உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم پرسنل لا بورڈ اجلاس : طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کرنے والوں میں اویسی کا نام شامل نہ کرنے پر اعتراض

    آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی: فائل فوٹو۔

    آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی: فائل فوٹو۔

    پارلیمنٹ میں طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کرنے والے سیاسی لیڈروں کی فہرست میں رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی کا نام نہ ہونے پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک مندوب کی جانب سے اعتراض کیا گیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      حیدرآباد : پارلیمنٹ میں طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کرنے والے سیاسی لیڈروں کی فہرست میں رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی کا نام نہ ہونے پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک مندوب کی جانب سے اعتراض کیا گیا۔حیدرآباد میں جاری بورڈ کے اجلاس میں بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی کی جانب سے رپورٹ کی پیشکشی کے موقع پر انہوں نے کانگریس کے بعض لیڈروں کے نام لئے جن میں احمد پٹیل‘ رحمن خان ،آنند شرما اور غلام نبی آزاد کا ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ ان لیڈورں نے طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کی تھی۔ مولانا ولی رحمانی نے کہا کہ انہوں نے مختلف اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں سے ملاقات کرتے ہوئے اس بل سے واقف کروایا تھا۔ کانگریس نے اس بل کی مخالفت کی ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں غلام نبی آزاد‘ آنند شرما کے ناموں کا حوالہ دیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
      اس موقع پر بورڈ کے ایک مندوب کی جانب سے رکن پارلیمنٹ حیدرآباد و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسد الدین اویسی جو بورڈ کے عاملہ کے رکن بھی ہیں ، کا نام نہ لئے جانے پر اعتراض کیا ۔ مولانا ڈاکٹر سید متین الدین قادری نے اس پر سوال اٹھائے اور صدر مجلس کا نام نہ لئے جانے پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے ہی اس بل کی شدومد کے ساتھ مخالفت کی تھی۔ لیکن اس بل کی مخالفت کرنے والے لیڈروں میں ان کا نام شامل نہیں ہے۔ انہوں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا۔بیرسٹر اویسی کی ستائش کرنے کی بجائے ایسی جماعت کے لیڈروں کی تائید کی جارہی ہے جن کی پارٹی نے بل کی تائید کی تھی۔
      مولانا متین قادری نے کہاکہ بیرسٹراویسی اور مسلم لیگ کے رکن پارلیمنٹ بشیر نے اس بل کی شدید مخالفت کی تھی ۔ان کانام شامل نہ کرنا غلط اور افسوسناک بات ہے۔متین قادری نے کہا کہ اس مسئلہ پر انہوں نے جب توجہ دلائی تو اس غلطی کو تسلیم کرلیا گیا اور مولانا ولی رحمانی جنرل سکریٹری بورڈ نے توجہ دلانے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
      First published: