உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    6 نابالغ لڑکوں موبائل میں پورن فلم دیکھ کر 8 سال کی دو بچیوں کا کیا Gang Rape، رونے لگیں تو دادی نے پوچھا، بتایا پورا واقعہ

    نوجوان کی رپورٹ پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
ایپ کے ذریعے ہوا تھا رابطہ: پولیس کے مطابق اجمیر کے چوراسیواس روڈ کے رہنے والے نوجوان نے کرسچن گنج تھانے میں رپورٹ دی اور بتایا کہ 24 فروری 2022 کو خوشی ورما نامی لڑکی سے ایک ایپ کے ذریعے رابطہ ہوا تھا۔ اس کے موبائل نمبر پر رابطہ کیا۔

    نوجوان کی رپورٹ پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ایپ کے ذریعے ہوا تھا رابطہ: پولیس کے مطابق اجمیر کے چوراسیواس روڈ کے رہنے والے نوجوان نے کرسچن گنج تھانے میں رپورٹ دی اور بتایا کہ 24 فروری 2022 کو خوشی ورما نامی لڑکی سے ایک ایپ کے ذریعے رابطہ ہوا تھا۔ اس کے موبائل نمبر پر رابطہ کیا۔

    یہ پورا معاملہ باربیگھا تھانہ علاقے کا بتایا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جس کے بعد پولیس نے دو لڑکوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بچوں نے بتایا کہ انہوں نے موبائل دیکھ کر ایسا گھنونا کام کیا ہے۔

    • Share this:
      Minor girl gang rape case، شیخ پورہ۔ ملک میں وبا کورونا کی دستک کے بعد اسکول بند کر دیے گئے تھے۔ ایسے میں آن لائن کلاسز کا آغاز کیا گیا تاکہ بچوں کی پڑھائی متاثر نہ ہو۔ لیکن، اب بچوں پر موبائل فون کے مضر اثرات بچوں کی موبائل تک رسائی کی وجہ سے (Effects Of Mobile Phones On Teenagers) سامنے آرہے ہیں۔ بہت سے غلط لنکس اور ویب سائٹس (obscene video link and websites) کی وجہ سے بچے بھی سنگین جرائم کو انجام دے رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک خوفناک اور سنسنی خیز معاملہ بہار کے شیخ پورہ ضلع میں سامنے آیا ہے۔ یہاں 6 نابالغ لڑکوں نے مبینہ طور پر دو لڑکیوں کی اجتماعی عصمت دری کی۔ اس معاملے میں حیران کن بات یہ ہے کہ ان نابالغوں نے موبائل میں فحش ویڈیوز دیکھ کر یہ جرم انجام دیا ہے۔ واقعہ کے انکشاف کے بعد پولیس اور اہل خانپ میں کھلبلی مچ گئی۔

      یہ پورا معاملہ باربیگھا تھانہ علاقے کا بتایا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جس کے بعد پولیس نے دو لڑکوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بچوں نے بتایا کہ انہوں نے موبائل دیکھ کر ایسا گھنونا کام کیا ہے۔ ساتھ ہی بتایا جا رہا ہے کہ دونوں متاثرہ ایک سرکاری اسکول میں چھٹی اور ساتویں جماعت میں پڑھتی ہیں، جبکہ تینوں ملزم چھٹی جماعت میں، ایک ساتویں اور آٹھویں جماعت میں پڑھتے ہیں۔

      پولیس کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق ملزم اور متاثرہ ایک ہی گاؤں کے رہنے والے تھے۔ ملزموں میں سے ایک متاثرہ بچی کا پڑوسی بتایا جاتا ہے۔ متاثرہ خاندان نے دونوں ملزمان کو پکڑ کر مقامی پولیس کے حوالے کر دیا۔ تفتیش کے دوران لڑکوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے موبائل فون پر فحش ویڈیوز دیکھ کر یہ جرم کیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

      دونوں ملزموں کو بچوں کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
      باربیگھا پولس اسٹیشن کے ایس ایچ او جے شنکر مشرا کے مطابق، یہ واقعہ پیر کی شام اس وقت پیش آیا جب متاثرہ افراد کھیت میں سبزیاں توڑنے کا کام کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گینگ ریپ کے بعد جب دونوں لڑکیاں رونے لگیں تو لڑکوں نے لڑکی کے ہاتھ میں کچھ پیسے تھما کر کہا کہ کسی کو کچھ مت بتانا۔ شکایت کے لیے تھانے پہنچی دادی نے بتایا کہ جب میری پوتی گھر آئی تو وہ رو رہی تھی۔ اس کے بعد جب زور سے پوچھا تو اس نے ساری بات بتا دی۔ جے شنکر مشرا نے بتایا کہ دونوں متاثرین کو طبی معائنے کے لیے شیخ پورہ بھیج دیا گیا ہے۔ پکڑے گئے دونوں ملزم بچوں کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

      چھتیس گڑھ میں بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے
      غور طلب ہے کہ اس سے پہلے بھی چھتیس گڑھ کے امبیکاپور میں ایک آٹھ سالہ بچی کی موبائل فون پر فحش ویڈیو دیکھنے کے بعد نابالغوں نے اجتماعی عصمت دری کی تھی۔ گینگ ریپ کے ملزمین کی عمر صرف 6 سے 13 سال تھی۔ گھر والوں نے بچوں کو آن لائن پڑھائی کے لیے موبائل دیا تھا لیکن گھر والوں نے اس طرف توجہ نہیں دی کہ بچے کیا استعمال کر رہے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: