ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک میں بیف پر سیاست، قریش برادری فکرمند، کہا۔ بی جے پی حکومت کا مقصد عوام کو پریشان کرنا ہے

ایک اندازے کے مطابق ریاست میں بیف کے تاجروں کی تعداد ڈھائی سے تین لاکھ ہے۔ بیف کا کاروبار کئی لاکھ لاکھ لوگوں کیلئے روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔

  • Share this:
کرناٹک میں بیف پر سیاست، قریش برادری فکرمند، کہا۔ بی جے پی حکومت کا مقصد عوام کو پریشان کرنا ہے
کرناٹک میں بیف پر سیاست، قریش برادری فکر مند

بنگلورو۔ کرناٹک میں ایک بار پھر بیف پر سیاست دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ریاست کی بی جے پی حکومت نہ صرف گئو کشی بلکہ تمام بڑے جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی عائد کرنے کیلئے قدم اٹھا چکی ہے۔ اس سلسلے میں حال ہی میں ریاست کی قانون ساز اسمبلی میں بل منظور ہوا ہے۔ اس متنازعہ بل کو قانون ساز کونسل کی منظوری ملنا باقی ہے۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی حکومت آرڈیننس کے ذریعہ سے بھی اس بل کو نافذ کرنے کی تیاری کررہی ہے۔


حکومت کے اس اقدام کے بعد ریاست کی قریش برادری فکر مند نظر آرہی ہے۔ کسں طرح حالات کا سامنا کیا جائے، حکومت کی پہل کو کیسے ناکام بنایا جائے؟ اس مشکل گھڑی میں روزی روٹی کا اگر مسئلہ پیدا ہو تو کیا متبادل ذرائع ہوسکتے ہیں؟۔ اس طرح کے کئی سوالات جمیت القریش کے سامنے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ریاست میں بیف کے تاجروں کی تعداد ڈھائی سے تین لاکھ ہے۔ بیف کا کاروبار کئی لاکھ لاکھ لوگوں کیلئے روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔


بنگلورو میں جمعیت القریش بیف مرچنٹس ایسوسی ایشن نے کہا کہ حکومت صرف قریش برادری کو نہیں کسانوں، دلتوں، اقلیتوں کو اس نئے قانون کے ذریعہ پریشان کرنا چاہتی ہے۔ایسوسی ایشن کے صدر قاسم اعجاز احمد قریشی نے کہا کہ ریاست میں گئو کشی پر پابندی کا 1964 کا قانون پہلے ہی سے موجود ہے۔ اس قانون پر باقاعدہ عمل درآمد ہورہا ہے۔ اس قانون کے مطابق گائے کو چھوڑ کر بیل، بھینس اور دیگر جانوروں کو ذبح کرنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں منظور کئے گئے بل میں مکمل بیف پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سال 2020 کے میں Cattle کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، تمام بڑے جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی عائد کرنے کی تجویز ہے۔ صرف 13 سال سے زیادہ عمر والی بھینس کو ذبح کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اعجاز احمد قریشی نے کہا کہ کرناٹک میں بھینس کی پیداوار کافی کم ہے۔ اگر نیا قانون نافذ ہوتا ہے تو ریاست میں بیف پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔  انہوں نے کہا کہ بیف نہ صرف مسلمان بلکہ دلت، عیسائی اور چند دیگر پسماندہ طبقات کی غذا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت دستور میں موجود اپنی اپنی پسند کی غذا کھانے کے عوام کے حق کو چھیننا چاہتی ہے۔


بیف مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سکریٹری آر شفیع اللہ نے کہا کہ نئے قانون سے پوری قریش برادری کیلئے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا ہوگا۔ قریش برادری سے زیادہ نقصان کسانوں کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی  حکومت  اپنے سیاسی فائدہ کیلئے ایک طبقہ کو نشانہ بنا رہی لیکن کسانوں اور بیف کھانے والے عوام پر اسطرح کے بل کا کیا اثر ہوگا حکومت نے شاید اس کا جائزہ  نہیں لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قریش برادری کسان اور بیف کھانے والے عوام کے درمیان کی ایک کڑی ہیں۔ حکومت کے اس قدم سے سب سے زیادہ نقصان کسانوں کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر کسان تنظیموں سے بات چیت ہورہی ہے،  اس خطرناک بل کے اثرات کے متعلق کسانوں کو بیدار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ شفیع اللہ نے کہا کئی دلت تنظیموں، ترقی پسند تنظیموں اور عیسائی تنظیموں نے اس بل کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ لیا ہے۔ جلد ہی جمعیت القریش کسان، دلت اور ترقی پسند تنظیموں کے ساتھ ملکر احتجاج کا منصوبہ بنائے گی۔

ایسوسی ایشن کے رکن  کے جے منصور عرف دادو نے کہا کہ حکومت کی نیت صاف نہیں ہے۔   پڑوسی ریاست گووا میں بی جے پی حکومت ہے۔ چند شمال مشرقی ریاستوں میں بھی بی جے پی کی حکومت ہے لیکن وہاں کیوں بیف کو بند نہیں کیا گیا ہے؟ انہوں  نے کہا کہ ملک کی کئی ریاستوں سے بیرونی ممالک کیلئے بیف ایکسپورٹ ہورہا ہے۔ بیف ایکسپورٹ کرنے والی زیادہ تر کمپنیاں برادران وطن کی ہیں۔ مرکز میں بی جے پی اقتدار میں ہے، بی جے پی کو واقعی گائے سے محبت ہے تو کیوں بیف کے ایکسپورٹ پر پابندی عائد نہیں کی جاتی۔ کیوں گووا اور چند دیگر ریاستوں میں بی جے پی حکومت رہنے کے باوجود بیف پر پابندی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اپنے سیاسی فائدہ کیلئے عوام کو گمراہ کررہی ہے۔ایسوسی ایشن کے صدر اعجاز احمد قریشی  نے کہا کہ بیف پر پابندی کی کوشش، حال ہی میں منظور کئے گئے کسان مخالف بل،   جن  کے خلاف ان دنوں بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہے، ان تمام پہلوؤں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ بی جے پی حکومت کارپوریٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے۔ ملک کی 85 فیصد عوام غریب بن کررہیں اور صرف 15 فیصد عوام کے ہاتھوں میں دولت اور اقتدار رہے، کیا اسطرح کے حالات ملک میں پیدا کئے جارہے ہیں؟

جمعیت القریش بیف مرچنٹس ایسوسی نے کہا کہ وہ بیف پر پابندی کی حکومت کی کوششوں کے خلاف ریاست گیر مہم  چلائے گی۔ ماضی میں بی جے پی حکومت نے اس طرح کی کوششیں کی تھیں، جسے سب تنظیموں نے ملکر ناکام بنایا تھا۔ ایک بار پھر بی جے پی گئو کشی پر پابندی کی آڑ میں  ریاست میں بیف پر مکمل پابندی کی باتیں کررہی ہے۔ اعجاز احمد قریشی نے کہا کہ  قریش برادری کسانوں، دلتوں اور ترقی پسند تنظیموں کے ساتھ ملکر حکومت کی کوشش کو ناکام بنانے کیلئے اقدامات کریگی۔ ضرورت پڑھنے پر عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹا ئے گی۔ حال ہی میں جمعیت القریش کے ایک وفد نے سابق وزیر اعظم اور جے ڈی ایس کے سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڑا سے ملاقات کی ہے۔ جے ڈی ایس نے اس بل کی مخالفت کرنے کا بھروسہ دیا ہے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس نے اسمبلی اور کونسل میں انسداد گئو کشی بل کے خلاف پرزور احتجاج کیا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 22, 2020 08:31 AM IST