உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نوین شیکھرپا کی جسد خاکی کا آخری دیدار، والد بولے رسومات کے بعد بیٹے کی Body میڈیکل کالج کو ڈونیٹ کردیں گے

    Youtube Video

    نوین کے والد نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ میرا بیٹا میڈیکل کے شعبے میں کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا، ایسا نہیں ہوا، کم از کم اس کے جسم کو میڈیکل کے دوسرے طلبا پڑھائی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، اسی لیے ہم نے گھر پر ہی اس کا جسم طبی تحقیق کے لیے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    • Share this:
      یوکرین میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی طالب علم نوین شیکھرپا کی جسد خاکی کو آخری دیدار کےلیے رکھا گیا ہے ۔ نوین کے والد نے کہا ہے کہ رسومات کے بعد نوین کی لاش ایک نجی میڈیکل کالج کو ڈونیٹ کردیں گے۔ نوین خارکیف نیشنل میڈیکل یونیورسٹی میں آخری سال کا طالب علم تھا۔ یکم مارچ کو روسی گولہ باری میں نوین ہلاک ہو گیا تھا ۔ کرناٹک حکومت نے نوین کے ورثہ کوپچیس لاکھ روپے کی امداد اورایک فرد کو سرکاری نوکری دینے کا اعلان کیا ہے۔

      قابل ذکر ہے کہ خارکیف میں ان کے ایک ساتھی کے مطابق گیانا گودرم اس وقت فوجی گولہ باری میں مارا گیا جب وہ قریبی دکان سے ضروری اشیاء خریدنے نکلا تھا۔ ان کی موت یوکرین میں ہندوستانی طلبا میں رپورٹ ہونے والی پہلی ہلاکت ہے۔ جن کی تعداد تنازعہ شروع ہونے سے پہلے 18,000 کے قریب تھی۔ مرکزی حکومت نے پچھلے مہینے کے دوران کئی پروازوں کا انتظام کیا اور مرکزی وزرا کو پڑوسی ممالک میں تعینات کیا، تاکہ ان کے تیزی سے انخلاء کو یقینی بنایا جا سکے۔

      پاکستانی PM کی کرسی پر عمران خان بس کچھ ہی دنوں کے مہمان! اب Pakistan Army نے بھی دیا الٹی میٹم

      ’سائنس کے لیے لاش عطیہ کریں گے‘ یوکرین میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی میڈیکل طالب علم کے والد

      یوکرین میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی میڈیکل طالب علم کے والد نے اپنے بیٹے کی باقیات طبی تحقیق کے لیے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 21 سالہ نوین شیکھرپا گیانا گودر کھرکیو نیشنل میڈیکل یونیورسٹی کا طالب علم تھا، جس نے روس کی جانب سے اندھا دھند بمباری کا مشاہدہ کیا تھا۔ روس نے 24 فروری 2022 کو یوکرین پر حملہ کر کے ہزاروں ہندوستانیوں کو، سابق سوویت ملک سے فرار ہونے پر مجبور کیا ہے۔ جن میں زیادہ تر طالب علم ہیں۔

      مبینہ طور پر نوین کھانا خریدنے کے لیے قطار میں کھڑے ہوتے ہوئے اس وقت مارا گیا جب اس کے قریب گولہ گرا۔ وہ ان 18,000 طلباء میں سے ایک تھا جو طب کی تعلیم کے لیے یوکرین گئے تھے۔ شنکرپا نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ میرا بیٹا میڈیکل کے شعبے میں کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا، ایسا نہیں ہوا، کم از کم اس کے جسم کو میڈیکل کے دوسرے طلبا پڑھائی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، اسی لیے ہم نے گھر پر ہی اس کا جسم طبی تحقیق کے لیے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: