ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک میں امن و سادگی کے ساتھ منایا گیا یوم عاشورہ، قانون کی پاسداری کے ساتھ ہوئی عزاداری

کورونا کی وبا کے پیش نظر ریاستی حکومت نے صرف مجلسوں اور الم پاک، تعزیہ اور تابوت ایستادہ کرنے کی اجازت دی تھی۔ لہذا حکومت کی ہدایتوں کی مکمل طور پر پاسداری کرتے ہوئے ریاست کے ہر چھوٹے بڑے شہر یہاں تک کہ دیہاتوں میں 10 محرم کا اہتمام کرتے ہوئے شہدائے کربلا کو یاد کیا گیا۔

  • Share this:
کرناٹک  میں امن و سادگی کے ساتھ منایا گیا یوم عاشورہ، قانون کی پاسداری کے ساتھ ہوئی عزاداری
کرناٹک

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے نواسے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو یاد کرتے ہوئے کرناٹک بھر میں یوم عاشورہ منایا گیا۔ تاریخ میں شائد یہ پہلا موقع ہوگا کہ پوری ریاست میں جلوس کے بغیر یوم عاشورہ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ کورونا کی وبا کے پیش نظر ریاستی حکومت نے صرف مجلسوں اور الم پاک، تعزیہ اور تابوت ایستادہ کرنے کی اجازت دی تھی۔ لہذا حکومت کی ہدایتوں کی مکمل طور پر پاسداری کرتے ہوئے ریاست کے ہر چھوٹے بڑے شہر یہاں تک کہ دیہاتوں میں 10 محرم کا اہتمام کرتے ہوئے شہدائے کربلا کو یاد کیا گیا۔بنگلورو میں شیعہ مسلمانوں کی مرکزی مسجد، مسجد عسکری میں اعمال عاشورہ ادا کرنے کے بعد ایک کے بعد ایک مجلسیں منعقد ہوئیں۔ مسجد عسکری کے علاوہ کئی چھوٹے بڑے عاشور خانوں میں مجلس عزا کا اہتمام کیا گیا۔ سماجی فاصلہ، ماسک، سنیٹائزر اور دیگر تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی یاد میں مجلسوں اور عزاداری کا انعقادعمل میں آیا۔ انجمن امامیہ بنگلورو کے صدر میر علی رضا نجفی نے کہا کہ کورونا کی وبا کے پیش نظر حکومت کی ہدایات پر مکمل طور پر عمل کیا گیا ہے۔


انہوں نے کہا کہ صرف 8 سے 10 لوگوں کو الم پاک کو کربلا (شیعہ آرام گاہ) لے جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ کورونا کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ کا مکمل تعاون حاصل رہا اور عزا داروں نے بھی صبر کا مظاہرہ کیا۔انجمن امامیہ کے سکریٹری سید محمد عباس نے کہا کہ جانسن مارکیٹ سے لیکر شیعہ قبرستان تک بڑے پیمانے پر ہر سال 10 محرم کا جلوس برآمد کیا جاتا تھا، 20 ہزار سے زائد لوگ بنگلورو کے مرکزی جلوس میں شرکت کیا کرتے تھے۔ اس ماتمی جلوس میں نہ صرف مقامی شیعہ اور سنی مسلمان بلکہ بنگلورو میں رہنے والے بیرون ریاست اترپردیش، دہلی، جموں و کشمیر کے عزادار بھی شامل ہوا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ بنگلورو میں پڑھائی کرنے والے ایران اور عراق کے طلبہ بھی اپنی الگ الگ جماعتیں بنا کر جلوس میں شامل ہوا کرتے تھے۔ سید محمد عباس نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس بار کے حالات مختلف ہیں۔ دنیا بھر میں پھیلی کورونا کی بیماری کی وجہ سے جلوس نکالنے سے عزادار قاصر ہیں۔ لیکن اللہ تعالٰی سے دعا گو ہیں کہ جلد سے جلد کورونا وائرس کی وبا کا خاتمہ ہو۔


مسجد عسکری کے خطیب و امام مولانا محمد ابراہیم نے مرکزی مجلس سے خطاب کیا۔ مولانا سرکار عابدی، مولانا قائم عباس اور دیگر علماء کرام نے یوم عاشورہ کے موقع پر منعقدہ مجلسوں سے خطاب کیا شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ اور واقعہ کربلا پر روشنی ڈالی۔ دوسری جانب بنگلورو کے قریب واقع علی پور میں بھی سادگی کے ساتھ یوم عاشورہ کا اہتمام کیا گیا۔ علی پور میں ہر سال کی طرح اس بار بھی انجمن جعفریہ کے تحت مجلسیں برپا کی گئیں۔ ہرسال یہاں تین سے چار مقامات پر یوم عاشورہ کی مجلس ہوا کرتی تھی لیکن اس بار سماجی فاصلے برقرار رکھنے کی وجہ سے علی پور میں ایک ساتھ 20 جگہوں پر مجلسوں کا انعقاد ہوا۔ ذاکر اہل بیت ناطق علی پوری نے کہا کہ عام طور پر یوم عاشورہ کے موقع پر تین الگ الگ اوقات میں مجلسیں ہوتی ہیں۔ اس لحاظ سے پوری علی پور میں یوم عاشورہ کے موقع پر صبح سے شام تک 60 مجلسیں منعقد ہوئی ہیں جو اپنے آپ میں ایک تاریخ ہے۔ علی پور کے امام جمعہ مولانا سید محمد علی، مولانا سید سلمان عابدی، مولانا سید اظہر حسین، مولانا دلاور حسین، مولانا محفوظ علی اور دیگر علماء کرام نے یوم عاشورہ کی مجلسوں سے خطاب کیا۔


علی پور کا ماتمی جلوس کرناٹک بھر میں مشہور ہے لیکن اس بار جلوس برآمد نہیں ہوا۔ تاہم عاشور خانوں کے احاطوں میں ہی عزاداری اور ماتم کرتے ہوئے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو یاد کیا گیا۔ بنگلورو میں سنی تنظیموں اور اداروں نے بھی یوم عاشورہ منایا۔ کئی فرزندان توحید نے اس موقع روزوں کا خصوصی طور پر اہتمام کیا۔ بنگلورو کی یہ روایت رہی ہے کہ ماہ محرم کے آغاز سے ہی یہاں کی درگاہوں، خانقاہوں میں الم اور تعزیہ ایستادہ کئے جاتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ کہیں پانچ تو کہیں سات محرم سے الم بٹھائےگئے۔ درگاہ حضرت توکل مستان شاہ سہروردی، درگاہ حضرت مانک شاہ رحمت اللہ علیہ، درگاہ حضرت یقین شاہ رحمت اللہ علیہ، درگاہ حضرت کمبل پوش رحمت اللہ علیہ، درگاہ حضرت رئیس قادر حسین اولیاء میں بٹائے گئے الم اور تعزیہ مبارک کو یوم عاشورہ کے موقع پر اٹھایا گیا اور آیا درگاہوں کے احاطے میں ہی ان الم اور تعزیہ کو خاموش کیا گیا۔ 1400 سال سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کو پوری دنیا میں یاد کیا جاتا رہا ہے اور رہتی دنیا تک اس شہادت کے غم کو منایا جاتا رہے گا۔ اسلام کی بقا، سربلندی، حق اور صداقت کیلئے شہید ہوئے کربلا کے جیالوں کو دنیا ہمیشہ سلام پیش کرتی رہے گی۔ معروف شاعر صوفی عادل ادیب اشرفی فرماتے ہیں کہ سب کچھ لٹا کے دین کی خاطر حسین نے سمجھا دیا جہاں کو یہ راز وفا ہے کیا۔
Published by: sana Naeem
First published: Aug 30, 2020 08:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading