உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلمانوں نے ملک کوسیکولرآئین دیا : قاضی محمد انیس الحق

    بنگلورو: مسلمانوں نے اس ملک کو سیکولر آئین د یا ہے۔ دہلی کا قطب مینار اس بات کا گواہ ہے۔ صوفیائے کرام نےاپنی تعلیمات اور اعمال کے ذریعہ ہرایک کے دل میں جگہ بنائی۔اسلام کے پیغام امن وانسانیت کوعام کیا۔ ان خیالات کا اظہار ملک کا آئی ٹی مرکز سمجھے جانے والے شہر بنگلورو میں صوفی ازم پر منعقدہ سمینار میں مقررین نے کیا ۔

    بنگلورو: مسلمانوں نے اس ملک کو سیکولر آئین د یا ہے۔ دہلی کا قطب مینار اس بات کا گواہ ہے۔ صوفیائے کرام نےاپنی تعلیمات اور اعمال کے ذریعہ ہرایک کے دل میں جگہ بنائی۔اسلام کے پیغام امن وانسانیت کوعام کیا۔ ان خیالات کا اظہار ملک کا آئی ٹی مرکز سمجھے جانے والے شہر بنگلورو میں صوفی ازم پر منعقدہ سمینار میں مقررین نے کیا ۔

    بنگلورو: مسلمانوں نے اس ملک کو سیکولر آئین د یا ہے۔ دہلی کا قطب مینار اس بات کا گواہ ہے۔ صوفیائے کرام نےاپنی تعلیمات اور اعمال کے ذریعہ ہرایک کے دل میں جگہ بنائی۔اسلام کے پیغام امن وانسانیت کوعام کیا۔ ان خیالات کا اظہار ملک کا آئی ٹی مرکز سمجھے جانے والے شہر بنگلورو میں صوفی ازم پر منعقدہ سمینار میں مقررین نے کیا ۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      بنگلورو: مسلمانوں نے اس ملک کو سیکولر آئین د یا ہے۔ دہلی کا قطب مینار اس بات کا گواہ ہے۔ صوفیائے کرام نےاپنی تعلیمات اور اعمال کے ذریعہ ہرایک کے دل میں جگہ بنائی۔اسلام کے پیغام امن وانسانیت کوعام کیا۔ ان خیالات کا اظہار ملک کا آئی ٹی مرکز سمجھے جانے والے شہر بنگلورو میں صوفی ازم پر منعقدہ سمینار میں مقررین نے کیا ۔


      دلچسپ بات یہ تھی کہ دنیا کے موجودہ حالات کے پیش نظر شہر کے چند آئی ٹی پروفیشنلز نے اس سمینار کا اہتمام کیا تھا ۔ اس موقع پرتصوف کی اہمیت اور ضرورت پر مقالے پیش کئے گئے۔ دوردرشن کے وظیفہ یاب ڈپٹی ڈائریکٹرجنرل قاضی محمد انیس الحق نےکہاکہ مسلمانوں نے اس ملک کوسیکولرآئین دیا ہے۔ دہلی کا قطب مینارملک کے سیکولرآئین کی تصدیق کرتاہے۔


      اس موقع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق پرو وائس چانسلر پروفیسر حسن علی شاہ جعفری اورحیدرآباد کے عربک اسکالر ڈاکٹر سیدعبد المیظ قادری نے صوفیائے کرام کی تعلیمات پرروشنی ڈالی۔


      مقررین نے اس پر سب کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سائنس کی بے پناہ ترقی نے انسان کا اقتدار بڑھایا ہے۔ صنعتوں نے اس کے دست وبازو کی طاقت میں اضافہ کردیا ہے۔ انسان ستاروں پر کمندیں ڈال رہاہے، پھر بھی حقیر ہے، مصیبت زدہ ہے، دردمند ہے ، رنگوں اور قوموں میں تقسیم ہے۔ اس کے درمیان مذہبی دیواریں کھڑی ہیں۔ فرقہ ورانہ نفرتوں اور طبقاتی کشمکش کی تلواریں کھینچی ہوئی ہیں۔ آخران نفرتوں ، عداوتوں اور دوریوں کو کس طرح ختم کیا سکتا ہے۔ کس طرح محبت، اُخوت، بھائی چارگی اورانسانیت کومضبوط کیا جا سکتا ہے۔ دیگر مقررین نے کہاکہ صوفیوں نے ہمیشہ امن، محبت، دوستی اور بھائی چارگی کے پیغام کوعام کیاہے۔


      اس سمینار میں ہندو اور عیسائی مذہب کے ماننے والوں نے بھی تصوف پراپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سمینار کے اختتام پر بنگلورو کے نیازی بھائیوں نے صوفیانہ کلام پیش کیا۔

      First published: