உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مولانا کو تقسیم ہند پر دونوں ملکوں کی اقلیتوں کو درپیش مسائل کا ادراک تھا

    مولانا کو تقسیم ہند پر دونوں ملکوں کی اقلیتوں کو درپیش مسائل کا ادراک تھا

    مولانا کو تقسیم ہند پر دونوں ملکوں کی اقلیتوں کو درپیش مسائل کا ادراک تھا

    پروفیسر فیضان مصطفی نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے آزاد ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے کے لیے مولانا آزاد کے خیالات سے استفادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دستور میں شامل شق 30 کے تحت اقلیتیں اپنے تعلیمی ادارے قائم کرسکتی ہیں ۔

    • Share this:
      حیدرآباد : مولانا آزاد اتحاد کے لیے مسلسل کوشاں رہے۔ وہ ایک دور اندیش مفکر تھے۔ انہیں ہندوستان کے بٹوارے کے بعد دونوں ملکوں میں موجود اقلیتوں ہندوستان میں مسلمان اور پاکستان میں ہندوﺅں کے مسائل کا ادراک تھا۔ اسی لیے انہوں نے پاکستان بننے تک بھی تقسیم کی مخالفت کی ۔ یہاں تک کہ انہوں نے کانگریس ورکنگ کمیٹی میں تقسیم کے خلاف اپنا ووٹ دیا۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز ماہر قانون پروفیسر فیضان مصطفی، وائس چانسلر نلسار یونیورسٹی آف لا نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں یومِ آزاد یادگاری خطبہ دیتے ہوئے کیا ۔ خطبہ کا عنوان مولانا ابوالکلام آزاد اور مذہبی و ثقافتی تنوع کا آئینی نظم تھا۔ پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر نے صدارت کی۔ یومِ آزاد تقاریب کا آغاز مانو ماڈل اسکول ، فلک نما، حیدرآباد میں 3 نومبر کو ایک رنگا رنگ پروگرام کے ساتھ ہوا تھا۔

      پروفیسر فیضان مصطفی نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے آزاد ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے کے لیے مولانا آزاد کے خیالات سے استفادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دستور میں شامل شق 30 کے تحت اقلیتیں اپنے تعلیمی ادارے قائم کرسکتی ہیں ۔ مولانا آزاد نے قرآن مجید کے پیغام کو اپناکر اپنے خیالات کو ترتیب دیا تھا اس سلسلے میں مذہبی نقطہ نظر سے بھی ان پر تحقیق ہونی چاہئے۔

      پروفیسر سید عین الحسن نے کہا کہ وزیر اعظم نے آج ٹویٹ کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام کو یاد کیا۔ مولانا ایک عظیم شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی آواز لوگوں کو الہلال کے ذریعہ پھر البلاغ کے ذریعہ پہنچائی۔ ان کا یہ درد تھا جو انہوں نے ان اخبارات کے ذریعہ پیش کیا اور وہ درد بڑھتا ہی رہا۔ مولانا کی اہلیہ بیمار ہوگئیں تو انہیں جیل سے گھر جانے کا موقع مل سکتا تھا لیکن انہوں نے جنگ آزادی کے پیش نظر انگریز افسران سے درخواست کرنا گوارہ نہ کیا۔ مولانا آزاد تنوع کے حامی تھے۔

      ڈاکٹر اے ناگیندر ریڈی، ڈائرکٹر سالار جنگ میوزیم نے کہا کہ وہ اردو یونیورسٹی سے یادداشتِ مفاہمت کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے مانو کے طلبہ کو میوزیم میں ایک ماہ تک مفت داخلہ دینے کا اعلان کیا۔ اس سے استفادہ کرتے ہوئے یہاں کے طلبہ بطور خاص سالار جنگ لائبریری میں موجود نادر و نایاب مخطوطات پر تحقیق کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میوزیم میں جلد ہی ایک اسلامی گیلری قائم کی جائے گی۔ اس سلسلے میں انہوں نے مانو سے تعاون طلب کیا۔

      ڈاکٹر ایس چنم ریڈی، ڈائرکٹر، این آئی ٹی ایچ ایم، حیدرآباد نے کہا کہ پرانے کے دور کے طلبہ میں اور آج کے طلبہ میں بڑا فرق ہے۔ آج کے طلبہ کو تقریباً معلومات ان کے موبائل پر دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی ذرائع کا تحفظ اور کفایت کے ساتھ استعمال کرنے سے فنڈس کی بچت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ میں بارش کے پانی کے تحفظ اور الکٹریسٹی کی بچت کے ذریعہ کافی فنڈ بچانے میں کامیاب ہیں۔

      پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، پرو وائس چانسلر نے کہا کہ مولانا آزاد مفکرِ تعلیم تھے۔ مفکر تعلیم کا مرتبہ ماہر تعلیم سے بھی اعلیٰ ہے۔ ماہر تعلیم، تعلیمی نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے تعلیم کی ترقی کے لیے کوشش کرتا ہے جبکہ مفکر تعلیم، تعلیم کے نظام کو ہی متعین کرتا ہے۔ اس طرح ہندوستان میں تعلیم کا موجودہ نظام دراصل مولانا آزاد کی ہی دین ہے۔ مزید یہ کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020کے مختلف پہلو مولانا آزاد کے تعلیم سے متعلق خیالات کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے اس موقع پر مولانا کو خراج پیش کرتے ہوئے چند اشعار سنائے۔

      پروفیسر صدیقی محمد محمود، رجسٹرار انچارج و صدر نشین یومِ آزاد تقاریب کمیٹی نے خیر مقدم کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر احمد خان، کنوینر یومِ آزاد تقاریب نے کاروائی چلائی اور پروفیسر فیضان مصطفی کا تعارف پیش کیا۔ معراج احمد، رکن کور کمیٹی نے مختلف مقابلوں میں انعامات حاصل کرنے والے طلبہ کے نام پیش کیے۔ ڈاکٹر عاطف عمران کی قرا ت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: