உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایم آئی ایم ڈائمنڈ جوبلی تقریب : مسلمان متحد اور منظم ہوں تو کھوئے وقار کو بحال کرسکتے ہیں : اکبرالدین اویسی

    اکبر الدین اویسی ۔ فائل فوٹو

    اکبر الدین اویسی ۔ فائل فوٹو

    تلنگانہ اسمبلی میں مجلس کے فلور لیڈر اکبرالدین اویسی نے کہا کہ اگر مسلمان متحد اور منظم ہوں تو اتحاد کی طاقت سے اپنے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرسکیں گے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      حیدرآباد : تلنگانہ اسمبلی میں مجلس کے فلور لیڈر اکبرالدین اویسی نے کہا کہ اگر مسلمان متحد اور منظم ہوں تو اتحاد کی طاقت سے اپنے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرسکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری صفوں میں اگر اتحاد کو مستحکم کیا جائے تو اس کے بہترین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے ہیڈ کوارٹرس دارالسلام میں کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے احیاء کے 60سال کی تکمیل پر منعقدہ ڈائمنڈجوبلی تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری اور دستوری لڑائی کے لئے مسلمانوں کو اپنے نمائندوں کو پارلیمنٹ میں روانہ کرنا چاہئے ۔
      مجلس کی جدوجہد اور مساعی کے نتیجہ میں ہی تلنگانہ ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلایا گیا۔ ریاست میں تمام مسابقتی امتحانات کو اردو میں تحریر کرنے کی سہولت فراہم کروائی گئی ۔ ملک کی کسی ریاست میں ایس سی ‘ ایس ٹی کی طرح اقلیتوں کو مراعات نہیں دیئے گئے لیکن مجلس کی نمائندگی پر تلنگانہ میں دیگر پسماندہ طبقات کے مماثل اقلیتوں کو مراعات حاصل ہورہے ہیں۔ امتحانات میں کامیابی کے لئے ایس سی ‘ ایس ٹی کی طرح کم نشانات میں اقلیتی طلبہ کی کامیابی کے لئے احکام کی اجرائی عمل میں لائی جارہی ہے ۔
      پبلک سروس کمیشن کے تحت دیگر طبقات کو تقرری میں عمر کی حد میں جو رعایت دی گئی ہے وہ بھی اقلیتوں کو حاصل ہوگی ۔ اقلیتیں بھی اب 45برس تک سرکاری ملازمت کے لئے امتحان تحریر کرسکیں گی اور دیگر پسماندہ طبقات کی طرح 8مرتبہ مسابقتی امتحانات میں شرکت کرسکیں گے ۔ اکبرالدین اویسی نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں سے مجلس پر بی جے پی کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا جارہا ہے ۔ مجلس پر الزام لگانے والوں نے گزشتہ 70برس میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی کام نہیں کیا ۔
      مجلس اپنے کام کی بنیاد پر اپنی پہچان چھوڑرہی ہے اور گزشتہ چار برسوں سے سنگھ پریوار بی جے پی اور آر ایس ایس کا صرف مجلس ہی مقابلہ کررہی ہے کوئی ساتھ دے یا نہ دے ہم حق کی لڑائی لڑتے رہیں گے۔ اکبرالدین اویسی نے ہندوستانی مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں‘مرکز سیاسی سے وابستہ ہوجائیں ‘ آپس میں خانوں میں تقسیم ہوجائیں تو لوگ ہمیں تقسیم کردیں گے ۔ اگر ہم متحدہ و منظم ہوں تو ملک کے فیصلوں کے حصہ دار بن سکتے ہیں۔
      انہوں نے کہا کہ دونوں ریاستوں تلنگانہ اور اے پی میں 4فیصد ریزرویشن کی فراہمی کا بعض لوگ دعوی کرتے ہیں اگر کانگریس اپنے دعوی میں سچی ہے تو دیگر ریاستوں میں جہاں وہ اقتدار میں تھی وہاں مسلمانوں کو ریزرویشن کیوں نہیں فراہم کئے گئے ۔ یہاں پر مجلس کی وجہ سے ریزرویشن کی فراہمی پر مجبور ہونا پڑا۔
      First published: