உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بی جے پی سے معطل MLA ٹی راجا کو ملی ضمانت، پیغمبر اسلام کے خلاف کیا تھا تبصرہ

    بی جے پی سے معطل MLA ٹی راجا کو ملی ضمانت، پیغمبر اسلام کے خلاف کیا تھا تبصرہ

    بی جے پی سے معطل MLA ٹی راجا کو ملی ضمانت، پیغمبر اسلام کے خلاف کیا تھا تبصرہ

    موصولہ جانکاری کے مطابق عدالت نے پہلے ممبر اسمبلی ٹی راجا کو 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا تھا، لیکن بعد میں عدالت نے ریمانڈ آرڈر واپس لیتے ہوئے انہیں ضمانت دیدی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Telangana | Hyderabad
    • Share this:
      حیدرآباد : پیغمر اسلام پر متنازع تبصرہ کرنے کے معاملہ میں عدالت نے وارننگ دیتے ہوئے ممبر اسمبلی ٹی راجا کو ضمانت دیدی ۔ موصولہ جانکاری کے مطابق عدالت نے پہلے ممبر اسمبلی ٹی راجا کو 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا تھا، لیکن بعد میں عدالت نے ریمانڈ آرڈر واپس لیتے ہوئے انہیں ضمانت دیدی۔ بتادیں کہ پولیس نے ٹی راجا سنگھ کو نامپلی کورٹ میں پیش کیا تھا۔ پولیس کے ذریعہ گرفتار کرنے کے بعد بی جے پی نے انہیں معطل کردیا ہے ۔ ساتھ ہی پارٹی نے ٹی راجا سنگھ کو وجہ بتاو نوٹس جاری کرتے ہوئے دس دن میں جواب دینے کیلئے بھی کہا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: براہموس مس فائر معاملہ میں بڑی کارروائی، IAF کے 3 افسر برخاست،پاکستان میں جاگری تھی میزائل


      ایک خاص مذہب کے خلاف سنگھ کے متنازع تبصرہ نے اس وقت طول پکڑ لیا جب ممبر اسمبلی ٹی راجا سنگھ کی گرفتاری کے مطالبہ کو لے کر کمیونٹی کے لوگوں نے حیدرآباد میں احتجاج کیا ۔ اس معاملہ میں کیس درج ہونے کے بعد سنگھ کو پہلے حراست میں لیا گیا اور پھر انہیں آج گرفتار کرلیا گیا ۔ بی جے پی کی مرکزی تادیبی کمیٹی کے سکریٹری اوم پاٹھک کی جانب سے جاری ایک بیان میں سنگھ کو پارٹی سے معطل کئے جانے کی جانکاری دی گئی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: بی جے پی MLA ٹی راجہ کے پیغمبر محمدﷺ کے خلاف توہین آمیز تبصرہ سے اسدالدین اویسی سخت برہم


      اس سلسلہ میں پاٹھک کی جانب سے سنگھ کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ نے مختلف معاملات پر پارٹی کی رائے سے الگ خیالات ظاہر کئے ہیں، جو کہ بی جے پی کے آئین کی شق ۔۔۔۔ ( اے) کی خلاف ورزی ہے ۔ مجھے آپ کو بتانے کی ہدایت دی گئی ہے کہ آگے کی جانچ تک آپ کو پارٹی سے فوری اثر سے معطل کیا جاتا ہے اور سبھی فرائض سے آزاد کیا جاتا ہے ۔

      پاٹھک نے سنگھ سے دس دنوں کے اندر یہ جواب دینے کیلئے بھی کہا ہے کہ کیوں نہ انہیں پارٹی سے باہر کردیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا دستخط شدہ تفصیلی جواب دو ستمبر 2020 تک مل جانا چاہئے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: