ہوم » نیوز » وطن نامہ

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مفتی اعجاز ارشد قاسمی کا انتقال ، سرکردہ لوگوں کا اظہار رنج و غم

معروف عالم دین، مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور دارالعلوم دیوبند کے سابق ترجمان مفتی اعجاز ارشد قاسمی کا آج نئی دہلی میں ایک پرائیویٹ اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ وہ کورونا پوزیٹیو تھے۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 17, 2021 07:24 PM IST
  • Share this:
مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مفتی اعجاز ارشد قاسمی کا انتقال ، سرکردہ لوگوں کا اظہار رنج و غم
مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مفتی اعجاز ارشد کا انتقال ، سرکردہ لوگوں کا اظہار رنج و غم

نئی دہلی : معروف عالم دین، مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور دارالعلوم دیوبند کے سابق ترجمان مفتی اعجاز ارشد قاسمی کا آج یہاں ایک پرائیویٹ اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ وہ کورونا پوزیٹیو تھے اور ان کا علاج ایک پرائیوٹ اسپتال میں چل رہا تھا چل رہا تھا۔ ان کی عمر تقریباً 46 سال تھی۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹی، ایک بیٹا اور والدین ہیں۔


وہ کورونا سے متاثر ہونے کے بعد گھر پر ہی علاج کروارہے تھے ، لیکن دو دن قبل ان کی حالت بگڑنے پر ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ حالت مزید بگڑنے پر اس اسپتال نے دوسری جگہ ریفر کردیا تھا ، لیکن کسی بھی بڑے پرائیویٹ اسپتال میں بیڈ نہ ملنے کے سبب انہیں جی ٹی بی ریفر کردیا گیا تھا لیکن ان کی حالت بگڑتی گئی اور آج انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔


مفتی اعجاز ارشد کئی شعبوں میں سرگرم تھے۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد کئی اخبارات سے وابستہ رہے اور دارالعلوم دیوبند کے ترجمان کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ حال ہی میں دنیا کو داغ مفارقت دینے والے مشہور عالم دین اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا سید ولی رحمانی کے قریبی تھے اور ان کے ساتھ کئی امور پر کام کیا تھا۔ ملی سماجی اور سیاسی سرگرمیوں کے سبب انہیں مسلم پرسنل لاء بورڈ کا رکن بنایا گیا تھا۔ وہ چینل کے مباحثے میں بھی حصہ لیتے تھے۔ ملی اور عائلی معاملات پر دفاع کرتے تھے اور شرعی معاملات میں اپنا موقف پیش کرتے تھے۔


وہ جمعیۃ علما ہند سے بھی کچھ دنوں تک منسلک رہے، دہلی وقف بورڈ کے رکن بھی رہے اس کے علاوہ کئی اداروں کے بھی رکن رہے۔ انہوں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) سے پی ایچ ڈی بھی کی تھی۔ وہ بہت ملنسار اور لوگوں کے کام آنے والے شخص تھے۔ انہوں نے کم عرصے میں اپنی شناخت بنائی تھی۔ ان کی پہنچ سیاسی لیڈروں اور سیاسی پارٹیوں تک بھی تھی اور کئی سیاسی لیڈروں کے ساتھ انہوں نے کام بھی کیا تھا۔

ادھر مفتی اعجاز ارشد کے بھانجے ناہید حسین نے بتایا کہ ہم لوگ جسد خاکی کو بہار لے جانا چاہتے ہیں ، ہماری مدد کریں ، لیکن اب تک لاش کو ریلیز نہیں کیا گیا ہے۔ کئی دیگر شخصیات بھی اسپتال پہنچ چکی ہیں ۔ اب تک ان کی تدفین کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ اگر بہار لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی تو ان کی تدفین دہلی گیٹ قبرستان میں ہوسکتی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 17, 2021 07:22 PM IST