ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

فلسطین فلسطینیوں اور مسلمانوں کا تھا اور رہے گا ، حیدرآباد میں پریس کانفرنس سے علما و صحافیوں کا خطاب

مجلس علمائے ہند اور صحافیوں کی جانب سے حیدرآباد میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اسرائیل کی جانب سے فلسطین اور غزہ کے باشندوں پرکی جانے والی بمباری کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ۔

  • UNI
  • Last Updated: May 19, 2021 09:37 PM IST
  • Share this:
فلسطین فلسطینیوں اور مسلمانوں کا تھا اور رہے گا ، حیدرآباد میں پریس کانفرنس سے علما و صحافیوں کا خطاب
فلسطین فلسطینیوں اور مسلمانوں کا تھا اور رہے گا ، حیدرآباد میں پریس کانفرنس سے علما و صحافیوں کا خطاب

حیدرآباد : مجلس علمائے ہند اور صحافیوں کی جانب سے حیدرآباد میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اسرائیل کی جانب سے فلسطین اور غزہ کے باشندوں پرکی جانے والی بمباری کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ اسرائیل کی بنیاد ہی ظلم وتشدد پرمبنی ہے فلسطین فلسطینیوں اور مسلمانوں کا تھا اور رہے گا۔ دوریاستی حل ناممکن ہے ، اس کا کوئی تصورنہیں ۔ آج وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی کارروائی کے خلاف بلامسلک ومذہب متحدہ طورپرتما م اٹھ کھڑے ہوں اور فلسطینیوں کی ہرسطح پر تائید ، حمایت اور مدد فراہم کی جائے۔


مسئلہ فلسطین صرف فلسطینیوں اور مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ سات دہائیوں سے انسانیت کے علمبرداروں سے اس بات کا تقاضہ کررہاہے کہ وہ انصاف کی بنیادوں پربیت المقدس، فلسطین اور فلسطینیوں کو اسرائیلی قبضہ سے آزاد کرائیں ۔ حیدرآباد میں تنظیم جعفریہ کی جانب سے دفتر علمائے ہند پرفلسطینیوں سے اظہاریکجہتی کے لیے ایک پریس کانفرنس کا انعقادعمل میں لایا گیا ، جس کی صدارت ونگرانی تنظیم جعفریہ کے صدرمولانا سید تقی رضا عابدی نے کی ۔ اس پریس کانفرنس میں شہرکے علما اور مختلف صحافتی اداروں سے وابستہ صحافیوں نے اظہار خیال کیا ۔ پریس کانفرنس کا آغازقرات کلام مجید سے کیا گیا۔


اس اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے نگران جلسہ مولانا سید تقی رضا عابدی نے کہاکہ موجودہ وقت دراصل ہم سے امتحان لے رہا ہے۔ دیکھنا یہی ہے کہ اس امتحان میں کون کامیاب ہوگا اور کون ناکام ہوگا ۔ یہ امتحان ساری انسانیت سے ہے مسئلہ کسی مسلک یامذہب کا نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ انسانیت سے تعلق رکھتا ہے ۔ معصوم بچے چاہے کسی مذہب کے ہوں وہ بچے ہیں اور ان کو نشانہ بناکرقتل کرنا درندگی اور شیطانیت ہے اور یہی درندگی اور شیطانیت اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ کررہاہے۔


سینئرصحافی شجیع اللہ فراست نے پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کے فارمولے کو یکسرخارج کرتے ہوئے کہا کہ یہ ناممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل غزہ پرہونے والی بمباری اور مقبوضہ فلسطین میں ہونے والے اسرائیلی کارروائی کی مذمت کرنے کے لیے آج ہم جمع ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ ایک ایسا شہرہے جو پہلے ہی سے تباہ حال ہے اور ایک کھلی جیل بنا ہواہے اس کے باوجود اس کو مزید تباہ کیا جارہا ہے ۔ جو کچھ یہاں انفرااسٹرکچرہے اس کو بھی برباد کیا جارہا ہے۔

سینئرصحافی سید باقرنے پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دراصل یہ مسئلہ فلسطین کا نہیں بلکہ یہ مسئلہ صیہونیت ہے ۔ وہ صرف فلسطین پرقبضہ نہیں بلکہ وہ مدینہ پاک تک اپنے گریٹر اسرائیل کی توسیع کا ناپاک منصوبہ رکھتے ہیں۔ سیدباقرنے اپنے پانچ نکات پرگفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بیت المقدس اور مسجداقصیٰ وفلسطین کی آزادی کی لڑائی صرف اسرائیل ہی سے نہیں بلکہ ان منافقین سے بھی ہے جو شخصی، تنظیمی یا حکومتی طور پر اسرائیل کے کھلے اور چھپے ہوئے مددگاربنے ہوئے ہیں، یہ وہ غدارہیں جو فلسطین کے کاز میں سب سے بڑی رکاوٹ اور اسرائیل کی ڈھال بنے ہوئے ہیں۔

سینئرصحافی سید جعفرحسین نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کا قتل ناحق کررہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حماس بے سروسامانی کے باوجود اسرائیل سے نہ صرف مقابلہ کررہی ہے ، بلکہ خدا کی مدد سے صیہونی منصوبوں کو ناکام بنارہی ہے۔ 14ممالک نے آج اس کے خلاف آوازاٹھائی ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ وہ عرب حکمران جنھوں نے اسرائیل سے تعلقات بنائے ہیں ، ان کو چاہئے کہ وہ اس پر از سر نو غور کریں اور امت مسلمہ کے لیے اسرائیل کے ساتھ تمام رشتے منقطع کیے جائیں ۔

سینئرصحافی مجتبیٰ زیدی نے اسرائیلی بربریت کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور فلسطینیوں سے اظہاریکجہتی کیا ۔ انھوں نے فلسطین کی آزادی کے لیے مسلم دنیا کے اتحاد پر زور دیا۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 19, 2021 09:37 PM IST