உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان کے ’جھوٹ‘ پر حکومت کی سخت کارروائی،نفرت پھیلانے والےYouTube کے20 چینل اور 2 ویب سائٹ بلاک

    فیک یوٹیوب چینلس کے خلاف مرکزی حکومت کی بڑی کارروائی۔

    فیک یوٹیوب چینلس کے خلاف مرکزی حکومت کی بڑی کارروائی۔

    یہ چینل کشمیر، فوج، ہندوستان میں رہنے والے اقلیتوں، رام مندر اور آنجہانی جنرل بپن راوت کو لے کر نفرت انگیز اور تقسیم کرنے والے جھوٹ پھیلارہے تھے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستان کے جھوٹ پھیلانے کے پروپگنڈے پر حکومت ہند نے سخت اقدام اُٹھایا ہے۔ مرکزی حکومت نے 20 یوٹیوب چینل اور دو ویب سائٹس کو بند کردیا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے سخت قدم اُٹھاتے ہوئے پاکستان کی مدد سے چل رہے فیک نیوز نیٹ ورک کو بلاک کردیا ہے۔

      مرکزی حکومت کی جانب سے ملی جانکاری کے مطابق، خفیہ ایجنسیوں اور وزارت اطلاعات و نشریات نے پیر کو حکم جاری کیا۔ حکم کے مابق، یوٹیوب پر 20 چینل اور 2 ویب سائٹس فیک نیوز کے ذریعے ہندوستان کے خلاف جھوٹ پھیلا رہے تھے۔ دو الگ الگ احکامات میں انہیں بلاک کرنے کا قدم اٹھایا گیا۔

      فوج، سی ڈی ایس، کشمیر پر پھیلارہے تھے نفرت
      مرکزی حکومت نے بتایا کہ یہ چینل اور ویب سائٹس پاکستان سے آپریٹ ہورہے تھے اور کئی حساس ایشوز پر فیک نیوز پھیلا رہے تھے۔ یہ چینل کشمیر، فوج، ہندوستان میں رہنے والے اقلیتوں، رام مندر اور آنجہانی جنرل بپن راوت کو لے کر نفرت انگیز اور تقسیم کرنے والے جھوٹ پھیلارہے تھے۔

      ان گروپ پر ہوئی کارروائی
      ہندوستان کے خلاف جھوٹی خبروں کی مہم میں ’دا نیا پاکستان گروپ‘ (NPG)شامل ہے۔ یہ پاکستان سے آپریٹ کیا جارہا تھا۔ اس کے یوٹیوب چینل کے کئی نیٹ ورک ہیں اور اس کے علاوہ بھی کئی چینل اس میں شامل ہیں۔ ان چینلس کے مجموعی طور پر 35 لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرس ہیں اور ان کے ویڈیو 55 کروڑ سے زیادہ مرتبہ دیکھے جاچکے تھے۔ نیا پاکستان گروپ کی فیک نیوز میں کئی بار پاکستانی نیوز چینلس کے اینکر بھی دکھائی دئیے ہیں۔

      کسان آندولن میں بھی آگ میں گھی کا کررہے تھے کام
      یہ یوٹیوب چینل کسان آندولن، شہریت ترمیمی ایکٹ جیسے ایشوز میں بھی آگ میں گھی ڈالنے کا کام کررہے تھے۔ یہ چینلس ملک کی اقلیتوں کو حکومت ہند کے خلاف اشتعال دلارہے تھے۔ یہ بھی اندیشہ تھا کہ یہ چینلس پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی الیکشن میں جمہوری کارروائی میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے تھے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے ہندوستان کے انفارمیشن سیکٹر کو محفوظ رکھنے کے لئے ایمرجنسی طاقتوں کا استعمال کرتے ہوئے IT رولس 2021 کے 16 نمبر رول کا استعمال کیا۔ وزارت نے پایا کہ زیادہ تر مواد قومی سلامتی کے لحاظ سے حساس ہیں اور غلط ہیں۔ ہندوستان مخالف یہ مواد پاکستان کی جانب سے پوسٹ کیا جارہا تھا۔ اس وجہ سے یہ ایمرجنسی حالت میں بلاک کرنے کے پروویژن کی شرط کو پورا کرتا ہے۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: