ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کورونا سے متاثر کرناٹک کے سامنے نیا بحران ، کووڈ بائیو میڈیکل ویسٹیج کو تلف کرنا بنا بڑا چیلنج

گلبرگہ میں ایک پرائیوٹ اسپتال چلانے والے ڈاکٹر علی کہتے ہیں کہ کووڈ میڈیکل ویسٹ کو شہری علاقوں میں کچرے کے انبار میں ڈال کر ہم نہ صرف صفائی ملازمین کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں بلکہ عوام کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں ۔

  • Share this:
کورونا سے متاثر کرناٹک کے سامنے نیا بحران ، کووڈ بائیو میڈیکل ویسٹیج کو تلف کرنا بنا بڑا چیلنج
کرناٹک کے سامنے نیا بحران ، کووڈ بائیو میڈیکل ویسٹیج کو تلف کرنا بنا بڑا چیلنج

کرناٹک میں کورونا کیسوں کی رفتار کافی تیز ہو گئی ہے ۔ روزانہ ہزاروں معاملات سامنے آ رہے ہیں ۔ مگر اچھی بات یہ بھی ہے کہ کرناٹک میں ستانوے فیصد سے زائد افراد صحتیاب ہو کر ڈسچارج بھی ہو رہے ہیں ۔ کرناٹک کے ڈاکٹرس بھی اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈال کر کورونا متاثرین کا علاج کر رہے ہیں ۔ کرناٹک حکومت بھی ڈاکٹرس کا پورا خیال کرتے ہوئے انھیں پورے حفاظتی سامان مہیا کرا رہی ہے ، جس میں پی پی ای کٹ باڈی سوٹ ، ہینڈ گلوز، ماسک وغرہ شامل ہیں ۔ اب کرناٹک حکومت کے سامنے ان حفاظتی سامان کو لے کر ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوا ہے۔


کووڈ بائیو میڈیکل ویسٹ کو تلف کرنے کے معاملہ پر کرناٹک حکومت کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ فی الحال کرناٹک میں پانچ سو ٹن سے زائد کووڈ بائیو میڈیکل ویسٹ بتایا جا رہا ہے۔ جس کو سائنسی طریقہ سے تلف کرنا حکومت کے سامنے ایک چیلنج سے کم نہیں ہے ۔ اسپتال، لیبس، گھروں ، ہوٹلوں ، کوارنٹائن سنٹروں ، قبرستانوں ، شمشان گھاٹوں سے روزانہ کئی کوئنٹل کووڈ بائیو میڈیکل ویسٹ نکل رہا ہے ۔ خاص کر بڑے اضلاع بنگلورو ، میسورو ، منگلورو ، ہبلی دھارواڑ اور گلبرگہ میں کووڈبائیو میڈیکل ویسٹ کی مقدار بہت زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ بتایا جا تا ہے کہ کرناٹک حکومت ابھی اس بائیو میڈیکل ویسٹ کو تلف کرنے کے سائنسی طریقہ کار پر غور کررہی ہے ۔ ابھی کووڈ ویسٹ کو کئی ایک مقامات پر کھلے میں ڈمپ کیا گیا ہے۔


بات اگر گلبرگہ کی کریں تو شہر کے مضافات میں واقع ایک اسپتال کے باہر ہی کھلے میدان میں کووڈ میڈیکل ویسٹ پھینکا گیا تھا ۔ اتفاق سے گلبرگہ ضلع پنچایت ممبر کو اسی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا ۔ ضلع پنچایت ممبر نے فوری طور پر اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر شئیر کی ، جب جا کر کہیں اتھارٹیز کو ہوش آیا اور کھلی جگہ سے میڈیکل ویسٹ کو ہٹایا گیا ۔ شہری علاقوں میں واقع ریزڈینشیل کمپلیکس بھی کووڈ میڈیکل ویسٹ میں اضافہ کر رہے ہیں ۔ گھروں میں ہوم کوارنٹائن رہنے والے کوئی علامت نہ رکھنے والے مریض اپنے استعمال شدہ ہینڈ گلوس اور ماسک اپنے گھر کے کچرے کے ساتھ باہر کچرے کے انبار میں پھینک رہے ہیں، جس سے صفائی ملازمین کی صحت خطرے میں پڑ رہی ہے ۔


گلبرگہ میں ایک پرائیوٹ اسپتال چلانے والے ڈاکٹر علی کہتے ہیں کہ کووڈ میڈیکل ویسٹ کو شہری علاقوں میں کچرے کے انبار میں ڈال کر ہم نہ صرف صفائی ملازمین کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں بلکہ عوام کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 19, 2020 06:34 PM IST