ہوم » نیوز » امراوتی

کرناٹک میں کانگریس۔بی جے پی نے نہیں ،اس نے روکا بی جے پی کا وجے رتھ

کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا وجے رتھے 104 پر رک گیا۔بی جے پی کرناٹک میں اکثریت پانے سے صرف 8 سیٹ پیچھے رہ گئی ہے۔لیکن ایسا نہیں کہ کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور جے ڈی ایس کی حکمت عملی نے بی جے پی کے انتخابی رتھ کو روک دیا ہے۔

  • News18.com
  • Last Updated: May 16, 2018 05:14 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کرناٹک میں کانگریس۔بی جے پی نے نہیں ،اس نے روکا بی جے پی کا وجے رتھ
فائل فوٹو

کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا وجے رتھے 104 پر رک گیا۔بی جے پی کرناٹک میں اکثریت پانے سے صرف 8 سیٹ پیچھے رہ گئی ہے۔لیکن ایسا نہیں کہ کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور جے ڈی ایس کی حکمت عملی نے بی جے پی کے انتخابی رتھ کو روک دیا ہے۔بی جے پی کو جیت سے روکنے والی یہ پارٹیاں نہیں بلکہ ووٹر کو ناراضگی ظاہر کرنے کیلئے ملا حق نوٹا )مندرجہ بالاامیدواروں میں سے کوئی بھی نہیں(ہے۔جی ہاں ،آپ  بالکل ٹھیک سمجھو۔


بی جے پی شکست والی 5 سیٹ تو ایسی ہیں جہاں نوٹا کو ہار کے فرق سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔وہیں تین سیٹ ایسی ہیں جہاں نوتا میں گئے ووٹ کی تعداد بی جے پی کی شکست کے فرق میں معمولی سا ہی فرق ہے۔ان سبھی 8 سیٹ پر نوٹا میں گئے ووٹ کی تعداد اگر ذرا بھی بی جے پی کے حق میں ہو جاتی تو آج کرناٹک کا نظارہ دوسرہ ہی ہوتا۔


Cong-BJP-22


اگر کرناٹل چناؤ میں نوٹا کو ملے ووٹوں کی بات کریں تو 3۔22 لاکھ ہیں۔صرف ووٹنگ کا 0.9 فیصد ووٹ نوٹا کو گیا ہے۔اس لحاظ سے نوٹا کرناٹک میں چوتھی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آیا ہے۔کیونکہ بی ایس پی ،عام آدمی پارٹی اور سی پی ایم سمیت کئی دوسری پارٹیوں کو 0.2 سے 0.3 فیصد ہی ووٹ ملے ہیں۔

سال 2013 میں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد نوٹا کا بٹن ای وی ایم پر آخری اختیا کے طور پر جوڑا گیا تھا۔اس لحاظ سے کرناٹک اسمبلی کے انتخابات مین اس کا استعمال پہلی مرتبہ ہوا ہے۔نوٹا کا مطلب یہ ہے کہ ووٹر کسی بھی امیدوار کو اہل نہیں پانے کی صورت میں نوٹا کا بٹن دبا سکتا ہے۔

Nota-Ka-Dhoka-11

حالانکہ نوٹا کو ملے ووٹ کی تعداد تمام امیدواروں کو ملے ووٹوں کی تعداد سے زیادہ ہو تب بھی اس امیدوار کو وجے ہی قرارا جائے گا۔جسے انتخابی میدان میں اترے سبھی امیدواروں سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سیاسی سائنس کے ڈپارٹمنٹ میں پروفیسر عبد اللہ رحمان کا کہنا ہے کہ "نوٹا میںتین طرح کے لوگ ووٹ ڈالتے ہیں،پہلے وہ لوگ جنہیں بی جے پی سے ناراضگی تھی،لیکن وہ کانگریس کو وٹ نہیں دینا چاہتے تھے۔دوسرے وہ جنہیں بی جے پی ،کانگریس دونوں سے ناراضگی ہے اور تیسرے وہ جو سبھی پارٹیوں سے ناراض ہیں۔
First published: May 16, 2018 05:14 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading