ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک وقف بورڈ کو سپرسیڈ کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے ، ہائی کورٹ میں عرضی داخل

مفاد عامہ کی عرضی دائر کرنے والے سینئر وکیل رحمت اللہ کوتوال نے کہا کہ جسٹس اروند کمار اور جسٹس پردیپ سنگھ یرور کی بینچ نے مفاد عامہ کی عرضداشت پر کرناٹک وقف بورڈ، ریاستی اور مرکزی حکومت کو ایمرجنسی نوٹس جاری کئے ہیں۔

  • Share this:
کرناٹک وقف بورڈ کو سپرسیڈ کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے ، ہائی کورٹ میں عرضی داخل
کرناٹک وقف بورڈ کو سپرسیڈ کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے ، ہائی کورٹ میں عرضی داخل

کرناٹک میں اوقافی جائیدادوں پر غیر قانونی قبضہ جات کا معاملہ اب کرناٹک ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔ کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کو تحلیل کرتے ہوئے سپرسیڈ کرنے کی عدالت میں درخواست کی گئی ہے ۔ 29 دسمبر 2020 کو سماجی کارکن محمد عارف جمیل کی داخل کردہ مفاد عامہ کی عرضداشت پر کرناٹک ہائی کورٹ نے نوٹس جاری کیا ہے ۔ عدالت کی دو رکنی بینچ نے 22 جنوری 2021 کو پی آئی ایل پر سماعت کرتے ہوئے کرناٹک ریاستی وقف بورڈ، مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کئے ۔ اس معاملہ کی اگلی سماعت 16 فروری 2021 تک کیلئے ملتوی کی گئی ہے ۔


مفاد عامہ کی عرضی دائر کرنے والے سینئر وکیل رحمت اللہ کوتوال نے کہا کہ جسٹس اروند کمار اور جسٹس پردیپ سنگھ یرور کی بینچ نے مفاد عامہ کی عرضداشت پر کرناٹک وقف بورڈ، ریاستی اور مرکزی حکومت کو ایمرجنسی نوٹس جاری کئے ہیں۔ ایڈوکیٹ رحمت اللہ کوتوال نے کہا کہ تین رپورٹوں کو بنیاد بنا کر ہائی کورٹ میں پی آئی ایل داخل کی گئی ہے ۔ جسٹس راجیندر سچر کمیٹی کی رپورٹ ، جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کی رپورٹ اور کرناٹک اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین انور مانپاڈی کی رپورٹ کی بنیاد پر یہ عرضداشت عدالت میں پیش کی گئی ہے۔


ایڈوکیٹ رحمت اللہ کوتوال نے کہا کہ ان تینوں رپورٹوں میں ریاست کرناٹک میں اوقافی املاک پر ہوئے غیر قانونی قبضہ جات کا تذکرہ موجود ہے ، لیکن اب تک کسی بھی حکومت اور وقف بورڈ نے کارروائی نہیں کی ہے۔ لہذا ان تینوں رپورٹوں پر کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مفاد عامہ کی عرضداشت 29 دسمبر 2020 کو پیش کی گئی تھی ، جس پر اب عدالت نے نوٹس جاری کئے ہیں ۔


سماجی کارکن محمد عارف جمیل نے کہا کہ نہ صرف نجی افراد بلکہ کئی سو ایکڑ وقف اراضی پر حکومت کے بھی قبضے ہیں۔ سرکاری قبضوں کو بھی ہٹانے کیلئے عدالت سے درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک کو ناجائز قبضوں سے پاک کرنے کیلئے سابقہ ریاستی حکومت نے ٹاسک فورس قائم کیا تھا۔ محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کے تحت قائم کئے گئے ٹاسک فورس کے ذریعہ اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔  محمد عارف جمیل نے کہا کہ جسٹس راجیندر سچر کمیٹی اور سال 2008 کی جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کی رپورٹوں کے مطابق کرناٹک میں تقریبا 19000 ایکڑ وقف اراضی پر غیر قانونی قبضے ہوئے ہیں۔ ان میں کئی سو ایکڑ اراضی پر حکومت بھی قابض ہے۔

محمد عارف جمیل نے کہا کہ سال 2012 میں حکومت کو پیش کی گئی کرناٹک اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین انور مانپاڈی کی رپورٹ کے مطابق ریاست کرناٹک میں وقف کی کل اراضی 54 ہزار ایکڑ ہے ، جس میں 27 ہزار ایکڑ وقف اراضی پر ناجائز قبضے ہوئے ہیں ۔ اس طرح تینوں رپورٹوں میں کرناٹک میں وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضوں کا تذکرہ موجود ہے۔ لیکن اب تک نہ ریاستی حکومت اور نہ ہی وقف بورڈ نے ان رپورٹوں کی بنیاد پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

ایڈوکیٹ رحمت اللہ کوتوال نے کہا کہ وقف زمینوں پر ناجائز قبضے اور بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی پاداش میں موجودہ وقف بورڈ کو سپرسیڈ کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کی عدالت سے درخواست کی گئی ہے۔

عدالت سے کی گئی اہم گزارشات

کرناٹک میں وقف املاک کی مکمل طور پر حفاظت کی جائے ۔ بنگلورو اور کرناٹک میں وقف املاک پر ناجائز قبضوں کی عدالتی جانچ شروع کی جائے ۔ ایک ایسا نظام ترتیب دیا جائے ، جس کے تحت حکومت کے قبضہ میں موجود وقف زمینوں کے عوض متبادل اراضی یا موجودہ مارکیٹ ویلیو کی رقم وقف بورڈ کو دی جائے۔ بنگلورو کے بیل ہلی دیہات میں موجود 602 ایکڑ وقف اراضی اور حضرت حمید شاہ اور حضرت محب شاہ درگاہ کی 358  ایکڑ اراضی واپس لینے کیلئے کارروائی کی جائے۔ مختلف کمیٹیوں کی رپورٹوں پر اب تک کوئی کارروائی نہ کرنے اور بے ضابطگیوں کی بنیاد پر کرناٹک حکومت وقف بورڈ کو تحلیل کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے ۔

نیز کرناٹک ہائی کورٹ کے زیر نگرانی ریاست کے تمام اوقافی جائیدادوں کا رجسٹر آف انوینٹری قائم کیا جائے۔ اس طرح وقف املاک کی حفاظت اور ترقی کیلئے مفاد عامہ کی عرضداشت میں کئی اہم تجاویز عدالت کے سامنے پیش کی گئی ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 24, 2021 11:21 AM IST