உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شرعی عدالتوں کو بند کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا : مولانا رابع

    بھٹکل۔ مدراس ہائی کورٹ نے مکہ مسجد میں چل رہی ایک شرعی عدالت پر پابندی لگاتے ہوئے حکومت سے کہا کہ چنئی حکومت یہ بھی یقین دہانی کرائے کہ اس طرح کی کوئی عدالت کام نہ کرنے پائے۔

    بھٹکل۔ مدراس ہائی کورٹ نے مکہ مسجد میں چل رہی ایک شرعی عدالت پر پابندی لگاتے ہوئے حکومت سے کہا کہ چنئی حکومت یہ بھی یقین دہانی کرائے کہ اس طرح کی کوئی عدالت کام نہ کرنے پائے۔

    بھٹکل۔ مدراس ہائی کورٹ نے مکہ مسجد میں چل رہی ایک شرعی عدالت پر پابندی لگاتے ہوئے حکومت سے کہا کہ چنئی حکومت یہ بھی یقین دہانی کرائے کہ اس طرح کی کوئی عدالت کام نہ کرنے پائے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      بھٹکل۔ مدراس ہائی کورٹ نے مکہ مسجد میں چل رہی ایک شرعی عدالت پر پابندی لگاتے ہوئے حکومت سے کہا کہ چنئی حکومت یہ بھی یقین دہانی کرائے کہ اس طرح کی کوئی عدالت کام نہ کرنے پائے ۔ کورٹ کے اس فیصلے کے بعد جہاں مسلم برادری کے لوگ اس  کو پرسنل لاء میں مداخلت مان رہے ہیں اور ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں وہیں اس سلسلے میں آل انڈیا ملی كونسل کی گجرات یونٹ کے صدر مفتی رضوان تارا پوری نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان اپنے کئی مسئلوں کو لے کر شرعی عدالت میں ہی جاتے ہیں اور اپنے مسئلے کا فیصلہ کرواتے ہیں، یہ ان کا حق ہے ۔ شرعی عدالت میں جانا اور وہاں کے فیصلے کو ماننا ہندوستانی قانون کے خلاف نہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش اور بہار میں سالوں سے ایسی عدالتیں کام کرتی آئی ہیں اور وہاں کی سركاری عدالتیں اس طرح کے معاملات میں کسی بھی طریقے کی دخل اندازی نہیں کرتیں  تو ایک ہی ملک میں دو دو قانون اور دو دو فیصلے کیوں۔


      انہوں نے شرعی عدالتوں کے کام کاج کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے کہا کہ شرعی عدالتیں ایسے فیصلے نہیں سناتیں جس کا اختیار سرکاری عدالتوں کو دیا گیا ہے ۔ تو پھر سرکاری کورٹ ایسے فیصلے کیوں سناتی ہے، جس سے مسلم برادری کے لوگوں کی حق تلفی ہوتی ہو۔


      وہیں اس معاملے میں شرعی عدالتوں کو بند کرنے کے مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد آج بھٹکل میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے  ای ٹی وی کے ساتھ خاص بات چیت میں کہا کہ اگر مدراس ہائی کورٹ نے شریعت کے خلاف کوئی فیصلہ دیا ہے تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے ۔ مولانا نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ عدالت کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ شرعی عدالتیں ملک کے عدالتی نظام کے مقابلے  قائم کی گئی ہیں جبکہ یہ  واضح کر دیا گیا ہے کہ  شرعی عدالتیں مذہبی مشوروں  کے لئے بنائی گئی ہیں ۔  مولانا نے واضح کیا کہ  شرعی عدالت کو متوازی عدالت کہنا صحیح نہیں ہے ۔


      First published: