உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹیپو سلطان کی شہادت کے مقام پر جائے شہادت لکھے جانے کا مطالبہ

    بنگلور : اپنی جان ومال ،سلطنت و خاندانی کی قربانی دے کرجس شخص نے ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے بچانے کے لئے جدوجہد کی آج اس کی یادگار کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہند کے ایسے شیر کو شہید کہتے ہوئے بھی اقتدار پر قابض حکمرانوں کو شرم آرہی ہے ۔

    بنگلور : اپنی جان ومال ،سلطنت و خاندانی کی قربانی دے کرجس شخص نے ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے بچانے کے لئے جدوجہد کی آج اس کی یادگار کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہند کے ایسے شیر کو شہید کہتے ہوئے بھی اقتدار پر قابض حکمرانوں کو شرم آرہی ہے ۔

    بنگلور : اپنی جان ومال ،سلطنت و خاندانی کی قربانی دے کرجس شخص نے ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے بچانے کے لئے جدوجہد کی آج اس کی یادگار کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہند کے ایسے شیر کو شہید کہتے ہوئے بھی اقتدار پر قابض حکمرانوں کو شرم آرہی ہے ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      بنگلور : اپنی جان ومال ،سلطنت و خاندانی کی قربانی دے کرجس شخص نے ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے بچانے کے لئے جدوجہد کی آج اس کی یادگار کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہند کے ایسے شیر کو شہید کہتے ہوئے بھی اقتدار پر قابض حکمرانوں کو شرم آرہی ہے ۔


      نیشنل پیس میکر فاؤنڈیشن کی ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے بنگلور پہنچے سماج وادی پارٹی اقلیتی سیل ممبئی پردیش کے صدر مولانا شبیر احمد مظاہری نے اس وقت اپنے درد کا احساس جتایا جب وہ شیر میسورشہید ٹیپو سلطان کے روضہ کی زیارت کرنے کے بعد اس مقام پر پہنچے جہاں شہید ٹیپو سلطان انگریزوں سے مورچہ لیتے ہوئے شہید ہوئے تھے ۔


      مولانا شبیر احمد نے کہا کہ شہید اعظم شہید ٹیپو سلطان کی جائے شہادت پر لگی علامتی تختی پر ’’ڈیتھ پلیس ‘‘اور ’’مرت استھل‘‘لکھا ہوا ہے جسے دیکھ کر نہایت ہی صدمہ ہوا اور لگا کہ تعصب کے چلتے یہ سب ہورہا ہے ورنہ آزادی کے بعد ایسے افراد کو جنگ آزادی کا سپاہی بتایاگیا جن کی تاریخی حقیقت کچھ اور ہی ہے ۔


      مولانا کو نیشنل پیس میکر فاؤنڈیشن کی طر ف سے ایک ایوارڈ بھی دیا گیا جس پر مولانا کا کہنا تھا کہ اس اعزاز کی خوشی کم اور اس بات سے تکلیف زیادہ ہوئی کہ شہید اعظم ٹیپو سلطان کو جو مقام ملنا چاہئے تھا وہ انہیں نہیں ملا ۔


      انہوں نے جزباتی انداز میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جوشہید ٹیپو سلطان حکومت پر قابض تھے اور چاہتے تو وقت کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہوئے انگریزوں سے ہاتھ ملا کر اپنے اقتدار اور عیش و آرام کو قائم رکھ سکتے تھے مگر انہوں نے اپنی جان کا نزرانہ دینا ضروری سمجھا اورملک کو غلام بننے سے روکنے کے لئے آخری سانس تک میدان جنگ میں ڈٹے رہے ۔ ایسی عظیم شخصیت کوآزادی کے بعد تحفہ میں یہ ملا کہ انہیں شہید کہنے سے بھی گریز کیا جارہا ہے ۔

      First published: