உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شادی کے بعد دوسرے کے ساتھ رہنے لگی بیوی تو شوہر نے 16 خواتین کے ساتھ کرڈالا ایسا خوفناک کام ، جان کر اڑجائیں گے ہوش

    شادی کے بعد دوسرے کے ساتھ رہنے لگی بیوی تو شوہر نے 16 خواتین کے ساتھ کرڈالا ایسا خوفناک کام ، جان کر اڑجائیں گے ہوش

    شادی کے بعد دوسرے کے ساتھ رہنے لگی بیوی تو شوہر نے 16 خواتین کے ساتھ کرڈالا ایسا خوفناک کام ، جان کر اڑجائیں گے ہوش

    تلنگانہ (Telangana) کی راچاکونڈا پولیس کو بڑی کامیابی ہاتھ لگی ہے ۔ پولیس نے اس علاقہ کے موسٹ وانٹیڈ سیریل کلر مونا رامولو کو گرفتار کرلیا ۔

    • Share this:
      تلنگانہ کی راچاکونڈا پولیس کو گزشتہ منگل کو بڑی کامیابی ہاتھ لگی ۔ پولیس نے اس علاقہ کے موسٹ وانٹیڈ سیریل کلر مونا رامولو کو گرفتار کرلیا ۔ پولیس مولوگو اور گھاٹ کیسر پولیس اسٹیشن میں درج دو الگ الگ معاملات کی چھان بین کررہی تھی ۔ رامولو کو پہلے ہی 21 معاملات میں گرفتار کیا جاچکا ہے ، جس میں 16 قتل کے معاملات تھے ۔ چار چوری کے تو ایک پولیس حراست سے بھاگنے کا معاملہ تھا۔ اس کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی ، لیکن تلنگانہ ہائی کورٹ میں اپیل کے بعد اس کو رہا کردیا گیا تھا ۔

      حیدرآباد شہر کے پولیس کمشنر نے کہا کہ یکم جنوری 2021 کو کاولا اناتھیا جبلی ہلس پولس کے پاس آئے اور انہوں نے 30 دسمبر سے غائب اپنی 50 سالہ بیوی کاولا وینکٹما کے بارے میں شکایت درج کرائی ۔ اس کے بعد ٹاسک فورس ، نارتھ زون ٹیم ، حیدرآباد سٹی پولیس نے لاپتہ خاتون کا پتہ لگانے کیلئے کام کرنا شروع کردیا ۔ بعد میں چار جنوری 2021 کو وینکٹما کی لاش گھاٹ کیسر پولیس اسٹیشن کی سرحد میں انکش پور گاوں کے ریلوے ٹریک کے پاس ملی ۔

      پولیس کمشنر نے بتایا کہ ملزم رامولو کی پیدائش تلنگانہ کے سانڈی ریڈی ضلع کے کنڈی مندر میں ہوئی تھی ۔ جب وہ 21 سال کا تھا تو اس کے والدین نے اس کی شادی کرادی ، لیکن کچھ ہی وقت میں اس کی بیوی کسی اور کے ساتھ رہنے لگی ۔ اس کے بعد رامولو خواتین پر بھڑاس نکالنے کیلئے سیریل کلنگس کو انجام دینے لگا ۔ سال 2003 سے اب تک اس نے 16 قتل کئے ہیں ۔ ملزم املاک کی چوری کے معاملات میں بھی ملوث رہا ہے ۔

      سال 2011 میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رنگا ریڈی نے ملزم رامولو کو عمر قید کی سزا سنائی اور 21 فروری 2011 کو 500 روپے کا جرمانہ لگایا ۔ پولیس کمشنر کے مطابق سینٹرل جیل چیرلاپلی میں عمرقید کی سزا کاٹنے کے دوران رامولو کو یکم دسمبر 2011 کو پرراگڈا میں واقع مینٹل اسپتال میں علاج کیلئے داخل کرایا گیا تھا ۔ بعد میں وہ پانچ دیگر قیدوں کے ساتھ مینٹل اسپتال سے فرار ہوگیا ۔ اس سلسلہ میں فرار قیدیوں کے خلاف ایک معاملہ درج کیا گیا ۔ فرار ہونے کے بعد ملزم رامولو نے پانچ اور قتل کئے ، جس میں بووین پلی پولیس اسٹیشن ( دو معاملات) چندا نگر پولیس اسٹیشن ( دو معاملات) ڈونڈیگل پولیس اسٹیشن ( ایک معاملہ ) شامل ہے ۔ اس کو بووین پلی پولیس نے پانچ معاملات میں 13 مئی 2013 کو گرفتار کیا تھا ۔ اس کی گرفتاری کے بعد رامولو نے تلنگانہ ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی اور اکتوبر 2018 میں اس کو جیل سے رہا کردیا گیا تھا ۔

      انہوں نے بتایا کہ اس نے پھر بھی اپنے رویہ کو نہیں تبدیل کیا اور پھر سے اس نے دو قتل کئے ۔ اس کو پھر سے گرفتار کرلیا گیا اور عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ۔ بعد میں اس کو سینٹرل جیل چیرلا پلی سے رہا کردیا گیا تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: