உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    20دن بعد نصیب ہوگی ملک کی مٹی-Ukraineمیں مارے گئے نوین شیکھرپا کی نعش پیر کو آئے گی وطن واپس، یکم مارچ کو ہوئی تھی موت

    یوکرین میں مارے گئے نوین کی نعش پیر کو آئے گی وطن واپس۔

    یوکرین میں مارے گئے نوین کی نعش پیر کو آئے گی وطن واپس۔

    نوین کے ساتھ پڑھنے والے امیت ویشیار نے بتایا تھا کہ طلباء کا گروپ پیر کو چلا گیا تھا، لیکن نوین نے کہا کہ تھوڑا انتظار کریں، تاکہ جونیئرز کو بھی ساتھ لے جایا جا سکے۔ نوین نے کہا کہ انہیں یوکرین آئے بہت کم وقت ہوا ہے۔ وہ سب بدھ کی صبح خارکیف سے نکلنے والے تھے۔ منگل کو جب وہ کھانا لینے گیا تو اس کی موت ہوگئی۔

    • Share this:
      بنگلورو: یوکرین میں روسی حملے میں مارے گئے میڈیکل کے طالب علم نوین شیکھرپا کی نعش پیر کو بنگلورو پہنچے گی۔ یہ معلومات کرناٹک کے وزیر اعلی بسواراج بومائی نے شیئر کی ہے۔ حالانکہ اس سے قبل انہوں نے غلط ٹویٹ کیا تھا۔ بعد میں، اس کو درست کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ نوین کی لاش اتوار کو نہیں بلکہ 21 مارچ بروز پیر سہ پہر 3 بجے بنگلور پہنچے گی۔

      21 سالہ نوین کا گھر کرناٹک کے ہاویری ضلع میں ہے۔ وہ کھارکیو نیشنل یونیورسٹی میں میڈیکل کا طالب علم تھا۔ ان کی موت کے بعد نوین کی لاش کو کھارکیو میڈیکل یونیورسٹی کے مردہ خانے میں رکھا گیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ICJ: بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں روسی جنگ کےخلاف ہندوستانی جج نے دیاووٹ! کون ہیں یہ؟

      نوین کے ساتھ کیا ہوا تھا اُس دن
      نوین کے ساتھ ہاسٹل میں رہنے والے سریدھرن گوپال کرشنن نے بتایا تھا- یوکرین کے وقت کے مطابق صبح 10.30 بجے نوین راشن کی دکان کے سامنے کھڑا تھا۔ اسی وقت روسی فوج نے لوگوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ ہمارے پاس اس کی لاش کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ ہم میں سے کسی کو بھی ہسپتال جانے کی اجازت نہیں تھی تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ اس کی لاش کہاں رکھی گئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Crude Oil پر مودی حکومت کی مشکل: روس سے سستاخام تیل خریدنے کی خواہش پرامریکہ نے کیاخبردار

      نوین کے ساتھ پڑھنے والے امیت ویشیار نے بتایا تھا کہ طلباء کا گروپ پیر کو چلا گیا تھا، لیکن نوین نے کہا کہ تھوڑا انتظار کریں، تاکہ جونیئرز کو بھی ساتھ لے جایا جا سکے۔ نوین نے کہا کہ انہیں یوکرین آئے بہت کم وقت ہوا ہے۔ وہ سب بدھ کی صبح خارکیف سے نکلنے والے تھے۔ منگل کو جب وہ کھانا لینے گیا تو اس کی موت ہوگئی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: