ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بڑی خبر: میسور میں وقف ملکیت کی ہورہی ہے نیلامی، کیا عیدگاہ بھی نیلامی میں شامل؟

کرناٹک کے تاریخی شہر میسور میں ان دنوں وقف کی ملکیت خطرے میں ہے۔ انڈے شاہ ولی کی ایک ایکڑ سے زائد زمین کی نیلامی ہورہی ہے۔ انڈے شاہ ولی کی ملکیت کے ساتھ کیا میسور کے قدیم عیدگاہ (Mysore Eidgah) کی بھی نیلامی ہورہی ہے؟ اس پر کئی طرح کے خدشات اور سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

  • Share this:

کرناٹک کے تاریخی شہر میسور میں ان دنوں وقف کی ملکیت خطرے میں ہے۔ انڈے شاہ ولی کی ایک ایکڑ سے زائد زمین کی نیلامی ہورہی ہے۔ انڈے شاہ ولی کی ملکیت کے ساتھ کیا میسور کے قدیم عیدگاہ  (Mysore Eidgah) کی بھی نیلامی ہورہی ہے؟ اس پر کئی طرح کے خدشات اور سوالات پیدا ہوئے  ہیں۔ اس پورے معاملے میں رفاہ المسلمین ایجوکیشنل ٹرسٹ سوالات کے گھیرے میں آچکا  ہے۔ رفاہ المسلمین ایجوکیشنل ٹرسٹ میسور کا ایک مشہور ادارہ ہے۔ اس ادارہ نے سال2008 اور 2009 میں ٹرسٹ کی ملکیت کے ساتھ انڈے شاہ ولی کی جگہ اور عیدگاہ کی جگہ کو گروی رکھتے ہوئے 8 کروڑ 95 لاکھ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے۔ ٹرسٹ نے اپنی ملکیت کے ساتھ وقف کی دو جائیدادوں کو گروی رکھتے ہوئے کینرا بینک سے قرض حاصل کیا ہے۔ سال 2009 سے اب تک قرض کا ایک روپیہ بھی رفاہ المسلمین ٹرسٹ نے ادا نہیں کیا ہے۔ اس وجہ سے قرض کی یہ رقم بڑھتے بڑھتے اب تقریبا 32 کروڑ روپئے ہوچکی ہے۔


میسور کے ایم ایل اے تنویر سیٹھ جو کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کے رکن بھی ہیں اس پورے مسئلہ کیلئے رفاہ المسلمین ٹرسٹ کو ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں۔ بنگلورو میں تنویر سیٹھ نے وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد یوسف اور خصوصی آفیسر مجیب اللہ ظفاری کی موجودگی میں میڈیا سے خطاب کیا اور رفاہ المسلمین ٹرسٹ پر وقف کی زمین سے کھلواڑ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا۔ تنویر سیٹھ نے کہا کہ رفاہ المسلمین ٹرسٹ نے کس لئے قرض حاصل کیا تھا، اس وقت وقف املاک کو کیوں رہن رکھا گیا اس کے متعلق کبھی وضاحت پیش نہیں کی۔ پہلی مرتبہ 2015 میں جب یہ معاملہ عوام کے سامنے آیا تو اس وقت میسور کے مسلمانوں میں زبردست تشویش دیکھنے کو ملی تھی۔ کیونکہ قرض حاصل کرنے کیلئے عیدگاہ سمیت وقف کی جائدادوں کو گروی رکھا گیا تھا۔ اس وقت کرناٹک وقف بورڈ نے مجیب اللہ  ظفاری کو میسور عیدگاہ کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا۔ رفاہ المسلمین ادارے اور کینرا بینک کو نوٹس جاری کی گئی۔ ان کوششوں کے بعد بینک نے گروی رکھی گئی جائدادوں میں سے عیدگاہ کی زمین کو الگ کیا۔


میسور کے ایم ایل اے تنویر سیٹھ نے کہا کہ عیدگاہ کے ایک حصہ میں رفاہ المسلمین ٹرسٹ کرایہ دار کے طور پر اپنے تعلیمی ادارے قائم کئے ہوئے ہے۔ اس پورے معاملے پر ایک بار  بحث اس وقت اٹھی جب کینرا بینک نے قرض کی رقم ادا نہ کئے جانے پر کارروائی کرتے ہوئے رہن کی گئی املاک کی نیلامی کا اعلان کیا ہے۔ 27 اکتوبر 2020 کو نیلامی کی نوٹس جاری ہوئی ہے۔ بینک کی نوٹس کے مطابق 30 نومبر 2020 صبح 11:30 بجے سے 12 بجے تک آن لائن نیلامی ہوگی۔ نیلامی کیلئے جاری جائیداد کی فہرست میں رفاہ المسلمین ٹرسٹ کی املاک اور انڈے شاہ ولی وقف کی جائداد شامل ہیں۔ آکشن کی یہ نوٹس عیدگاہ کے ایک حصہ میں موجود رفاہ المسلمین کی عمارت پر بھی چسپاں کی گئی ہے۔ اس کے بعد عوام میں یہ تشویش دیکھنے کو مل رہی ہے کہ کیا عیدگاہ کی زمین بھی نیلام ہونے والی ہے؟۔


اس معاملے میں رفاہ المسلمین کے ٹرسٹی تاج محمد خان نے کہا کہ بینک کی نیلامی میں عیدگاہ کی زمین شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کو بدنام کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔تاج محمد خان نے کہا کہ میسور کے ادئےگیری کی تقریبا دو ایکڑ اراضی بینک میں گروی ہے جس کی نیلامی کیلئے نوٹس جاری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ فی الوقت عدالت میں ہے۔  لیکن ایم ایل اے تنویر سیٹ نے کہا کہ آر ٹی آئی سے حاصل کی گئی جانکاری کے مطابق انڈے شاہ ولی مکان جو وقف کی ملکیت ہے اسے بھی رہن رکھا گیا ہے۔ اب نیلامی کی جائدادوں میں انڈے شاہ ولی مکان کی ایک ایکڑ 4 گنٹہ پر مشتمل ملکیت شامل ہے۔

تنویر سیٹھ نے کہا کہ اس نیلامی کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے بینک کو نوٹس دی گئی ہے۔ متعلقہ سرکاری محکموں کو بھی نوٹس بھیجی گئی ہے۔حکومت کے ذریعہ بھی نیلامی کو روکنے کیلئے بینک پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کی زمین کسی بھی صورت میں نیلام نہیں کی جاسکتی۔ بینک نے کیسے وقف کی زمین کو رہن رکھتے ہوئے قرض جاری کیا یہ اپنے آپ میں ایک بڑا سوال ہے؟۔
Published by: sana Naeem
First published: Nov 26, 2020 11:20 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading