உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھانے کا بل، پارلیمانی کمیٹی کو اب تک مل چکے ہیں 95,000 ای میل

    لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھانے کا بل

    لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھانے کا بل

    کمیٹی کو 25 جون تک رپورٹ پیش کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے، ایسے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں کمیٹی کے مسلسل کئی میٹینگیں ہوں گے۔ عام لوگوں سے بھی رائے لینے کے لیے کمیٹی کی جانب سے جلد اعلان کیا جائے گا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھانے کا بل نظرثانی کے لیے پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم، خواتین و اطفال کو بھیج دیا گیا۔ بل کے حوالے سے کمیٹی نے اپنا اجلاس شروع کر دیا ہے۔ بدھ کو اس بل کے معاملے پر قائمہ کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں بل کے حوالے سے ابتدائی سطح پر بات چیت ہوئی۔ بی جے پی لیڈر اور راجیہ سبھا ایم پی ونے سہسر بدھے اس کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔

      اجلاس میں موجود کمیٹی کے ارکان کو بتایا گیا کہ اس شعبے میں کام کرنے والے افراد اور تنظیموں نے بل کے حوالے سے اپنی آراء بھیجنا شروع کر دی ہیں۔ تاہم ابھی تک کمیٹی کی جانب سے عام لوگوں سے باضابطہ طور پر تجاویز نہیں مانگی گئی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      کورونا کی رفتار بڑھتے ہی دہلی Govtکا اسکولوں کو لے کر سخت فیصلہ، کیس ملتے ہی ہوں گے بند

      کمیٹی کو اب تک مل چکے ہیں 95 ہزار سے بھی زیادہ ای-میل
      اس سلسلے میں کمیٹی کو اب تک تقریباً 95000 ای میلز موصول ہو چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان میں شادی کی عمر بڑھانے کے حق میں ای میلز اور اس کی مخالفت کرنے والے ای میل بھی شامل ہیں۔ تاہم ایک دلچسپ معلومات دیتے ہوئے کمیٹی کے ذرائع نے بتایا کہ موصول ہونے والی 95000 ای میلز میں سے تقریباً 90000 ای میلز کا مواد بالکل ایک جیسا ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ یہ تمام میل عمر بڑھانے کی تجویز کے حق میں ہیں یا خلاف میں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Indigoکی ڈیبروگڑھ-دلی فلائٹ میں پرواز کے دوران مسافر کے فون میں لگی آگ

      25 جون تک کی دی گئی ہے ڈیڈ لائن
      کمیٹی کو 25 جون تک رپورٹ پیش کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے، ایسے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں کمیٹی کے مسلسل کئی میٹینگیں ہوں گے۔ عام لوگوں سے بھی رائے لینے کے لیے کمیٹی کی جانب سے جلد اعلان کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق جو بھی اس معاملے پر اپنی رائے کمیٹی کو بھیجنا چاہتا ہے وہ بھیج سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کمیٹی ملک کے مختلف حصوں میں اپنے دوروں کے دوران لوگوں سے تجاویز بھی طلب کرے گی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: