உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Operation ganga:جانیے کن خطروں کے بیچ پائلٹ نے اڑایا جہاز

    یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کو وطن واپس لانے کے لئے چلایا گیا تھا آپریشن گنگا۔

    یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کو وطن واپس لانے کے لئے چلایا گیا تھا آپریشن گنگا۔

    سدھارتھ کمار بتاتے ہیں کہ اس طرح کے آپریشنز میں ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔اس میں 65 پائلٹ ٹیمیں شامل تھیں، جو اڑان بھرنے میں ماہر تھیں۔اس میں ہمارے ہر عملے نے صلاحیت سے زیادہ کام کیا، پھر ہم گئے اور کامیاب ہوئے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: یوکرین روس جنگ کو قریب قریب تین ہفتے ہوچکے ہیں۔ ہزاروں ہندوستانی طلباء وہاں پھنسے ہوئے تھے، انہیں جنگی علاقے سے نکالنے کے لیے حکومت ہند نے آپریشن گنگا چلایا تھا، جس میں ہزاروں ہندوستانی نژاد لوگوں کو وطن واپس لایا گیا تھا، یہ آپریشن کیسا رہا؟ پائلٹ کو ہوائی جہاز اڑانے میں کس قسم کی پریشانی ہوئی؟ یہ سب کچھ جاننے کے لیے ہم نے آپریشن گنگا میں اہم کردار ادا کرنے والے کیپٹن سدھارتھ سے بات کی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Crude Oil پر مودی حکومت کی مشکل: روس سے سستاخام تیل خریدنے کی خواہش پرامریکہ نے کیاخبردار

      استنبول کا آپریشن میں رہا اہم رول
      کیپٹن سدھارتھ ایک نجی ایئرلائن کمپنی میں پائلٹ ہیں، وہ ماضی میں بھی اس طرح کے آپریشنز کا حصہ رہ چکے ہیں، وہ اس ٹیم میں بھی شامل تھے جو سال 2020 میں کورونا کے سامنے آنے کے بعد چین سے ہندوستانیوں کو لے کر آئی تھی۔ پورے آپریشن کے لیے ہمارا بیس استنبول تھا۔ہمیں انڈیا سے 6-8 گھنٹے کی فلائٹ سے پہلے استنبول جانا تھا اور پھر وہاں سے ہمیں یوکرین سے ملحقہ بارڈر سے ہندوستانیوں کو لانا تھا۔استنبول سے وار زون کے علاقے میں جہاں طلباء ٹھہرے ہوئے تھے وہ 2-3 گھنٹے سفر فلائٹ سے ہوا کرتا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Russia Ukraine War: تین دن میں دوسرے صحافی کی موت، فاکس نیوز کیلئے کرتا تھا کام

      گراونڈ اسٹاف سے لے کر پائلٹ تک سبھی کرتے تھے زیادہ کام
      سدھارتھ کمار بتاتے ہیں کہ اس طرح کے آپریشنز میں ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔اس میں 65 پائلٹ ٹیمیں شامل تھیں، جو اڑان بھرنے میں ماہر تھیں۔اس میں ہمارے ہر عملے نے صلاحیت سے زیادہ کام کیا، پھر ہم گئے اور کامیاب ہوئے۔سدھارتھ ایک طالبہ کی بات یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک طالبہ اپنی تعلیم کے بعد یوکرین جا کر دوبارہ لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی ہے، جو کہ دل کو چھو لینے والی بات ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: