ہوم » نیوز » وطن نامہ

Mission Paani: گریٹا تھنبرگ سے کم نہیں ہندوستان کی لسیپریا کنگوجم، 6 سال کی عمر سے کر رہی ہیں ماحولیات بچانے کی کوشش

News18 Mission Paani: منی پور کی یہ کارکن گزشتہ دو سالوں سے ماحولیات کے تئیں بیداری کو فروغ دینے اور اسکولوں میں ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change) کے بارے میں سکھائے جانے پر زور دے رہی ہے۔

  • Share this:
Mission Paani: گریٹا تھنبرگ سے کم نہیں ہندوستان کی لسیپریا کنگوجم، 6 سال کی عمر سے کر رہی ہیں ماحولیات بچانے کی کوشش
گریٹا تھنبرگ سے کم نہیں ہندوستان کی لسیپریا کنگوجم، 6 سال کی عمر سے کر رہی ہیں ماحولیات بچانے کی کوشش

نئی دہلی: آپ کو گریٹا تھنبرگ (Greta Thunberg) یاد ہوگی، جس نے موسمیاتی تبدیلی کو لے کر کئی بڑے لیڈروں پر سوال اٹھائے تھے۔ ایسی ہی ایک بچی لسیپریا کنگوجم (Licypriya Kangujam) ہندوستان میں بھی ہے، جو ماحولیات کے خلاف لوگوں کو بیدار کرنے کا کام کر رہی ہے۔ کنگوجم دنیا کی سب سے چھوٹی ماحولیات کارکن ہیں، وہ مانتی ہیں کہ ان کی زندگی میں گریٹا تھنبرگ کا کافی اثر ہے۔


سال 2019 میں محض 8 سال کی عمر میں ہی لسیپریا کنگوجم نے میڈرڈ میں منعقدہ یونائیٹیڈ نیشنس کلائمیٹ کانفرنس (COP25)۔ اس پروگرام میں انہوں نے تاریخی تقریر کی تھی اور شہر کو بچانے کی قسم کھائی تھی۔ میڈرڈ میں دی اپنی تقریر میں انہوں نے دنیا کو کہا تھا کہ یہ ردعمل دینے کا وقت ہے۔ اس پروگرام کے دوران پوری دنیا کے کاربن بازاروں کو لے کر چرچا کی گئی تھی، جس میں کئی کارکنان کو بلایا گیا تھا۔


منی پور کی یہ کارکن گزشتہ دو سالوں سے ماحولیات کے تئیں بیداری بڑھانے اور اسکولوں میں آب و ہوا کی تبدیلی کے بارے میں سکھائے جانے پر زور دے رہی ہے۔ ان سے سوال کئے گئے کہ جب لیڈروں کو ان کے پیدا ہونے کے پہلے سے ہی موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں معلوم ہے، تو وہ کیوں کھیلنا اور اسکول چھوڑ کر یہاں موجود ہیں۔ انہوں نے اس پروگرام کے دوران گریٹا تھنبرگ سے بھی ملاقات کی تھی۔


ماحولیات کو بچانے کی قواعد لسیپریا کنگوجم نے 6 سال کی عمر میں ہی شروع کردی تھی۔ انگریزی اخبار ’دی ہندو’ کو دیئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ کیسے وہ ایک آفت سے متعلق میٹنگ میں شامل تھیں اور اس کا ان پر کتنا اثر پڑا۔ اس کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ ہم ہمارے شہر کے ساتھ کیا کر رہے ہیں اور اسے کیسے ختم کر رہے ہیں۔ قدرتی آفات کے ساتھ بے گھر ہوئے لوگوں کے ساتھ انہوں نے ملاقات کی۔ وہیں، انہوں نے پوری دنیا کے دوسرے کارکنان سے بھی ملی اور مہم میں شامل ہوچکی ہیں۔



لسیپریا کنگوجم بڑے ہوکر ایک اسپیس سائنٹسٹ بننا چاہتی ہیں، لیکن انہیں اپنے یادگار خطاب کے لئے حکومت سے کوئی مدد نہیں ملی ہے۔ حکومت کے سامنے کی گئی کئی اپیلوں کے باوجود انہیں خود ہی پیسوں کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔

(آپ بھی پانی بچانے کے لئے ہارپک - نیوز 18 مشن پانی مہم کا حصہ بنئے۔ ساتھ ہی پانی بچانے کی عہد کیجئے)
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 23, 2021 07:18 PM IST