உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hanuman Chalisa: ہنومان چالیسہ معاملے، ممبئی کی خصوصی عدالت نے رانا جوڑے کو دے دی ضمانت

    Youtube Video

    ضمانت کی درخواستوں پر بحث کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ آباد پونڈہ اور ایڈوکیٹ رضوان مرچنٹ نے استدلال کیا کہ دونوں کا نفرت پھیلانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، جیسا کہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک شہری کو حکومت پر تنقید کرنے کا حق ہے جب تک کہ وہ تشدد کو ہوا نہ دے۔ ہنومان چالیسہ کا نعرہ لگا کر تشدد بھڑکانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

    • Share this:
      ایک خصوصی عدالت نے بدھ کے روز ماتوشری ہنومان چالیسہ کیس (Matoshree- Hanuman Chalisa case) میں آزاد ایم پی-ایم ایل اے جوڑے نونیت اور روی رانا کو ضمانت دے دی ہے۔ ضمانت دیتے ہوئے عدالت نے کچھ شرائط عائد کیں اور جوڑے کو خبردار کیا کہ وہ ضمانت پر رہتے ہوئے ایسا جرم نہ کریں اور ضمانت کے حکم کی خلاف ورزی ضمانت کی منسوخی کا باعث بنے گی۔

      سیشن کورٹ نے جوڑے سے تفتیش اور پوچھ گچھ میں تعاون کرنے کو کہا ہے۔ پولیس کو 24 گھنٹے کا پیشگی نوٹس جاری کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ رانا کو کیس سے متعلق کسی بھی موضوع پر میڈیا سے بات کرنے اور شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

      اس جوڑے کو 23 اپریل کو شیوسینا کے سپریمو اور مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی خاندانی رہائش گاہ 'ماتوشری' کے سامنے ہنومان چالیسہ پڑھنے کی کال کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ مذکورہ جوڑے نے ماتوشری کے باہر ہنومان چالیسہ کا نعرہ لگانے کا اپنا منصوبہ ترک کر دیا تھا، لیکن بعد میں ممبئی پولیس نے ان پر تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا، جس میں بغاوت اور گروہوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔

      ضمانت کی درخواستوں پر بحث کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ آباد پونڈہ اور ایڈوکیٹ رضوان مرچنٹ نے استدلال کیا کہ دونوں کا نفرت پھیلانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، جیسا کہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک شہری کو حکومت پر تنقید کرنے کا حق ہے جب تک کہ وہ تشدد کو ہوا نہ دے۔ ہنومان چالیسہ کا نعرہ لگا کر تشدد بھڑکانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

      مزید پڑھیں: راج ٹھاکرے کی مشکلات میں ہوگا اضافہ؟ پہلے سے ہی جاری ہے غیر ضمانتی وارنٹ

      پولیس نے ان کی درخواست ضمانت کی مخالفت کی تھی۔ کھار پولیس کے ذریعہ داخل کردہ ایک حلف نامہ میں کہا گیا تھا کہ جوڑے کی طرف سے مذہب کے نام پر تشدد بھڑکانے اور امن و امان کی صورتحال پیدا کرنے کی کارروائیاں مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی حکومت کو تحلیل کرنے کی ایک بڑی سازش کا حصہ تھیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: