ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

یکساں سیول کوڈ سے نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم طبقات کی زندگیاں بھی ہوں گی متاثر

یکسان سیول کوڈ کے نفاذ کی کوششوں کے خلاف تحفظ شریعت کانفرنس شہر حیدرآباد کے میلاد میدان خلوت نزد چارمینار منعقد ہوئی۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 27, 2016 12:35 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
یکساں سیول کوڈ سے نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم طبقات کی زندگیاں بھی ہوں گی متاثر
ہندوستانی مسلمان: فائل فوٹو

حیدرآباد : یکسان سیول کوڈ کے نفاذ کی کوششوں کے خلاف تحفظ شریعت کانفرنس شہر حیدرآباد کے میلاد میدان خلوت نزد چارمینار منعقد ہوئی۔ سیرت النبیؐ اکیڈیمی کے زیراہتمام اس کانفرنس میں مولانا عبید اللہ خان اعظمی سابق رکن پارلیمنٹ نے بطور مہمان شرکت کی جبکہ حیدرآباد کے مختلف مسالک اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے علماء و مشائخ نے ایک ہی اسٹیج پر جمع ہوکر یکساں سیول کوڈ اور شریعت میں تبدیلی کے خلاف اپنے سخت جذبات اور احساسات کا اظہار کیا۔ اس کانفرنس کی صدارت مولانا سید شاہ علی اکبرنظام الدین حسینی صابری امیرجامعہ نظامیہ و سجادہ نشین بارگاہ شاہ خاموشؒ نے کی۔


جلسہ گاہ میں ہزاروں کی تعداد میں سامعین موجود تھے جو وقفہ وقفہ سے نعرہ تکبیر اللہ اکبر ‘نعرہ رسالت یارسول اللہ اور یکساں سیول کوڈ نہیں چاہئے نہیں چاہئے کے نعرے لگارہے تھے۔ مہمان عالم دین و سابق رکن پارلیمنٹ مولانا عبیداللہ خاں اعظمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نریندر مودی اس وقت 282 ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ تو دور کی بات ہے اگر وہ پارلیمنٹ پر قبضہ بھی کرلیں تو اس ملک میں یکساں سیول کوڈ نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ بعض لوگ سازش کے تحت چند خواتین کا استعمال کرتے ہوئے عدلیہ کے ذریعہ راہ کو ہموار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سازشی افراد اور فرقہ پرست طاقتیں مطلقہ خواتین کا دہلی میں مارچ کروانا چاہتی ہیں۔


انہوں نے بی جے پی کو بھارت جلاو پارٹی قرار دیا اور انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب بھی کوئی انتخابی موسم آیا اس پارٹی نے ملک کو جلانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے حوالے سے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے سفارش کی تھی اگر ہندوستان کے ٹکڑے کرنا ہے اور ملک میں تباہی و بربادی لانا ہے تو یکساں سیول کوڈ نافذ کیا جائے ۔


انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ایک ہزار سالہ مسلم حکمرانی کا تختہ انگریزوں نے الٹا۔ ملک مسلمانوں سے چھینا گیا۔ ملک کی آزادی کے لئے دیگر اقوام کے ساتھ مسلمانوں نے آگے بڑھ کر اپنی جانوں کو قربان کیا۔ 22ہزار علماء نے ملک کو آزاد کرانے اپنی جانوں کو قربان کیا۔ جلیان والا باغ میں انگریزوں نے جو قتل عام کیا ان میں صرف مسلمان اور سکھ شہید ہوئے تھے ۔ آر ایس ایس کا 1925ء میں وجود عمل میں آیا۔ انہوں نے انگریزوں کے ساتھ وفاداری کی ۔

آج اس طرح کے امور کے ذریعہ ہندوستانی مسلمانوں کو پریشان کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلاق ‘اللہ کے پاس سب سے ناپسندیدہ عمل ہے ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اسلام کو سیکھیں اور اس پر عمل کریں۔ قرآن و سنت کے مطابق حتی الامکان طلاق سے احتراز کا حکم دیا گیا اور اسے برداشت کرنے تک اجر و ثواب بھی دیا گیا ہے۔

جناب سید احمدپاشاہ قادری معتمد عمومی مجلس و رکن اسمبلی چارمینار نے کہا کہ مسلمان شریعت محمدی ؐ میں ذرہ برابر تبدیلی کو بھی ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ نزول قرآن سے آج تک قرآن ہر دور میں ہماری رہنمائی کررہا ہے۔ موجودہ مرکزی حکومت اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے اس طرح کی سازشیں کررہی ہیں۔ دو برس سے زائد کا عرصہ گزرگیا ۔ غریبی کو ہٹانے کے بجائے غریبوں کو ہٹایا جارہاہے۔

انہوں نے کہا کہ فخر ملت ؒ نے 50سال قبل ’’اتحاد زندگی اور انتشار موت ‘‘ کا جو نعرہ دیا تھا اس پر پہلے سے زیادہ آج عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ مسلمانوں کو ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں بیف کے نام پر مارپیٹ ‘ قتل و غارت گری ‘ ظلم و ستم کررہے ہیں اور اس ملک کو ہندوتوا کے ایجنڈہ پر لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ شریعت کی حفاظت کے لئے اتحاد ملی کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔ مولانا ڈاکٹر سید محمود صفی اللہ حسینی قادری وقارپاشاہ نے کہا کہ قرآن کریم ایک معجزہ ہے اور اس کی 6666آیتیں بھی معجزہ ہیں۔

کسی ایک آیت تو دور کی بات ہے ایک لفظ میں تبدیلی و تحریف نہیں کی جاسکتی۔ تبدیلی کی باتیں کرنے والے ناسمجھ ہیں اور وہ قانون قدرت کو نہیں جانتے ۔ مسلمان اپنا سب کچھ لٹاسکتا ہے لیکن شریعت میں تبدیلی کو برداشت نہیں کرسکتا۔ مولانا ڈاکٹر محمدسیف اللہ نائب شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے کہا کہ مسلمان اسلامی تعلیمات کو نیوز کی طرح نہ پڑھیں بلکہ اسے اپنی زندگیوں میں رائج کریں۔ انہوں نے نوجوانوں کو قصوروار قرار دینے کے بجائے والدین کو قصوروار قرار دیا کہ انہوں نے اپنی اولاد کی اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت نہیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین اپنے مسائل اور مقدمات کے حل کے لئے عدالتوں کا رخ کرنے کے بجائے علماء سے رجوع کریں۔ انہوں نے کہا کہ طلاق انتہائی برا عمل ہے ۔ اس کی مثال بندوق کی گولی جیسا ہے ۔ جس طرح بندوق سے گولی نکل جاتی ہے اسی طرح زبان سے طلاق کے الفاظ نکل جانے پر اسے واپس نہیں لیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے پانچ انگلیوں کی طرح ہیں جو الگ ضرور ہیں لیکن بھوک لگنے پر یہ متحد ہوجاتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر اسے مکے کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ مولانا مفتی حافظ سید ضیا الدین نقشبندی شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ نے کہا کہ دین میں تبدیلی و تغیر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یکساں سیول کوڈ سے نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم طبقات کی زندگیاں بھی متاثر ہوں گی۔

غیرمسلم افراد کے لئے ہندوستان میں مختلف مقامات پر مختلف قوانین ہیں تو کس طرح انہیں اس قانون کے تحت لایا جاسکتا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ طلاق کی حوصلہ افزائی اسلام میں نہیں کی گئی ہے ۔ طلاق پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے ۔ بیوی کو حقوق اسلام کے سوا کسی نظام نے نہیں دیئے ہیں۔ مولانا مفتی عبدالمغنی مظاہری صدر سٹی جمیعت العلماء نے کہا کہ اسلامی قوانین انسانوں کے لئے رحمت ہیں۔ یہ قوانین آسمانی ہونے کی وجہ سے کامل اور جامع ترین ہیں۔
First published: Sep 27, 2016 09:39 AM IST