے کی آزادی دی گئی ہے ۔حکومت کا یہ حق نہیں ہے کہ و ہ طے کرے کہ کس مذہب کا کونسا عمل اچھا ہے او رکونسا عمل اس کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہے۔حکومت کو اس با ت کا کوئی حق نہیں پہنچتا ۔یہ اس مذہب کے عمل کرنے والے کا اختیار ہے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کرے یا نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ جب مسلمان خود چاہتے ہیں کہ ان پر شریعت کا قانون ہو اور وہ اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو حکومت کا اس میں رکاوٹ بننا اور اپنی رائے کو تھوپنا مناسب نہیں ہے اور دستور ہند میں جو مذہبی آزادی دی گئی ہے یہ اس کی مخالفت ہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ جنس کی بنیاد پر تفریق نہیں کی جاسکتی ۔مسلمان عورت اور غیر مسلم عورت کے بارے میں فرق نہیں کیا جاسکتا ۔اس کا تعلق مذہبی قوانین سے نہیں ہے ۔ہندو عورت شادی کرتی ہے تو وہ پھیرے لگاتی ہے اور مسلمان عورت نکاح کرتی ہے تو قاضی نکاح پڑھتا ہے ۔کیا حکومت یہ کہے گی کہ دونوں کو پھیرے لینے پڑیں گے یا قاضی سے ان کا نکاح پڑھوانا چاہئے ۔یہ بات بالکل غیر منطقی ہے۔
مولانا حسام الدین عامل جعفر پاشاہ امیر امارات ملت اسلامیہ تلنگانہ نے کہا کہ طلاق ثلاثہ کے سلسلہ میں جو مہم چلائی جارہی ہے اس کی مخالفت کی ۔انہوں نے کہا کہ شریعت کے معاملہ میں ہمیں یہ پسند نہیں ہے کہ حکومت یا کوئی اور کسی بھی انداز سے مداخلت کرے ۔ہم چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنی شریعت کے مطابق جب نکاح کرتے ہیں تو اپنے مسائل کو بھی شریعت کی روشنی میں شریعت کے مطابق ہی حل کریں تا کہ ایسی چیزیں پیدا نہ ہوں جس سے شریعت کا مذاق اڑایاجائے۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کچھ ایسا اقدام نہ کرے جو پرسنل لا بورڈ کے خلاف ہو ۔
انہوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے یکساں سیول کوڈ کو نافذ کرنے کی کوششوں کو بھی ناپاک قرار دیا اور کہا کہ یکساں سیول کوڈ کا نفاذ شریعت میں مداخلت ہے اور یہ کسی بھی طبقہ یا مذہب کے ماننے والوں کے لیے قطعی طورپر ناقابل قبول ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں کئی مذاہب کے ماننے والے ہیں اور تمام مذاہب کے پیشواوں اور ذمہ داروں کو ان کے مذاہب میں مداخلت ناقابل قبول ہوگی اور یہ دستور ہند کے بھی مغائر ہے ۔مولانا جعفر پاشاہ نے اس سلسلہ میں مرکزی حکومت کی کوششوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ہندوستان کئی صدیوں سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا ایک گلدستہ کی طرح ہے او راس طرح کی حکومت کی کوشش ،ان تمام فرقوں ، ذاتوں اور مذاہب کے ماننے والوں اور ان کے ذمہ داروں کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس بارے میں سوچنا چھوڑ دے اور ملک بالخصوص اقلیتوں کی ترقی پر توجہ مرکوز کرے۔
مولانا حامد محمد خان امیر جماعت اسلامی حلقہ تلنگانہ و اڈیشہ نے تین طلاق کے معاملہ میں مرکزی حکومت کی مداخلت کو بے معنی قرار دیا اور کہا کہ یہ مسلمانوں کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس میں حکومت کوئی بھی مداخلت نہ کرے ۔علما اس مسئلہ پر فیصلہ کریں گے۔حکومت کو اس طرح کے کسی بھی اقدام سے پرہیز کرنا چاہئے۔
انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت سب کا ساتھ سب کا وکاس ، کالے دھن کی واپسی او رہر شہری کے اکاونٹ میں رقم ڈلوانے کی باتیں بھول گئی اور اس طرح کی مہمل باتوں میں لگ گئی ہے۔دراصل اس کے ذریعہ حکومت یکساں سیول کوڈ کی راہ ہموار کرنے کی سازش رچ رہی ہے۔مسلمان یا ہندو کوئی بھی اسے برداشت نہیں کریں گے اور این ڈی اے حکومت کو اس میں ناکامی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ایک ہی نشست میں ایک ساتھ تین طلاق دینے والے افراد کی تعداد کافی کم ہے۔طلاق کا ایک طریقہ کار ہے جو پہلے ہی سے رائج ہے۔دیگر مذاہب کے ماننے والوں میں طلاق یا علحدگی کا معاملہ بالکل جداگانہ اور مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام نے اس سلسلہ میں ایک سیدھا سادہ طریقہ بتایا ہے ۔شوہر و بیوی میں اختلافات ہوں اور ان میں رشتہ کو نبھانے کی کوئی گنجائش نہ ہونے کی صورت میں بھی قاضی حتی المقدور ان دونوں کی کونسلنگ کرتا ہے تاکہ نباہ ہوجائے تاہم جب سب کچھ کوشش ختم ہوجائے تو آخر کار طلاق دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سروے کروا کر دیکھ لے کہ ایسے لوگوں کی کتنی تعداد ہے جو ایک ہی نشست میں تین مرتبہ طلاق دیتے ہیں۔ایسے افراد کی تعداد قابل نظر انداز یعنی بہت ہی کم ہے۔انہوں نے کہاکہ طلاق ایک سنگین معاملہ ہے ۔شادی ایک معاہدہ ہے اور طلاق ایک حادثہ ہے۔انہوں نے کہا کہ علما کو چاہئے کہ وہ اس سلسلہ میں اصلاح کی کوشش کریں ۔ملی اور دینی تنظیموں کو اس سلسلہ میں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اس سلسلہ میں قبل ازیں پیش کردہ تجویز پر عمل نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ شادی سے پہلے سرٹیفکیٹ کورس لڑکے اور لڑکی کے لیے ہونا چاہئے جیسا کہ انڈونیشیا اور ملائشیا میں ہوتا ہے ۔اس کورس کے دوران شوہر بیوی کے حقو ق ، طلاق کسے کہتے ہیں اور دیگر کئی باتوں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ان باتوں سے کئی افراد ناواقف ہیں۔
انہوں نے کہاکہ شادی تو دھوم دھام سے کی جاتی ہے لیکن لڑکے اور لڑکی کو ازدواجی زندگی کے بارے میں معلومات نہیں ہوتیں۔انہوں نے واضح کیا کہ قاضی اسی وقت نکاح کروائے جب لڑکا یا لڑکی اس سرٹیفکیٹ کورس کی کامیابی سے تکمیل کریں۔ایسے کورس کی شروعات سے بہت حد تک ازدواجی مسائل اور امور کے بارے میں معلومات ہوسکیں گی۔ساتھ ہی علما، عمائدین ملت و زعمائے ملت کو بڑے پیمانے پر اصلاح کا کام کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ شوہر اور بیوی کے درمیان ناچاقی ہونے کی صورت میں کیا میکانزم ہوناچاہئے ، اس بات کے آداب کی تفصیل قرآن مجید کی سورۃ نسا میں ہے۔ہم قرآنی احکام کو چھوڑ کر جہالت کا شکار ہوگئے ہیں۔علما کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرہ کی اصلاح کریں ۔علما کو اس سلسلہ میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔
First published: Oct 09, 2016 03:26 PM IST