ہوم » نیوز » وطن نامہ

ٹویٹر نے نئی گائیڈ لائنس نافذ کرنے کیلئے حکومت سے تین ماہ کا وقت مانگا

واٹس ایپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لئے نئے آئی ٹی کے نئے قوانین کے بارے میں ہندوستانی حکومت کے خلاف عدالت میں جانے کے بعد ٹویٹر twitter نے وزارت آئی ٹی سے درخواست کی کہ وہ نئی گائیڈ لائنس کو نافذ کرنے کیلئے کم سے کم تین ماہ کی توسیع پر غور کرے۔

  • Share this:
ٹویٹر نے نئی گائیڈ لائنس نافذ کرنے کیلئے حکومت سے  تین ماہ کا وقت مانگا
ٹوئٹر

واٹس ایپ WhatsApp نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لئے نئے آئی ٹی کے نئے قوانین کے بارے میں ہندوستانی حکومت کے خلاف عدالت میں جانے کے بعد ٹویٹر twitter نے وزارت آئی ٹی سے درخواست کی کہ وہ نئی گائیڈ لائنس کو نافذ کرنے کیلئے کم سے کم تین ماہ کی توسیع پر غور کرے۔ مبینہ کانگریس ٹول کٹ تنازعہ سے متعلق اس ہفتے کی شروعات میں دہلی اور گروگرام میں ٹویٹر دفتر پر پولیس نے چھاپے مارے تھے۔


اس بات پر زور دیتے ہوئے کمپنی ہندستان میں نافذ قانون کی پیروی کرنے کی کوشش کرے گی۔ ٹویٹر ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ابھی ہم ہندستان میں اپنے ملازمین کے بارے میں حالیہ واقعات اور ان لوگوں کیلئے اظہار رائے کی آزادی کے امکان خطرے فکر مند ہیں جن کی ہم خدمت کرتے ہیں۔


بتادیں کہ وزارت نے سوشل میڈیا کمپنیوں مثلا فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب، انسٹاگرام اور وہاٹس ایپ سے نئے ڈجیٹل قوانین کے پیروی کی حالت کے بارے میں فورا فوران رپورٹ دینے کو کہا۔ نئے قانون بدھ سے متاثر ہو گئے ہیں۔ ان کمپنیوں نے معاملے کو لیکر ای میل کے ذریعے پوچھے گئے سوالوں کے جواب نہیں دئے۔


واضح ہو کہ واٹس ایپ نے بدھ کے روز دہلی میں ہندوستانی حکومت کے خلاف ایک قانونی شکایت درج کروائی ہے جس کے ذریعہ سوشل میڈیا کے لیے بنائے نئے قانونین کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے لیے حکومت ہند کی جانب سے بنائے گئے نئے قوانین پرعمل کرنا ضروری ہے۔اسی کو لیکر واٹس ایپ (Whats App) کا کہنا ہے کہ حکومت ایسے قوانین لانا چاہتی ہے، جس سے صارفین کے حقوق متاثر ہونگے اور پرائیوسی کا خطرہ لاحق ہوگا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کوواٹس ایپ ذرائع نے بتایا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ یہ اب بات کی تصدیق کریں کہ حکومت کی جانب سے مرتب کی گئی نئی پالیسی ہندوستان کے آئین میں نجی قوانین میں سے ایک رازداری کے حقوق کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو "معلومات کے پہلے تخلیق کار" (first originator of information) کی شناخت کرنے کی ضرورت ہے اور حکام اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 27, 2021 03:52 PM IST