உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    الہ آباد ہائی کورٹ کے جج کا تین طلاق سے متعلق تبصرہ ہندوستانی مسلمانوں کو منظور نہیں : ڈاکٹر اسماء زہرہ

    ڈاکٹر اسماء زہرہ چیف آرگنائیزر شعبہ خواتین آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ ہمارا ملک ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے ،جس میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی پوری آزادی دی گئی ہے

    ڈاکٹر اسماء زہرہ چیف آرگنائیزر شعبہ خواتین آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ ہمارا ملک ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے ،جس میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی پوری آزادی دی گئی ہے

    ڈاکٹر اسماء زہرہ چیف آرگنائیزر شعبہ خواتین آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ ہمارا ملک ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے ،جس میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی پوری آزادی دی گئی ہے

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      حیدرآباد: ڈاکٹر اسماء زہرہ چیف آرگنائیزر شعبہ خواتین آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ ہمارا ملک ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے ،جس میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی پوری آزادی دی گئی ہے ۔ بحیثیت فرد اور کمیونٹی کے ہم کو یہ حق اور یہ اختیار دیا گیا ہے کہ ہم اپنے نجی اور عائلی معاملات اپنے مذہب کے قوانین کے مطابق طے کریں۔
      مسلم پرسنل لا کے جو قوانین ہیں وہ قرآن اور حدیث سے اخذ کئے گئے ہیں اور یہ جو قوانین اس کے مطابق ہمارے ملک ہندوستان میں مسلمان گزشتہ 60سالوں سے عمل پیرا ہیں ۔ اسی کے مطابق ہم اپنے معاملات کے فیصلے بھی کرتے ہیں ۔ الہ آباد ہائیکورٹ کے جج سنیت کمار کے 8دسمبر کے جو ریمارکس سامنے آئے ہیں وہ کوئی فیصلہ نہیں ہے بلکہ جج صاحب کی انفرادی رائے ہے ۔ جس کو پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا غیرضروری طور پر بڑھاچڑھاکر پیش کررہا ہے ۔
      ڈاکٹر اسماء زہرہ نے مزید کہا کہ مسلم پرسنل لا کے جو قوانین طلاق ہیں اس میں اگر کسی طرح کی تبدیلی کی جائے تو وہ غیردستوری ہے اور دوسرا یہ کہ مسلم پرسنل لا دستور ہند کا اہم حصہ ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جو مسلمانان ہند کے تمام مکاتیب اور فکر گروہ ‘مسالک اور جماعتوں کا متحدہ پلیٹ فارم ہے اس نے سپریم کورٹ میں اپنی درخواست داخل کی ہے جس کی سماعت کی تاریخ ابھی تک نہیں آئی ہے ۔
      سپریم کورٹ میں طلاق سے متعلق جو مقدمہ زیردوران اس کا الہ آباد ہائیکورٹ کے ریمارکس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ڈاکٹر اسماء زہرہ نے کہا کہ 100فیصد مسلم خواتین مسلم پرسنل لا کی حمایت کررہی ہیں اور وہ ان میں کسی بھی طرح کی تبدیلی نہیں چاہتی ۔ مسلم پرسنل لا کے تحت مسلم سماج میں خواتین کو باعزت اور محفوظ مقام حاصل ہے ۔ اگر طلاق کا دروازہ بند کردیا جائے تو ظلم و زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔
      مسلم معاشرہ میں طلاق ایک مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ کا حل ہے اور حکم یہ ہے کہ اگر عورتوں کو اپنے نکاح میں رکھو تو احسن طریقہ سے رکھو اور اگر رخصت کرو تو احسن طریقہ سے رخصت کرو ۔ یعنی کہ اسلام میں طلاق دینے کا جو طریقہ ہے وہ آسان اور سہل بنایا گیا ہے تاکہ فریقین ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو جو حق و انصاف مذہب اسلام میں دیا گیا ہے وہ کسی اور مذہب میں اور کسی تہذیب میں خواتین کو نہیں دیا گیا۔ میڈیا مسلم خواتین سے ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے طلاق کو ظلم و زیادتی قرار دے رہا ہے جبکہ مسلم خواتین میڈیا کے ان تمام ناپاک سازشوں اور غیرضروری ہمدردیوں سے اچھی طرح واقف ہوگئی ہیں۔
      ڈاکٹر اسماء زہرہ نے کہا کہ مسلم پرسنل لا کے قوانین میں اگر مداخلت کی جائے گی تو اسے اقلیتوں کو دستور ہند میں دی گئی آزادی پر حملہ سمجھا جائے گا اور مسلمان ہند جمہوری طریقہ کو اختیار کرتے ہوئے اپنے حقوق کی حفاظت متحدہ اور منظم انداز میں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بعض نام نہاد خواتین کی تنظیمیں اور آندولن میڈیا میں اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی فیصلہ قرار دے رہی ہیں جو سراسر غلط اور دروغ گوئی پر مبنی ہیں۔
      ایسی آزاد ذہن رکھنے والی خواتین سے انہوں نے گزارش کی ہے کہ وہ پہلے اسلام کے عائلی قوانین کا بغور مطالعہ کریں ۔ڈاکٹر اسماء زہرہ نے کہا کہ 20کروڑ مسلمانان ہند مسلم پرسنل لا بورڈ کے ساتھ تحفظ شریعت کے لئے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور بورڈ کی مہم کی حمایت میں 2کروڑ سے زائد دستخط موصول ہوچکے ہیں ۔
      First published: