உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملک میں گھٹ گئی ایندھن کی مانگ، پٹرول میں10فیصد تو ڈیزل کی مانگ میں15فیصد کی گراوٹ، قیمتوں میں تیزی کا اثر

    پٹرول ڈیزل کی مانگ میں آئی گراوٹ۔

    پٹرول ڈیزل کی مانگ میں آئی گراوٹ۔

    22 مارچ سے شروع ہونے والی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ روز کا معمول بن گیا ہے۔ ان کی قیمتیں 17 دنوں میں 14 بار تبدیل کی گئیں۔ 22 مارچ سے 6 اپریل تک دونوں کی قیمتوں میں 10 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھلے ہی پچھلے دس دنوں سے مستحکم ہوں لیکن اس سے پہلے ان کی قیمتوں میں لگاتار 14 مرتبہ اضافہ کیا گیا تھا۔ 22 مارچ کو شروع ہونے والی تیزی کے درمیان قیمت میں 10 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوا۔ ہفتہ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں صرف 15 دنوں کے اندر ملک میں پیٹرول کی طلب میں گزشتہ ماہ کی اسی مدت کے مقابلے میں 10 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      PNG price Hike: رسوئی تک پہنچی مہنگائی کی 'آگ'، دہلی سمیت ان شہروں میں بڑھے ایندھن کے دام

      ڈیزل کی فروخت میں بھی آئی گراوٹ
      اپریل کے 15 دنوں کے اعداد و شمار کے مطابق یکم سے 15 اپریل تک جہاں ایک طرف پیٹرول کی مانگ میں دس فیصد کمی ہوئی ہے وہیں ڈیزل بھی خراب حالت میں ہے۔ اس مدت کے دوران ڈیزل کی مانگ میں پچھلے مہینے کے اسی مدت میں 15.6 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اگر کھانا پکانے والی گیس یعنی ایل پی جی کی بات کریں تو قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اس کی مانگ میں بھی کمی آئی ہے۔ اس مدت کے دوران ماہ بہ ماہ کی بنیاد پر ایل پی جی کی طلب میں 1.7 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Elon Musk: ایلون مسک کا ٹویٹر کی پیشکش پر سعودی شہزادہ سے جھگڑا؟ کہی یہ بڑی بات!

      10 روپے ہوا قیمتوں میں اضافہ
      22 مارچ سے شروع ہونے والی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ روز کا معمول بن گیا ہے۔ ان کی قیمتیں 17 دنوں میں 14 بار تبدیل کی گئیں۔ 22 مارچ سے 6 اپریل تک دونوں کی قیمتوں میں 10 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوا، حالانکہ 6 اپریل کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک بار پھر مستحکم رہی ہیں۔ اس درمیان، بتادیں کہ 22 مارچ کو ہی گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 50 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد دہلی میں 14.2 کلو گرام کے سیلنڈر کی قیمت 949.50 روپے تک پہنچ گئی تھی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: