ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بنگلورو میں 22 جنوری کو بند نہیں، مسلم تنظیموں نے بند واپس لیا، جانئے کیا ہے وجہ

چند مہینوں قبل شہر کے ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی علاقوں میں پیش آئے تشدد کے معاملے میں بے قصور نوجوانوں کی گرفتاریوں کے خلاف یہ بند کی کال دی گئی تھی۔

  • Share this:
بنگلورو میں 22 جنوری کو بند نہیں، مسلم تنظیموں نے بند واپس لیا، جانئے کیا ہے وجہ
بنگلورو میں 22 جنوری کو بند نہیں،

کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں 28 مسلم تنظیموں نے ملکر 22 جنوری بروز جمعہ کو بند منانے کا اعلان کیا تھا۔ اس پرامن بند کیلئے تیاریاں بھی شروع ہوچکی تھیں۔ مساجد کے ذریعہ، میڈیا کے ذریعہ، مسلم تاجروں، ملی تنظیموں کے ذریعہ بند کا پیغام عوام میں عام کیا گیا تھا۔ لیکن اب مسلم تنظیموں نے اپنے اس بند کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ چند مہینوں قبل شہر کے ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی علاقوں میں پیش آئے تشدد کے معاملے میں بے قصور نوجوانوں کی گرفتاریوں کے خلاف یہ بند کی کال دی گئی تھی۔ پرامن طریقے سے بند مناکر مسلم طبقہ کی تشویش اور بے چینی سے حکومت کو واقف کروانا، جیلوں میں قید بے قصور نوجوانوں سے ہمدردی کا اظہار کرنا، 400 سے زائد افراد کی گرفتاریوں کی وجہ سے پریشان حال، تکلیف میں مبتلا خاندانوں کو ہمت دینا اس بند اور احتجاج کا مقصد تھا۔ کرناٹک مسلم متحدہ محاذ کے تحت 12 جنوری 2021 کو شہر کے دارالسلام میں منعقد ایک بڑے اجلاس میں بند منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ لیکن کل یعنی 19 جنوری 2021 کو کرناٹک مسلم متحدہ محاذ کے تحت علماء کرام کی ایک ہنگامی میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ میں جمعیت علماء ہند، جماعت اسلامی ہند، اہل سنت و الجماعت، جمعیت اہل حدیث اور دیگر ملی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی اور 22 جنوری کے بند کو واپس لینے کا فیصلہ لیا۔

میٹنگ کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء ہند، کرناٹک کے ریاستی صدر مولانا افتخار احمد قاسمی نے کہا کہ مسلم تنظیموں، جماعتوں کی جانب سے 22 جنوری بروز جمعہ کو اعلان کئے گئے بند کو واپس لینے کا فیصلہ ہوا ہے۔ مولانا افتخار احمد قاسمی نے کہا کہ جیسے ہی بند کا اعلان کیا گیا ہر جانب سے ردعمل سامنے آیا۔ پولیس اور حکومت کے دیگر محکمہ بھی چوکنہ ہوئے۔ اس دوران کے جے اور ڈی جے ہلی تشدد کے معاملہ میں ایک شخص کی رہائی اور 22 ملازمین کو ضمانت منظور ہونے کی خبر موصول ہوئی۔ اس وجہ سے اب امید پیدا ہوئی ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید بے قصور نوجوانوں کی رہائی عمل میں آسکتی ہے۔ لہذا اس مثبت پیش رفت کو دیکھتے ہوئے 22 جنوری کے بند کو واپس لینے کا فیصلہ لیا گیا۔



مولانا افتخار احمد قاسمی نے کہا کہ بند کے اعلان کے بعد بنگلورو کی تمام مسلم تنظمیں، ادارے، تاجران حرکت میں آئے اور بند کو کامیاب بنانے کیلئے اپنے اپنے طور پر کوششیں شروع کی تھیں۔ مولانا نے کہا کہ اب رہائی کے خوش آئند پہلو کو دیکھتے ہوئے بند کے فیصلے کو واپس لیا گیا ہے لہذا اس موقع پر تمام ان تنظیموں اور اداروں کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے جنہوں نے مسلم متحدہ محاذ کی ایک آواز پر بند کی تیاریاں شروع کی تھیں۔ مولانا افتخار احمد قاسمی نے کہا کہ اب یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید رہائیاں ہوسکتی ہیں۔ مولانا نے یہ بھی واضح کیا کہ ضمانت ملنے کے باوجود اگر بے قصور نوجوانوں کو دیگر مقدمات ٹھونسنے یا پھر رہائی میں تاخیر ہونے کی صورت میں مسلم تنظیمیں خاموش نہیں بیٹھیں گیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں جو امید پیدا ہوئی ہے اسے دیکھتے ہوئے بند کو واپس لیا گیا ہے۔ لیکن آنے والے دنوں میں ضرورت پڑھنے پر بند اور احتجاج سے مسلم تنظیمیں ہر گز پیچھے نہیں ہٹیں گی۔


بنگلورو کے معروف عالم دین ، جمعہ مسجد کے خطیب و امام مولانا شاہ عبدالواجد نے کہا کہ تمام بے قصور نوجوانوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری رہیں گی۔ اس مسئلے پر خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔ جماعت اسلامی ہند کے معاون امیر حلقہ مولانا محمد یوسف کنی نے کہا کہ بند کے اعلان کے بعد مسلم طبقہ میں بیداری دیکھنے کو ملی اور حوصلہ پیدا ہوا۔ نوجوان، تاجر، علماء اور دیگر شعبہ حیات کے لوگ متوجہ ہوئے۔ اس سے ایک مثبت پیغام ملت کے درمیان گیا ہے۔ انہوں نے کہا فی الوقت کیلئے 22 جنوری کے بند کو واپس لیا گیا ہے۔ آئندہ جو بھی فیصلہ لیا جائے گا امید ہے کہ ملت اس پر عمل کریگی۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jan 20, 2021 08:57 AM IST