ہوم » نیوز » وطن نامہ

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سرجیت بھلا نے کہا : مندی نظام اب غیر متعلق ، اے پی ایم سی کیلئے لڑ رہے ہیں امیر کسان

زرعی اصلاحاتی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کو لے کر آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکر سرجیت بھلا کا کہنا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ اپوزیشن سیاسی پارٹیاں اپنی پوری توانائی کے ساتھ میدان میں اتر گئی ہیں اور پنجاب و ہریانہ کے مالدار کسانوں کو اب یہ لگتا ہے کہ ان کے غیر منصفانہ امیری کے دن اب ختم ہوچکے ہیں ۔

  • Share this:
آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سرجیت بھلا نے کہا : مندی نظام اب غیر متعلق ، اے پی ایم سی کیلئے لڑ رہے ہیں امیر کسان
آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سرجیت بھلا نے کہا : مندی نظام اب غیر متعلق ، اے پی ایم سی کیلئے لڑ رہے ہیں امیر کسان

زرعی اصلاحاتی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کو لے کر آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکر سرجیت بھلا کا کہنا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ اپوزیشن سیاسی پارٹیاں اپنی پوری توانائی کے ساتھ میدان میں اتر گئی ہیں اور پنجاب و ہریانہ کے مالدار کسانوں کو اب یہ لگتا ہے کہ ان کے غیر منصفانہ امیری کے دن اب ختم ہوچکے ہیں ۔


نیوز 18 کے ساتھ خاص انٹرویو میں سرجیت بھلا نے کہا کہ منڈی سسٹم اب غیر متعلق ہوگیا ہے اور اس سے کس کا نقصان ہورہا ہے ۔ کیا آپ اس بات کی شکایت کررہے ہیں کہ ٹائپ رائٹرس اس دور میں سسٹم سے باہر ہورہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سارے ماہرین اقتصادیات نے اصلاحات کی وکالت کی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ احتجاج کا سیاست سے کچھ تعلق ہو ۔


سرجیت بھلا نے کہا کہ اے پی ایم سی 150 سال پہلے وجود میں آیا تھا ۔ اے پی ایم سی کو مانچسٹر ملوں کیلئے روئی کی سپلائی کیلئے لایا گیا تھا ۔ کسانوں کو ریگولیٹیڈ مارکیٹ میں نوآبادیاتی آقاوں کو بیچنے پر مجبور کیا گیا تھا ۔


انہوں نے کہا کہ اگر اے پی ایم سی کے توسط سے تمام سرکاری خریداری کی بات کریں تو ابھی تک صرف چھ فیصدی کسان ہی اپنی پیداوار اے پی ایم سی کے ذریعہ فروخت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر مالدار کسان ہریانہ اور پنجاب کے باہر کے ہیں ۔ چھ فیصدی کسانوں کے پاس 60 فیصدی گیہوں کی خرید ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مالدار یہ نہیں چاہتے ہیں کہ ان کی مالداری چلی جائے خاص کر اگر یہ نا حق ہو ۔ پنجاب اور ہریانہ سبز انقلاب کے علمبردار رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور ہریانہ مالدار ریاستیں ہیں ، مگر آوٹ پٹ میں نیچے ہیں ۔ پنجاب اور ہریانہ کے مقابلہ میں دیگر ریاستوں میں آوٹ پٹ کی شرح ڈبل ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 13, 2020 01:46 PM IST