உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ’تقریباً 80 فیصد قیدی اپنی سماعت کیلئےمنتظر، موجودہ نظام پر سوال اٹھانے کی ضرورت‘ Chief Justice of India N V Ramana

    چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا

    چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا

    چیف جسٹس آف انڈیا نے جے پور میں 18 ویں آل انڈیا لیگل سروسز اتھارٹی کے افتتاحی اجلاس میں کہا کہ ہمیں فوجداری انصاف کے نظام کو بہتر بنانے اور انتظامیہ کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

    • Share this:
      چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا (Chief Justice of India N V Ramana) نے ہفتے کے روز زیر سماعت قیدیوں کی بڑی تعداد کے ’سنگین‘ مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا ہے، جو فوجداری نظام انصاف کو متاثر کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے طریقہ کار پر سوال اٹھانے کی ضرورت ہے جو بغیر کسی مقدمے کے طویل قید و بند کا باعث بنتا ہے۔

      چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا نے ایک تقریب میں کہا کہ ملک کے 6.10 لاکھ قیدیوں میں سے تقریباً 80 فیصد قیدی زیر سماعت ہیں اور افسوس کا اظہار کیا کہ فوجداری انصاف کے نظام میں یہ عمل ’سزا‘ ہے۔ انہوں نے جیلوں کو بلیک باکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ جیلوں کا مختلف زمروں کے قیدیوں پر مختلف اثر پڑتا ہے، خاص طور پر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے قیدی مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

      انہوں نے کہا کہ اندھا دھند گرفتاری سے لے کر ضمانت کے حصول میں دشواری تک زیر سماعت قیدیوں کی طویل قید کا باعث بننے والے عمل پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے جے پور میں 18 ویں آل انڈیا لیگل سروسز اتھارٹی کے افتتاحی اجلاس میں کہا کہ ہمیں فوجداری انصاف کے نظام کو بہتر بنانے اور انتظامیہ کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

      سی جے آئی رمنا نے کہا کہ بغیر کسی مقدمے کے بڑی تعداد میں طویل قید پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ مقصد صرف زیر سماعت قیدیوں کی جلد رہائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے بجائے ہمیں ایسے طریقہ کار پر سوال اٹھانا چاہیے جو بغیر کسی مقدمے کے اتنی بڑی تعداد میں طویل قید کا باعث بنتے ہیں۔

      دو روزہ اجلاس کا اہتمام نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی (NALSA) کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجداری انصاف کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے پولیس کی تربیت اور حساسیت اور موجودہ نظام کو جدید بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل لیگل سرویسس اتھارٹی (National Legal Services Authority) کو مندرجہ بالا مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ ہم کس طرح بہترین مدد کر سکتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:

       

      انہوں نے کہا کہ چھوٹے دیوانی اور خاندانی تنازعات کو متبادل طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے۔ نیشنل لیگل سرویسس اتھارٹی کی خدمات، لوک عدالتوں سے لے کر ثالثی تک ہر طرف سے انصاف کے متلاشی اپنے تنازعات کا سستا اور فوری حل حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے عدالتوں پر بوجھ بھی کم ہو گا۔

      مزید پڑھیں


      تقریب میں سی جے آئی نے NALSA LACMS پورٹل، موبائل ایپ اور ePrisons کا بھی افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیو لیگل ایڈ کیسز مینجمنٹ پورٹل اور موبائل ایپ قانونی امداد سے فائدہ اٹھانے والوں کے لیے بہت مددگار ثابت ہوں گے، کیونکہ وہ قانونی امداد کے وکیل کے ساتھ ایک مشترکہ پلیٹ فارم شیئر کریں گے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: