ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

مسلم پرسنل لا میں مداخلت کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل کا بورڈ کا سخت احتجاج ، ارکان بورڈ نے جاری کیا بیان

دستور میں ملک کے ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق عقیدہ رکھنے، مذہب پر عمل کرنے اور مذہب کی تبلیغ کرنے کا حق دیا گیا ہے، مذہب پر عمل کرنے میں مسلم پرسنل لا شامل ہے

  • UNI
  • Last Updated: Oct 10, 2016 04:40 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مسلم پرسنل لا میں مداخلت کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل کا بورڈ کا سخت احتجاج ، ارکان بورڈ نے جاری کیا بیان
علامتی تصویر

حیدرآباد: مولانا سید شاہ اکبر نظام الدین حسینی صابری رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، مولانا سید قبول بادشاہ شطاری رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، مولانا محمد حسام الدین ثانی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، مولانا سید مسعود حسین مجتہدی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، محمد رحیم الدین انصاری رکن عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایک صحافتی بیان جاری کرکے کہا ہے کہ مسلم پرسنل لا قرآن وحدیث پر مبنی قانون ہے،اس میں نہ پارلیمنٹ تبدیلی کرنے کا اختیار رکھتی ہے اور نہ عدالت اپنے طور اس کی تشریح کرنے کا حق رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دستور میں ملک کے ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق عقیدہ رکھنے، مذہب پر عمل کرنے اور مذہب کی تبلیغ کرنے کا حق دیا گیا ہے، مذہب پر عمل کرنے میں مسلم پرسنل لا شامل ہے، مختلف عدالتی فیصلوں میں اس کی صراحت موجود ہے اور ہندوستان میں تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ ان پر ان کے شرعی قوانین ہی نافذ ہوتے ہیں، اس کے باوجود حکومت ہند کا سپریم کورٹ میں مسلم پرسنل لا کے مغائر بیان داخل کرنا یقینامسلمانوں کو ان کے مذہبی حقوق سے محروم کرنے کی زبردست سازش ہے اور یہ ملک کے سیکولر اور جمہوری کردار کے لئے سیاہ دن ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی صورت حال یہ ہے کہ مسلمانوں میں طلاق اور تعدد ازدواج کی شرح دوسری تمام مذہبی اکائیوں سے کم ہے۔ حکومت ہند نے جو موقف اختیار کیا ہے و ہ پوری طرح اس کے فرقہ پرستانہ ایجنڈے کے مطابق ہے اور یہ بڑی بد بختانہ بات ہے کہ حکومت نے اس بات کا لحاظ نہیں رکھا کہ وہ پارٹی کے اعتبار سے جو بھی نظریہ رکھتی ہو، لیکن وہ ملک کے تمام شہریوں کی نمائندہ ہے اور تمام طبقات کے حقوق کا تحفظ اس کی ذمہ داری ہے، مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے حکومت کے اس رویہ کے خلاف اپنا احتجاج درج کرائیں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی آواز پر لبیک کہیں، نیز تین طلاقوں کے مسئلہ پر آپس میں الجھنے سے بچیں، کیونکہ فرقہ پرست عناصر نے اس مسئلہ کو ا ٹھایا ہی اسی لئے ہے کہ مسلمانوں میں مسلکی اختلافات کو ہوادی جائے اور ان کے اتحاد میں شگاف ڈالنے کی کوشش کی جائے۔

First published: Oct 10, 2016 04:40 PM IST