உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستانی فضائیہ سربراہ وی آر چودھری نے کہا- مشرقی لداخ کے پاس تین ٹھکانوں پر چین نے تعینات کئے جہاز

    ہندوستانی فضائیہ سربراہ وی آر چودھری نے کہا- مشرقی لداخ کے پاس تین ٹھکانوں پر چین نے تعینات کئے جہاز

    ہندوستانی فضائیہ سربراہ وی آر چودھری نے کہا- مشرقی لداخ کے پاس تین ٹھکانوں پر چین نے تعینات کئے جہاز

    آئی اے ایف چیف ایئر مارشل وی آر چودھری نے کہا ہے کہ چین نے مشرقی لداخ کے پاس تین ٹھکانوں پر ہندوستانی فضائیہ کو تعینات کیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستانی فضائیہ (Indian Air force) کے سربراہ ایئر مارشل وی آر چودھری (VR Chaudhari) نے کہا  ہے کہ چین نے مشرقی لداخ کے پاس تین ٹھکاںوں پر اپنی ہندوستانی فضائیہ کو تعینات کیا ہے۔ ان کا یہ بیان فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نروانے کے ذریعہ سبھی مشرقی لداخ اور شمالی مورچے پر چین کے ذریعہ ’کافی تعداد‘ میں فوجیوں کو تعینات کرنے پر الرٹ جاری کرنے کے تین دن بعد آیا ہے۔ چین - پاکستان شراکت اور دو مورچوں پر جنگ کے امکانات کے بارے میں بات وی آر چودھری نے کہا، ’اس شراکت سے ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ واحد تشویش یہ ہے کہ مغربی تکنیک پاکستان سے چی تک جا رہی ہے‘۔ انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اور پی او کے میں ہوائی علاقے میں تشویش کرنے جیسا کچھ نہیں ہے۔

      آئی اے ایف چیف نے کہا، ’ہمیں پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر میں ہوائی علاقوں سے زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ چھوٹے اسٹرپس ہیں، جہاں سے کچھ ہیلی کاپٹر ہی اڑان بھر سکتے ہیں۔ اس سے پہلے COAS ایم ایم نرونے (MM Narvane) نے کہا تھا کہ چین نے پورے مشرقی لداخ (Eastern Ladakh) میں بڑی تعداد میں تعیناتی کی ہے۔ حالانکہ فوجی سربراہ نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان بھی ہر خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 13 دور کی میٹنگ میں حالات بہتر ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے جانکاری دی ہے کہ پاکستان کی طرف سے بھی دو بار سیز فائر کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

      ہفتہ کے روز جنرل ایم نرونے نے کہا تھا، ’چین 

      ہفتہ کے روز جنرل نرونے نے کہا تھا، ’چین نے ہمارے مشرقی کمان اور مشرقی لداخ اور شمالی مورچے پر کافی فوجی تعینات کئے ہیں۔ محاذوں پر ان کی تعیناتی درحقیقت ہمارے لئے باعث تشویش ہے‘۔ انہوں نے کہا تھا، ’ہم ان کی سبھی سرگرمیوں پر نظر رکھ رہے ہیں۔ ہمیں ملی اطلاع کی بنیاد پر ہم بھی انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ فوجیوں میں بھی برابر کا اضافہ کر رہے ہیں، جو کسی بھی خطرے کا سامنا کرنے کے لئے ضروری ہے‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: