உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ’سرتن سے جدا‘ نعرے لگانے والوں کے خلاف 7 دن کے اندر ہو کاروائی‘ NCPCR کا پولیس کمشنر آف حیدرآباد کو خط

    چارمینار کے اطراف سخت سیکورٹی انتظامات (تصویر اے این آئی)

    چارمینار کے اطراف سخت سیکورٹی انتظامات (تصویر اے این آئی)

    خط میں کہا گیا ہے کہ این سی پی سی آر، پولیس کمشنر آف حیدرآباد سے درخواست کرتا ہے کہ ’سرتن سے جدا‘ (sar tan se juda) نعرے لگانے والے قصورواروں کے خلاف فوراً ایف آئی آر درج کرکے معاملے کی تحقیقات کریں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Hyderabad | Telangana | Jammu | Karnataka | Mumbai
    • Share this:
      ’’سر تن سے جدا‘‘ (sar tan se juda) نعروں کے ضمن میں نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (National Commission for Protection of Child Rights)  نے پولیس کمشنر آف حیدرآباد کو خط لکھا ہے۔ حیدرآباد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے معطل ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ (Raja Singh) کے خلاف یہ نعرے لگائے جارہے ہیں۔ اس کے ویڈیوز سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر منظر عام حد آچکے ہیں۔ راجہ سنگھ کے خلاف مظاہروں کے دوران مظاہرین کو ’سر تن سے جدا‘ کے نعرے لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

      مذکورہ خط میں متنازعہ نعرے لگانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور بچوں کو چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس نے اعلیٰ پولیس افسر کو سات دن کے اندر کارروائی کرنے کے لیے بھی کہا ہے۔

      خط کے مطابق کمیشن نے لکھا کہ ایسا لگتا ہے کہ بچوں کو بھڑکایا جارہا ہے اور اس نعرے کو احتجاج کے دوران سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ مذکورہ بالا تناظر میں حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیشن نے ازخود نوٹس لینا مناسب سمجھا۔ کیونکہ جووینائل جسٹس (بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ) ایکٹ 2015 کے تحت متعلقہ دفعات اور قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

      خط میں کہا گیا ہے کہ این سی پی سی آر، پولیس کمشنر آف حیدرآباد سے درخواست کرتا ہے کہ ’سرتن سے جدا‘ نعرے لگانے والے قصورواروں کے خلاف فوراً ایف آئی آر درج کرکے معاملے کی تحقیقات کریں۔ مزید یہ کہ ویڈیو میں نظر آنے والے بچوں کی شناخت کرکے چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس کے علاوہ ایف آئی آر کی کاپی، بچوں اور ان کے والدین کا بیان اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ایکشن ٹیکن رپورٹ 7 دنوں کے اندر کمیشن کو پیش کی جائے۔


      مظاہرین یہ نعرے کیوں لگا رہے ہیں؟

      پیر کے روز بی جے پی ایم ایل اے ٹی راجہ نے اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی (Munawar Faruqui) پر تنقید کرتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کیا، جس نے حال ہی میں شہر میں پرفارم کیا تھا۔ سنگھ کو مبینہ طور پر پیغمبر انسانیت حضرت محمد ﷺ کے خلاف گستاخی کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ جس سے زبردست ہنگامہ ہوا۔ شہر حیدرآباد کے مسلمانوں نے پیر کی رات سے ہی حیدرآباد کے مختلف حصوں میں سنگھ کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔

      سنگھ کے خلاف آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت اب تک 7 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ جس میں مذہب کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے، جان بوجھ کر اور بدنیتی پر مبنی کسی بھی طبقے کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرکے اس کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا شامل ہیں۔ اس کے بعد منگل کو اسے گرفتار کر لیا گیا اور اسی دن ضمانت بھی مل گئی۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Hyderabad : ٹی راجا سنگھ کے خلاف احتجاج جاری ، درجنوں مظاہرین کو کیا گیا گرفتار

      پارٹی ذرائع نے بتایا کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے بہت سے قانون ساز اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے کارپوریٹر پولیس اسٹیشن پہنچے، جہاں احتجاج کیا گیا اور راجہ سنگھ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس کے مطابق سنگھ کے خلاف ساؤتھ، ایسٹ اور ویسٹ زون کے تحت کئی تھانوں میں شکایتیں درج کرائی گئی تھیں۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Prophet Muhammad: راجہ سنگھ کے خلاف مزید 2 مقدمات درج، دوبارہ گرفتاری کا امکان



      ان کی گرفتاری کے چند گھنٹے بعد ہی بی جے پی نے منگل کو انہیں پارٹی سے معطل کر دیا۔ اسی دن انہیں ضمانت بھی مل گئی۔ نامپلی میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالت نے کہا کہ پولیس نے گرفتاری سے قبل پیشگی نوٹس جاری کرنے جیسے مناسب طریقہ کار پر عمل نہیں کیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: