உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Prophet Muhammad Remarks Row: حیدرآباد میں تمام 127 گرفتارنوجوان رہا، امن کی برقراری کی اپیل

    امن کی برقراری کی اپیل

    امن کی برقراری کی اپیل

    پولیس نے صرف سی آر پی سی سیکشن 151 (قابل سزا جرم کو روکنے کے لیے گرفتاری) کے تحت مقدمات درج کیے اور بعد میں تمام حراست میں لیے گئے افراد کو ذاتی مچلکوں پر چھوڑ دیا گیا۔ جنوبی زون کے ایک پولیس اہلکار نے کہا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے پولیس نے رات میں کئی نوجوانوں کو گرفتار کیا۔ Prophet Muhammad Remarks Row

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Hyderabad | Karnataka | Maharashtra | Lucknow | Bihar
    • Share this:
      Prophet Muhammad Remarks Row: حیدرآباد میں پرانے شہر کے کئی علاقوں میں مظاہرین کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا، کئی لوگوں کو بدھ کی رات گھروں میں گھس کر گرفتار کیا گیا لیکن آج یعنی 25 اگست 2022 کو پولیس نے تمام 127 نوجوانوں کو رہا کر دیا جنہیں بدھ کی رات دیر گئے ان کے گھروں سے گرفتار گیا تھا۔ جو کہ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔

      پرانے شہر کے شاہ علی بنڈہ (Shahalibanda) علاقہ میں پتھراؤ کے واقعات کی اطلاع کے بعد کل رات کمشنر کی ٹاسک فورس کے اہلکاروں نے شاہ علی بنڈہ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں کئی نوجوانوں کے گھروں میں گھس گئے۔ پولیس نے ان مظاہرین کے دروازے توڑ دیے جو پر مظاہرے کر رہے تھے اور راجہ سنگھ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ پولیس کی اچانک کارروائی سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کہرام مچ گیا۔ کمسن بچوں سمیت گرفترا کیے گئے نوجوانوں کو مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا گیا تھا، جنھیں اب رہا کیا گیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Hyderabad : ٹی راجا سنگھ کے خلاف احتجاج جاری ، درجنوں مظاہرین کو کیا گیا گرفتار

      راجہ سنگھ کی جانب سے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے خلاف توہین آمیز ریمارکس 22 اگست کی رات کو ایک یوٹیوب ویڈیو میں پوسٹ کیے گئے تھے۔ اسے تب ہی ہٹا دیا گیا ہے۔ راجہ سنگھ نے اسے تلنگانہ حکومت کے جوابی طور پر پوسٹ کیا جس نے مزاحیہ اداکار منور فاروقی کو 20 اگست کو حیدرآباد میں پرفارم کرنے کی اجازت دی۔ اس نے شو میں خلل ڈالنے کی دھمکی دی تھی، لیکن پولیس نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔



      یہ بھی پڑھیں:

      Prophet Muhammad: راجہ سنگھ کے خلاف مزید 2 مقدمات درج، دوبارہ گرفتاری کا امکان





      پولیس نے صرف سی آر پی سی سیکشن 151 (قابل سزا جرم کو روکنے کے لیے گرفتاری) کے تحت مقدمات درج کیے اور بعد میں تمام حراست میں لیے گئے افراد کو ذاتی مچلکوں پر چھوڑ دیا گیا۔ جنوبی زون کے ایک پولیس اہلکار نے کہا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے پولیس نے رات میں کئی نوجوانوں کو گرفتار کیا اور انہیں ذاتی مچلکوں پر چھوڑ دیا گیا ہے، ان پر آئی پی سی کی دفعات کے تحت کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: